Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 13

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ اِسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اﷲِ مَاذَا اُنْزِلَ اللَّیْلَۃَ مِنَ الفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ اَیْقِظُوْا صَوَاحِبَ الْحُجُرِ فَرُبَّ کَاسِیَۃٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَۃٌ فِی الْاٰخِرَۃِ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، الحدیث:۱۱۵، ج۱،ص۶۱)

عن ام سلمۃ قالت استیقظ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ذات لیلۃ فقال سبحان اﷲ ماذا انزل اللیلۃ من الفتن وماذا فتح من الخزائن ایقظوا صواحب الحجر فرب کاسیۃ فی الدنیا عاریۃ فی الاخرۃ ( صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، الحدیث:۱۱۵، ج۱،ص۶۱)

حدیث ترجمہ

حضرت اُمّ ِسَلَمَہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ ایک رات حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیدار ہوئے تو فرمایا کہسبحان اللّٰہ! اس رات میں کیسے کیسے فتنے اتارے گئے اور کیسے کیسے خزانے کھولے گئے ان حجرے والیوں کو (عبادت کے لئے ) جگاؤ کیونکہ بہت سی عورتیں دنیا میں لباس پہنے ہوئے ہیں مگر وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔

شرح حدیث

اُمِّ سَلَمہ:اِس حدیث کو روایت کرنے والی اُمُّ المؤمنین بی بی اُمّ ِسَلَمَہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاہیں اِن کا اصلی نام ’’ہِنْد ‘‘یا ’’رَمْلہ ‘‘ہے اور یہ ابو امیہ کی صاحبزادی ہیں ۔یہ پہلے اَبو سَلَمَہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی بیوی تھیں ،حضرت اَبو سَلَمَہ ان کو اور اپنے بچے کو ساتھ لے کر ہجرت کیلئے روانہ ہو نے لگے تو بی بی اُمّ ِ سَلَمَہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاکو ان کے میکہ والوں نے روک لیا اور بچے کو حضرت اَبو سَلَمَہ کے خاندان والوں نے چھین لیا ۔حضرت اَبو سَلَمَہ بیوی بچے کو چھوڑ کر تنہا مدینہ چلے گئے ۔پھر کچھ دنوں کے بعد بی بی اُمّ ِسَلَمَہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہااپنے بچے کو ہمراہ لے کر اکیلی ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ گئیں ۔حضرت ابو سلمہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہجب ۴ھ؁ میں وفات پاگئے تو حضور ِاکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت بی بی اُمّ ِسَلَمَہ سے عقد فرماکر ان کو اُمَّہاتُ المؤمنین میں شامل فرمالیا۔۳۷۸ حدیثیں انہوں نے حضور سے روایت کی ہیں ۵۹ھ؁ میں ۸۴ برس کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنتُ الْبَقِیع میں مدفون ہوئیں ۔(1) (اکمال وفیوض الباری وغیرہ)
فوائد حدیث:
{۱}اس حدیث کو حضرت امام بخاری علیہ رحمۃاللّٰہالبار ی نے اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اَبواب میں بھی ذکر فرمایاہے :صلوۃ ُاللیل،علاماتُ النبوۃ، کتاب الادب، کتاب اللباس،کتاب الفِتَناور امام ترمذیعلیہ رحمۃ اللّٰہ القوینے اس حدیث کو صرفکتاب الفِتَنمیں درج کیا ہے ۔(2){۲}خداوند ِعالَمجل جلالہنے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آئندہ ہونے والے فتنوں اور فتوحات کے خزانوں کا خواب میں یا بیداری میں مشاہدہ کرایا اور آپ نے ان کی کثرت کو دیکھ کر تعجب کا اِظہار فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہسبحان اللّٰہ! آج کی رات میں کس قدر زیادہ فتنے اور خزانے آسمان سے زمین پر اتارے گئے ۔
بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے گھروں میں اس طرح فتنوں کو گرتے ہوئے دیکھ رہا ہو ں جس طرح بارش کے قطرات مسلسل اور لگاتار زمین پر گرتے ہیں ۔ (3){۳}بخاری شریف کے حواشی میں ہے کہ فتنوں سے مُراد ’’عذاب ‘‘اور خزانوں سےمراد’’رحمتیں ‘‘ہیں اور بعض شارحینِ حدیث نے فرمایا کہ فتنوں سے مُراد آئندہ ہونے والے وہ فسادات اور لڑائیاں ہیں جو اس امت کے لئے باعث فتنہ ہیں جیسے حضرت عثمانرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی شہادت ،جنگ ِجَمَل،جنگ ِصِفِّیْن،جنگ ِحَرَّہ،جنگ ِکربلا وغیرہ جن سے بہت زیادہ فِتْنے پھیلے اور مسلمانوں کا بے حد جانی و مالی نقصان ہوا ۔ (4) (نو وی علی المسلم،ج ۲،ص ۳۸۹) اور خزانوں سے مراد وہ فتوحات ہیں جو خلفاء ِراشدین یا ان کے بعد آنے والے مسلم سلاطین کو حاصل ہوئیں کہ فارس و روم بلکہ یورپ و ایشیا کے خزانے مَفْتوح ہوکر اسلامی بیتُ المال میں پہنچ گئے ۔واﷲتعالیٰ ا علم!{۴}اس کے بعد حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ’’حجرے والیوں ‘‘یعنی اپنی ازواجِ مُطَہَّراترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنکو جگانے کا حکم فرمایا تاکہ وہ اُٹھ کر نماز تَہَجُّد پڑھیں ۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ مُبارک طریقہ اور عادت ِکریمہ تھی کہ جب کوئی خوفناک منظر آپ دیکھتے تھے تو فوراً نماز میں مشغول ہوجاتے تھے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتے تھے چونکہ اس وقت ازواجِ مُطَہَّرات ہی نظروں کے سامنے تھیں اس لئے آپ نے ان کو جگانے کا حکم دیا تاکہ خود بھی حضور عبادت میں مصروف ہوجائیں اور اُمت کی مائیں بھی خدا کی عبادت میں لگ جائیں ۔{۵}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی مقدس بیویوں کو عبادت کے لیے جگانے کا حکم دیا اور اس کا سبب یہ بتایا کہ بہت سی عورتیں جو اس دنیا میں قسم قسم کے لباسوں میں ملبوس نظر آتی ہیں قیامت کے دن نیکیوں اور اَعمالِ صالحہ سے ننگی ہوں گی(5)کیونکہ آخرت میں لباس اور جنت کی پوشاک ملنے کا دارومدار نیک اَعمال ہی پر ہے تو جن عورتوں نے دنیا میں نیکیوں کا ذخیرہ نہیں جمع کیا اور اچھے اَعمال سے خالی ہاتھ آخرت میں گئیں تو بھلا انہیں آخرت میں کہاں سے لباس ملے گا اس لئے وہ دنیا میں تو اگرچہ قسم قسم کے لباسوں میں ملبوس رہی ہیں مگر آخرت میں بالکل ہی ننگی ہوں گی اس لئے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس حدیث میں خصوصی طور پر اپنی بیویوں اور دوسری عورتوں کو اَعمالِ صالحہ کی ترغیب دی تاکہ وہ دنیا میں خداعَزَّوَجَلَّکی عبادت کرکے آخرت کے لباس کا سامان کرلیں ۔
مسائل ِحدیث: اِس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل پر روشنی پڑتی ہے۔
{۱}رات میں اپنے اَہل وعِیال کو خداعَزَّوَجَلَّکی عبادت کے لئے جگانا مستحب ہے خصوصًا ایسی صورت میں جبکہ کسی اہم واقعہ کا ظہور ہوا ہو۔{۲}تعجب کے مواقع پر ’’سبحان اللّٰہ‘‘کہنا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔{۳}رات میں بھی نیکیوں کا حکم دینا اور بُرائیوں سے منع کرنا اور لوگوں کو مسائل دین بتانا جائز ہے ۔ (6){۴}خاص کر اپنے اہل و عیال کو نصیحت کرنا اور ان کو ترغیب و ترہیب سنانا بھی جائز ہے۔{۵}فقط عورتوں ہی کو وعظ سنانا بھی جائز ہے۔{۶}اگر کسی شخص کوکسی فتنہ یا کسی خوشخبری کی اطلاع ہوجائے تو لوگوں کو اس سے آگاہ کردینا جائز ہے ۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔

∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال، حرف السین، فصل فی الصحابیات، ص۵۹۹
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم، باب العلم والعظۃ باللیل، ج۱،ص۳۶۱
وشرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ،فی ذکر ازواجہ الطاہرات۔۔۔الخ،ج۴،ص۳۹۷
[2] عمدۃ القاری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، تحت الحدیث: ۱۱۵،ج۲،ص۲۴۴[3] صحیح البخاری ،کتاب المظالم و الغصب ، باب الغرفۃ والعلیۃ المشرفۃ ۔۔۔الخ ، الحدیث:۲۴۶۷، ج۲،ص۱۳۳[4] ارشادالساری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، تحت الحدیث:۱۱۵،ج۱،ص۳۶۶
وشرح صحیح مسلم للنووی،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، ج۲، ص۳۸۹
[5] ارشادالساری،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، تحت الحدیث:۱۱۵، ج۱،ص۳۶۷[6] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب العلم،باب العلم والعظۃ باللیل، ج۱، ص۳۶۲

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 13