- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 29
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیَنِیْ عَبْدُ اللّٰہ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ لِیْ: اِنْطَلِقْ اِلَی الْمَنْزِلِ فَاَسْقِیْکَ فِیْ قَدَحٍ شَرِبَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتُصَلِّیْ فِیْ مَسْجِدٍ صَلّٰی فِیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ فَسَقَّانِیْ سَوِیْقًا وَاَطْعَمَنِیْ تَمْرًا وَصَلَّیْتُ فِیْ مَسْجِدِہٖ (صحیح البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما ذکر النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم ∞وحض علی اتفاق۔۔۔الخ، الحدیث:۷۳۴۱،ج۴،ص۵۱۸)
عن ابی بردۃ قال: قدمت المدینۃ فلقینی عبد اللہ بن سلام فقال لی: انطلق الی المنزل فاسقیک فی قدح شرب فیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتصلی فی مسجد صلی فیہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فانطلقت معہ فسقانی سویقا واطعمنی تمرا وصلیت فی مسجدہ (صحیح البخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،باب ما ذکر النبیصلی اللہ علیہ وسلم ∞وحض علی اتفاق۔۔۔الخ، الحدیث:۷۳۴۱،ج۴،ص۵۱۸)
حدیث ترجمہ
ابو بُردہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ میں مدینہ آیا تو مجھ سے حضرت عبداللّٰہبن سلامرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے ملاقات کی پھر فرمایا کہ تم گھرچلو میں تم کو اس پیالے میں کچھ پلاؤں گا جس پیالے میں رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیا تھا اور تم اُس مسجد میں نماز پڑھوگے جس میں نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھی تھی۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا تو انہوں نے مجھ کو (اُس پیالہ میں ) ستوپلایااور کھجورکھلائی اور میں نے ان کی مسجد میں نماز پڑھی۔
شرح حدیث
حضرت ابو بردہ: ان کا نام عامر ہے ۔یہ بہت مشہور تابعی اور ایک مشہور صحابی حضرت ابو موسی اَشْعَریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے فرزند ہیں ۔یہ حدیث میں اپنے والد اور حضرت علیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہوغیرہ دوسرے جلیل القدر صحابہ کے شاگرد ہیں ۔قاضی شُرَیْح کے بعد یہ کوفہ کے قاضی بنادئیے گئے تھے مگر عبدالملک بن مروان کے گورنر حجاج بن یوسف ظالم نے ان کو معزول کردیا۔ (1) (اکمال)
حضرت عبداللّٰہبن سلام: بہت ہی نامور اور مشہور صحابی ہیں ۔ یہ یہودیوں کے سب سے بڑے عالِم اور تورات و انجیل کے بہت ہی ماہر تھے ۔مدینہ ہی کے باشندے تھے، مدینہ ہی میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔یہودی ان کے بڑے دشمن تھے کیونکہ یہ یہودیوں کے اکثر خود ساختہ مسائل کے ڈھول کا پول کھول دیا کرتے تھے۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو جنت کی بشارت دی تھی۔ ۴۳ھ کے سال مدینہ منورہ میں ان کا وصال ہوا۔ (2) (اکمال)
فوائد و مسائل:{۱}محدث عبد الرزاق نے اس حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے کہ حضرت ابو بُردہ کے والد حضرت ابو موسی اَشْعَری نے خاص طور پر ابو بُردہ کو مدینہ منورہ حضرت عبداللّٰہبن سلام کی خدمت میں علم حاصل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔چنانچہ حضرت عبداللّٰہبن سلام سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے مرحبا(خوش آمدید)کہا اور پھر فرمایا کہ تم میرے مکان پر چلو میں تمہاری اس شان کے ساتھ مہمان نوازی کروں گا کہ میں تم کو اُس مقدس پیالے میں کچھ پلاؤں گاجس میں حضور رحمت ِعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانی نوش فرمایا تھااور تم میری مسجد میں نماز پڑھوگے جس میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھی تھی ۔چنانچہ جب ابو بُردہ ان کے مکان پر گئے تو انہوں نے کھجور کھلا کر اسی متبرک پیالے میں ستو گھول کر پلایا۔