- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 23
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِی الْمَسْجِدِ یَقُوْمُ عَلَیْہَا قَائِمًا یُّفَاخِرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْ یُنَافِحُ وَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللّٰہ یُؤَیِّدُ حَسَّانَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ مَا نَافَحَ اَوْ فَاخَرَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِی ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب البیان والشعر، الحدیث: ۴۸۰۵،ج۲، ص۱۸۸)
عن عائشۃ قالت: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یضع لحسان منبرا فی المسجد یقوم علیہا قائما یفاخر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او ینافح ویقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ یوید حسان بروح القدس ما نافح او فاخر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ رواہ البخاری ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب البیان والشعر، الحدیث: ۴۸۰۵،ج۲، ص۱۸۸)
حدیث ترجمہ
حضرت بی بی عائشہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت حسَّان کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھتے تھے اور حضرت حسَّان اس پر چڑھ کر کھڑے کھڑے رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شان کے بارے میں فخریہ اَشعار پڑھتے یا حضور کی طرف سے مشرکین کی ہجو کا جواب دیتے تھے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے تھے کہ جب تک حسان میری طرف سے مدافعانہ جواب دیتے یامیرے بارے میں فخریہ اَشعار پڑھتے رہتے ہیں حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامان کی مدد فرماتے رہتے ہیں ۔
شرح حدیث
حضرت عائشہ: اس حدیث کوروایت کرنے والی اُم المؤمنین حضرت بی بی عائشہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاامیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیقرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی نورِ نظر اور دُختر ِ نیک اختر ہیں ۔ان کی والدہ کا نام ’’اُمّ رومان‘‘ ہے۔حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نبوت کے دسویں سال شوال کے مہینے میں ہجرت سے تین سال قبل بی بی عائشہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاسے مکہ میں نکاح فرمایا اورآپرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاشوال ۲ ھ میں مدینہ منورہ کے اندر کاشانہ نبوت میں داخل ہوگئیں اور نو برس حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت سے مشرف رہیں ، امہات المؤمنین میں سب سے زیادہ بارگاہِ رسالت میں محبوب ترین تھیں ۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اُوپر وحی نہیں اُتری مگر حضرت بی بی عائشہ جب میرے ساتھ بستر نبوت پر سوتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔فقہ و حدیث کے علم میں ان کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔دو ہزار دو سو دس حدیثیں انہوں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کی ہیں ان کی روایت کی ہوئی حدیثوں میں سے ایک سو چوہتر حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور چون حدیثیں ایسی ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اڑسٹھ حدیثیں وہ ہیں جن کو صرف مسلم نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکرصدیق کا بیان ہے کہ حضرت بی بی عائشہ ہمیشہ روزانہ تہجد پڑھنے کی پابند تھیں اور حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فقہ و حدیث کے علوم کے علاوہ میں نے حضرت بی بی عائشہ سے بڑھ کر کسی کو اشعارِ عرب کا جاننے والا بھی نہیں پایا ۔آپ کے شاگردوں میں صحابہ اور تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے۔۱۷رمضان شب سہ شنبہ ۵۷ھیا ۵۸ھ میں مدینہ منورہ کے اندر وفات پائی ۔حضرت ابوہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق رات میں لوگوں نے آپ کو جنۃ البقیع کے قبرستان میں دوسری امہات المؤمنین کی قبروں کے پہلو میں دفن کیا ۔(1) (اکمال وحاشیہ اکمال وغیرہ)
حضرت حسّان بن ثابت:یہ دربارِ رسالت کے خاص الخاص شاعر اور مداحِ رسول ہیں ۔ ان کی کنیت ابوالولید ہے ان کے والد کا نام ’’ثابت ‘‘اور ان کے دادا کانام ’’منذر ‘‘ اور پر دادا کا نام’’حرام ‘‘ہے۔ اور ان چاروں کے بارے میں ایک تاریخی لطیفہ ہے کہ ان چاروں کی عمریں ایک سو بیس برس کی ہوئیں جو عجائبات عالم میں سے ہے۔(2) (حاشیہ بخاری بحوالہ کرمانی،ج۲،ص۵۹۴)
حضرت حسّان کی ایک سو بیس برس کی عمر میں سے ساٹھ برس جاہلیت میں اور ساٹھ برس اسلام میں گزرے ۔یہ اَنصار کے قبیلہ ’’خزرج‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ شُعراء عرب میں بہت مشہور ہیں بلکہ ’’اَبو عُبَیْدہ‘‘نے یہاں تک فرمایا کہ عرب کے شہری شاعروں میں یہ سب سے اُونچے درجہ کے شاعر ہوئے ہیں ۔امیر المؤمنین حضرت علیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے دور خلافت میں ۴۰ھ سے قبل آپ کی وفات ہوئی۔(3) (اکمال)
فوائد و مسائل:{۱}یہ بخاری شریف کی حدیث ہے ۔یہ حدیث اُن وہابیوں اور دیو بندیوں کے لیے تازیانہ عبرت ہے جو ہم سنیوں کی محفلِ میلاد شریف یا نعت خوانی کی مجالس کا مذاق اڑاتے ہیں اور ہم پر پھبتیاں کَسْتے رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ لوگ جتنی دیر تک میلاد شریف پڑھتے یا نعت خوانی کرتے رہتے ہیں اتنی دیر تک قرآن شریف کی تلاوت کریں ۔ہم کہتے ہیں کہ تلاوتِ قرآن کے اجر و ثواب پر ہمارا ایمان ہے مگر خدا کے لیے علماء دیو بند کا کوئی بڑے سے بڑا ’’محدث‘‘ مجھ کو بتا تو دے کہ کیا تلاوت قرآن کے لیے بھی کبھی حضوراکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ اہتمام فرمایا کہ کسی قاری یا حافظ کے لیے خاص طور پر مسجد نبوی میں منبر بچھایا ہو اور وہ قاری یا حافظ جب قرآن پڑھ رہا ہو تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کو یہ فرما کر داد دی ہو کہ جبریلعَلَیْہِ السَّلَاماس کی مدد کررہے ہیں ۔{۲}مجھے امید ہے کہ اگر یہ لوگ بخاری کی اس حدیث کو دیدۂ عبرت سے دیکھیں گے اور ان میں نورِ سعادت کی ادنیٰ سی کرن بھی ہوگی تو ان شاءاللّٰہ تعالیٰان کے سینوں کے بند دروازے کھل جائیں گے اور وہ میلاد شریف اور نعت خوانی کی اہمیت کا اعتراف کرکے یا تو خود بھی ان محفلوں کو سنت سمجھ کر ان میں شرکت کرنے لگیں گے یا کم از کم ان محفلوں کی بُرائی اور مذاق اڑانا چھوڑ دیں گے اور اگر خدانخواستہ ان کے دلوں پر شقاوت کی مہر ہی لگ چکی ہوگی جب تو یہ حدیث کیا پوری حدیثوں کے دفتر اور پورا قرآن بھی ان کے لیے ذریعہ ہدایت نہیں بن سکتا؎∞
تہی د ستانِ قسمت راچہ سود از رہبر کامل کہ ’’خضر‘‘از حیواں تشنہ می آرد سکندر را
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال مع حاشیۃ،حرف العین،فصل فی الصحابیات، ص۶۱۲[2] عمدۃ القاری،کتاب الصلاۃ،باب الشعر فی المسجد، تحت الحدیث:۴۵۳، ج۳،ص۴۸۷[3] اکمال فی اسماء الرجال، حرف الحائ، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۰
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 23