Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 40

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہٗ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ سُبْحَانَ اللّٰہ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہ الْعَظِیْمِ (صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب قول اللّٰہ عالٰی:ونضع الموازین القسط۔۔۔الخ، الحدیث:۷۵۶۳،ج۴،ص۶۰۰)

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: کلمتان حبیبتان الی الرحمن خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم (صحیح البخاری،کتاب التوحید،باب قول اللہ عالی:ونضع الموازین القسط۔۔۔الخ، الحدیث:۷۵۶۳،ج۴،ص۶۰۰)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ہریر ہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں انہوں نے کہا کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ دو کلمے رحمن کو بہت زیادہ محبوب ہیں یہ زبان پر بہت ہی ہلکے اور میزانِ عمل میں بہت ہی بھاری ہیں (وہ دو کلمے یہ ہیں )’’سُبْحَانَ اللّٰہ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہ الْعَظِیْمِ‘‘

شرح حدیث

فوائد ومسائل:یہ صحیح بخاری شریف کی سب سے آخری حدیث ہے ۔امام بخاریعلیہ الرحمۃنے اپنی کتاب کو ’’اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیـَّاتِ‘‘ کی حدیث سے شروع فرمایا اور اس حدیث پر اپنی کتاب کو ختم فرمایا اس لیے کہ حدیثِ نیت کا تعلق دنیا سے ہے کیونکہ دنیا اعمال کا گھرہے اور اعمال کا ثواب نیت پر موقوف ہے اور اس حدیث کا تعلق آخرت سے ہے کیونکہ میزان عمل کی تول آخرت میں ہوگی۔اس میں ایک لطیف اشارہ ہوگیا کہ میزان عمل میں اسی کے اعمال کا وزن بھاری ہوگا جس کی نیت اچھی ہوگی۔{۲}ان دونوں جملوں میں خدا کی تسبیح اور حمد کا ذکر ہے ۔علامہ کرمانی نے بیان فرمایا ہے کہاللّٰہ تعالیٰکی صفات دو قسم کی ہیں ۔ایک ’’صِفات ِ وُجودِیَّہ‘‘ جیسے حیات، علم، قدرت، کلام ،سمع،بصروغیرہ اِن کو ’’صِفاتُ ا لْاِکرام‘‘ کہتے ہیں ۔دوسری ’’صِفات ِ عَدَمِیَّہ‘‘ جیسےلَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَامِثْلَ لَہٗ، لَافَنَا لَہٗوغیرہ اِن کو ’’صِفاتُ الْجَلال‘‘ کہتے ہیں ، اسی لیےاللّٰہ تعالیٰنے قرآن مجید میں اپنی ذاتِ اقدس کو ’’ذوالْجَلالِ وَالْاِکْرام‘‘ فرمایا ہے۔
تو ان کلمات میں ’’تسبیح‘‘سے خدا کی صِفاتُ الْجَلال کی طرف اشارہ ہے اور ’’حمد ‘‘سے صِفاتُ ا لْاِکرام کی طرف اشارہ ہے اور اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ میں
اللّٰہ تعالیٰکو تمام عیوب و نقائص سے پاک جانتا اور مانتا ہوں اوراس کی تمام صفات کمالیہ کے ساتھ اس کی حمد و ثناء کرتا ہوں ۔(1) (حواشی بخاری،ص۱۱۲۹){۳}اس حدیث میں ’’کَلِمَتَانِ‘‘ سے مُراد’’کَلَامَانِ‘‘ہے کیونکہ لغت میں کلام کو بھی کلمہ کہتے ہیں لہٰذا اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ یہ دو کلام یعنی دو جملے ایسے ہیں جواللّٰہ تعالیٰکو بہت زیادہ محبوب اور پسند ہیں ، زبان پر بہت ہلکے پھلکے ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے جملے ہیں مگر قیامت کے دن میزانِ عمل میں جب اعمال تو لے جائیں گے تو ان جملوں کے اجر و ثواب کا وزن بہت بھاری ہوگایعنی عمل بہت تھوڑا سا ہے مگر اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔{۴}بخاری شریف کی’’کتاب الدعوات‘‘میں ہے کہ ان دونوں جملوں میں سے ایک جملہ کے ثواب کا ذکر فرماتے ہوئے حضوراکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہمَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہ وَبِحَمْدِہٖٖ فِیْ یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ حُطَّتْ خَطَایَاہُ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ(2) یعنی جو شخص دن بھر میں ایک سو مرتبہ’’سُبْحَانَ اللّٰہ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھ لے تو اس کے تمام گناہ (صغیرہ ) معاف کردئیے جائیں گے اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔{۵}کسی عمل پر اجر و ثواب عطا فرمانا یہ خداوند کریم کے فضل و کرم پر موقوف ہے وہ مالک بے نیاز چاہتا ہے تو تھوڑے سے عمل پر اجر ِعظیم عطا فرمادیتا ہے اوراس کے فضل و کرم کی کوئی حد نہیں ہے۔قرآن مجید میں اس کا ارشاد ہے :ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُط وَاللّٰہ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(3)oیعنیاللّٰہ تعالیٰاپنا فضل جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اوراللّٰہ تعالیٰبہت بڑے فضل والا ہے۔لہٰذا اگر کسی چھوٹے عمل پر اپنے فضل ِعظیم سے وہ ثوابِ عظیم عطا فرمائے تو یہ اس کے فضل و کرم کا جلوہ ہے۔وَاللّٰہ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِوَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔∞ [1] حاشیۃ صحیح البخاری،ج۲،ص۱۱۲۹[2] صحیح البخاری،کتاب الدعوات،باب فضل التسبیح، الحدیث: ۶۴۰۵، ج۴، ص۲۱۹[3] ترجمہء کنز الایمان:یہاللّہکا فضل ہے جسے چاہے دے اوراللّہبڑا فضل والا ہے۔ ( پ۲۷،ا لحدید:۲۱)

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 40