{۲}تبرکاتِ نبوت کی تعظیم:اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تبرکات کی تعظیم و تکریم اور ان کیساتھ والہانہ محبت صحابہ کرام کا مقدس طریقہ ہے۔چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ حضرات صحابہ کرام ہر اس چیز کی تعظیم و احترام کرتے تھے جس کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کوئی نسبت و تعلق ہو ۔بخاری شریف میں مذکور ہے کہ حضرت محمد بن سِیرین مشہور باکرامت تابعی محدث نے ’’عُبَیْدہ‘‘ محدث سے کہا کہ میرے پاس حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چند موئے مبارک ہیں جو حضرت انس صحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے گھر والوں نے مجھے عطا کئے ہیں ۔ یہ سن کر ’’عُبَیْدہ‘‘ نے کہا کہ اگر میرے پاس ان مقدس بالوں میں سے ایک بال بھی ہوتا تو وہ میرے نزدیک تمام دنیا و مافیہا سے بڑھ کر محبوب ہوتا۔
حضرت انس صحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا بیان ہے کہ جب حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حجۃ ُالوَداع کے موقع پر منٰی میں اپنے سر کے بال اتر وائے توسب سے پہلے حضرت ابو طلحہ نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مقدس بالوں کو بطور تبرک لے لیا۔ (3) (بخاری،باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان،ج۱،ص۲۹)
اسی طرح صحابہ کرام حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کپڑوں کو بھی انتہائی معظم و متبرک سمجھتے تھے۔ حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیق اکبررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی صاحبزادی حضرت اسماء کے پاس حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک ’’ جُبّہ ‘‘تھا۔وہ بیماروں کو اس کا دھوون پلاتی تھیں اور شفاء حاصل ہوتی تھی۔مسلم شریف میں ہے کہ حضرت خالد بن ولیدرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاپنی ٹوپی میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے موئے مبارک کو تبرکا ًرکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہر جنگ میں انہی مقّدس بالوں کی برکت سے مجھے فتح و نصرت حاصل ہوتی ہے۔ بخاری شریف میں متعدد جگہ یہ حدیث ہے کہ صحابۂ کرام حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے غَسالہ وضو کو لوٹ لیتے تھے اور برکت کے لیے اپنے چہروں پر ملتے تھے۔ اسی
طرح حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لعابِ دہن اور کھنکار کو بھی صحابہ زمین پر نہیں گرنے دیتے تھیبلکہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں اور آنکھوں پر مل لیا کرتے تھے۔
حضرت اَنَس صحابی نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میری موت کے بعد میرے بدن اور کفن میں وہی خوشبو لگائی جائے جس میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پسینہ ملا ہوا ہے۔(4) (بخاری،ج۲،باب من زار قوما فقال عندہم،ص۹۲۹)
اس طرح کی بہت سی حدیثوں کو علامہ شوکانی نے ’’نَیْلُ الْاَوْطار‘‘میں ذکر فرما کر یہ تحریر کیا ہے کہقَدِ اسْتَدَلَّ الْجُمْھُوْرُ بِصَبِّہٖ لِوَضُوْئِہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی جَابِرٍ وَ تَقْرِیْرِہٖ للِصَّحَابَۃِ عَلَی التَّبَرُّکِ بِوَضُوْئِہٖ(5) (نیل الاوطار،ج۱،ص۱۹)
حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت جابر پر اپنے وضو کا پانی ڈالا اور صحابہ نے جو حضور کے غَسالۂ وضو کو اپنے جسموں پر ملا اور حضور نے منع نہیں فرمایا تو اس سے جمہور علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ حضور کے وضو کے پانی کو تبرک بنانا چاہئے۔
بہر کیف حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تمام تبرکات کی تعظیم کرنی چاہئے اور ان کو متبرک سمجھ کر ان کا ادب و احترام کرنا چاہئے۔
موئے مبارک کی زیارت: لہٰذا اس زمانے میں بھی جن بالوں اور جبوں کے متعلق مشہور ہے کہ یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا موئے مبارک اور جُبہ شریف ہے ہرگز ہرگز نہ اس کی تکذیب کرنی چاہئے نہ تو ہین و بے ادبی بلکہ انتہائی والہانہ عقیدت کے ساتھ ان کو تبرک سمجھ کر زیارت کرنی چاہئے ۔
کیونکہ دو حال سے خالی نہیں یا تو واقع میں وہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مو ئے مبارک ہوں گے یا نہیں اگر واقع میں جیسا کہ مشہور ہے وہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے مقدس بال ہیں جب تو ظاہر ہے کہ ان کی تَکْذِیب یا توہین و تَنْقِیْص سے آدمی یقیناقہر قہارو غضبِ جَبَّار میں گرفتار ہوجائے گا کہ تو بہ، نعوذ باللّٰہ! وہ حضور کے مقدس بال کی توہین کے وبال میں پڑگیا اور اگر واقع میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک بال نہیں ہیں بلکہ لوگوں نے خواہ مخواہ مشہور کردیا ہے تو بھی اس کی تعظیم و تکریم کرنے میں کوئی دینی نقصان نہیں بلکہ نیک نیتی اور عقیدت کی بنا پر ثواب ہی کی امید ہے کیونکہ عمل کے ثواب کا دارومدار نیت پر ہے اوراللّٰہ تعالیٰاپنے بندوں کی نیتوں کا جاننے والا اور ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
لطیفہ: اس سلسلے میں احمد آباد کا ایک واقعہ میری زندگی کی ایک ناقابلِ فراموش داستان ہے ۔ بارہویں شریف کے مہینے میں عام طور پر احمد آباد میں بہت سی جگہوں پر موئے مبارک کی زیارت کرائی جاتی ہے۔ایک مرتبہ غالِباً ’’دلّی چکلہ‘‘یا کسی دوسرے محلہ میں کسی جگہ موئے مبارک کی زیارت کا جلسہ تھا لوگ زیارت کررہے تھے کہ ناگہاں ایک وہابی عقیدہ کا نوجوان اکڑگیا اور اہل محلہ سے مطالبہ کیا کہ اس بال کے موئے مبارک ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ میں کس طرح یہ تسلیم کرلوں کہ یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کا مقدس بال شریف ہے؟ اس پر بہت زیادہ ’’تُوتُو،میں میں ‘‘ہوئی۔ چنانچہ محلہ کے لوگ اس نوجوان کو لے کر میرے پاس دارالعلوم شاہ عالَم میں آئے۔اس نوجوان نے بڑی بے باکی اور بے ادبی کے ساتھ مجھ سے گفتگو شروع کی اور مجھ سے بھی یہی مطالبہ کیا کہ آپ ثابت کیجئے کہ شہر احمد آباد میں جتنی جگہوں پر موئے مبارک ہیں وہ واقعی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ’’بال شریف ‘‘ہیں ۔ اس کا کیا ثبوت ہے؟
اس وقت قدرتی طور پر مجھے یہ جواب سمجھ میں آیا کہ میں نے اس سے انتہائی نرمی اور محبت کے لہجہ میں پوچھا کہ تمہاراکیا نام ہے؟اس نے کہا کہ ’’عبدالقادر‘‘پھر میں نے پوچھا تمہارے والد کا کیا نام ہے ؟ تو اس نے کہا کہ ’’عبداللّٰہبھائی‘‘میں ایک منٹ خاموش رہا۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم عبداللّٰہبھائی کے بیٹے ہو؟ اس نے کہا ’’جی ہاں ‘‘میں پھر ایک منٹ خاموش رہا اور میں نے پھر اس سے پوچھا کہ کیا تم عبداللّٰہبھائی ہی کے بیٹے ہو؟میرے اس سوال پر وہ بھڑک اُٹھا اور چلا کر کہا کہ کیا آپ بار بار مجھ سے یہی سوال کرتے ہیں کہ تم عبداللّٰہبھائی ہی کے بیٹے ہو؟میں چپ رہا۔جب اس کا غصہ بہت تیز ہوگیا تو میں نے کہا کہ میں نہیں مانتا کہ تم عبداللّٰہبھائی کے بیٹے ہو تمہارے پاس کون سا ایسا ثبوت ہے کہ تم عبداللّٰہبھائی کے بیٹے ہو ؟ جب تک تم اس کا ثبوت نہیں پیش کروگے میں ہر گز ہرگز تم کو عبداللّٰہبھائی کا بیٹا نہیں مان سکتا ۔یہ سن کر وہ خاموش ہوگیا ۔اب میں نے ڈانتے ہوئے تڑپ کر کہا کہ ’’بولتے کیوں نہیں ؟ کیا ثبوت ہے کہ تم عبداللّٰہبھائی کے بیٹے ہو؟‘‘ پھر بھی وہ چپ رہا مگر اس کا چہر ہ اتر گیا۔ میں نے جب محسوس کر لیا کہ یہ اب لاجواب ہوچکا ہے تو میں نے خود اس سے کہا کہ بھائی ! اس کے سوا تمہارے پاس اور کیا ثبوت ہے کہ تمہاری ماں نے یہ بتایا ہے کہ تم عبداللّٰہہی کے بیٹے ہو؟تمہاری ماں کے سوا تمہارے عبداللّٰہکا بیٹا ہونے پر دنیا بھر میں نہ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ثبوت مگر تم محض اپنی ماں کے کہنے پر عبداللّٰہکے باپ ہونے کا اتنا پکا یقین رکھتے ہو کہ خانہ کعبہ کے اندر سر پر قرآن رکھ کر بھی تم یہی کہو گے کہ میں عبداللّٰہکا بیٹاہوں ۔تو عزیز ِمَن!فقط ایک عورت کے کہہ دینے سے تم نے مان لیا اور یقین کرلیا کہ تمہارا باپ عبداللّٰہہے تو آج سینکڑوں برس سے ہزاروں ،لاکھوں انسان یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ احمد آباد کے تمام موئے مبارک حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے بال شریف ہیں تو اگر ہم لوگ اس بات کا یقین کرلیں کہ یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے مقدس بال ہیں تو اس میں اعتراض کی کیا گنجائش ہے؟ ایک عورت تو جھوٹ بھی بول سکتی ہے مگر سینکڑوں برس کے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے بارے میں یہ کیونکر باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ سب جھوٹے ہیں ؟
میری یہ جذبات سے بھری ہوئی گفتگو سن کر وہ اس قدر متاثر ہوا کہ روپڑا یہاں تک کہ وہ میرے گھٹنوں پر سر رکھ کر رونے لگا اور کہا کہ حضور !میں توبہ کرتا ہوں کہ اب کبھی بھی میں ان مقدس بالوں کی تَکْذِیب یا توہین و تَنْقِیْص نہیں کروں گااور مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کی بات جھوٹ اور غلط نہیں ہوسکتی ۔
اس کے بعد وہ نوجوان کہنے لگا کہ حضور !لیکن ایک شبہ میرے دل میں اَور ہے جو کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اس کے بارے میں بھی حضور کچھ روشنی ڈالیں تو میں بہت ہی ممنون ہوں گا شاید میرا یہ شبہ بھی دور ہوجائے۔میں نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ تو کہنے لگا کہ رحمت عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس دنیا سے تشریف لے گئے ساڑھے تیرہ سو برس سے زائد ہوگئے اس طویل مدت اور اتنے لمبے زمانے میں بال تو بال کوئی ہڈی بھی اپنی اصلی حالت پر بدستور قائم نہیں رہ سکتی کیا کوئی بال ساڑھے تیرہ سو برس تک بغیر گلے سڑے ’’جیوں کا تیوں ‘‘اپنی اصلی حالت پر باقی رہ سکتا ہے ؟
میں نے چُمکار کر اس کو جواب دیا کہ بیٹا!تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔میرے اور تمہارے بال ساڑھے تیرہ سو برس تو کیا برس دو برس بھی ایک حالت پر سلامت اور باقی نہیں رہ سکتے لیکن حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ہے کہاِنَّ اللّٰہ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْانبیاء فَنَبِیُّ اللّٰہ حَیٌّ یُّرْزَقُ(6) (مشکوٰۃ،باب الجمعہ،ص۱۲۱)یعنیاللّٰہ تعالیٰنے زمین پر حرام فرمادیا ہے کہ وہ نبیوں کے بدن کو کھائے،اللّٰہکے سب نبی زندہ ہیں اور ان کو روزی دی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزندہ ہیں لہٰذا ان کے مقدس جسم کا گلنا سڑنا محال ہے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بال شریف حضور ہی کے جسم کا ایک جزو ہیں تواللّٰہ تعالیٰنے حضور کے ان بالوں کو بھی یہ فضیلت عطا فرما دی ہے کہ وہ حضو ر کے جسم مبارک کی طرح کبھی سڑ گل نہیں سکتے۔تم دیکھ لو کہ سینکڑوں برس سے احمد آباد کے ان تمام مقدس بالوں کا ایک ہی حالت پر قائم رہنا یہ بھی ایک کھلی ہوئی دلیل ہے کہ یہ سب حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے موئے مبارک ہیں ورنہ اگر کسی دوسرے کے یہ بال ہوتے تو کبھی کے سڑ گل کر فنا ہوچکے ہوتے۔یہ سن کر وہ نوجوان پھر آبدیدہ ہوگیا اور کہنے لگاکہ خدا کی قسم ! میرے تمام شبہات دُور ہوگئے اور مجھ کو یقین کامل ہوگیا کہ ’’یہ موئے مبارک بالکل اصلی ہیں ‘‘میں نے خدا کا شکر ادا کیا، لوگ بھی بہت خوش ہوئے اور وہ نوجوان بھی وہابیت سے مُتَنَفِّر ہوکر پختہ سُنی ہوگیا۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف الباء،فصل فی التابعین، ص۵۸۸[2] اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین،فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۴[3] صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان، الحدیث:۱۷۱، ج۱،ص۸۳[4] صحیح البخاری،کتاب الاستءذان،باب من زارقوماً۔۔۔الخ، الحدیث:۶۲۸۱،ج۴،ص۱۸۲[5] نیل الاوطار فی شرح منتقی الاخبار،کتاب الطہارۃ،باب طہارۃ الماء المتوضأ بہ،ج۱،ص۵۹[6] مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب الجمعۃ، الحدیث:۱۳۶۶، ج۱،ص۲۶۵
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 29