Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 26

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِیَّاکُمْ وَالْجُلُوْسَ بِالطُّرُقَاتِ فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ مَا لَنَا مِنْ مَّجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِیْھَا فَقَالَ: فَاِذَا اَبَیْتُمْ اِلَّا الْمَجْلِسَ فَاَعْطُوْا الطَّرِیْقَ حَقَّہٗ قَالُوْا:وَمَا حَقُّ الطَّرِیْقِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْاَذیٰ وَرَدُّ السّلَامِ وَالْاَمْرُ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیُ عَنِ الْمُنْکَرِ (صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،الحدیث:۶۲۲۹،ج۴،ص۱۶۵)

عن ابی سعید الخدری ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ایاکم والجلوس بالطرقات فقالوا: یارسول اللہ ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فیھا فقال: فاذا ابیتم الا المجلس فاعطوا الطریق حقہ قالوا:وما حق الطریق یا رسول اللہ؟ قال: غض البصر وکف الاذی ورد السلام والامر بالمعروف والنھی عن المنکر (صحیح البخاری،کتاب الاستئذان،الحدیث:۶۲۲۹،ج۴،ص۱۶۵)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو سعید خدریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم لوگ راستوں پر بیٹھنے سے بچو،تو صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمنے کہا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراستوں میں بیٹھنے سے تو ہم لوگوں کو چارہ ہی نہیں ہے کیونکہ ان ہی جگہوں میں تو ہم لوگ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں ،تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اگر تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے باز نہیں رہ سکتے تو بیٹھو لیکن راستے کا حق دیتے رہو۔صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمنے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراستہ کا کیا حق ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ{۱}نیچی نگاہ رکھنا{۲}کسی کو ایذا نہ دینا{۳}لوگوں کے سلام کا جواب دینا{۴}اچھی باتوں کا حکم دینا{۵}بُری باتوں سے منع کرنا۔

شرح حدیث

فوائد:{۱}علامہ قَسْطَلانی نے فرمایا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ حکم کہ’’تم لوگ راستو ں پر بیٹھنے سے بچو‘‘یہ حکم وُجوبی نہیں تھابلکہ اِسْتِحْبَابی تھاکیونکہ اگر یہ حکم وُجوبی ہوتا تو صحابہ اس کے جواب میں ہرگز ہرگز کبھی یہ نہ کہتے کہ ہمارے لیے تو راستوں پر بیٹھنے سے چارہ ہی نہیں ہے نہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ فرماتے کہ اچھاتم لوگ بیٹھوتوراستوں کا حق دیتے رہو۔ (1) (حاشیہ بخاری،ص۹۲۰،ج ۲){۲}مذکورہ بالا پانچوں باتوں کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے راستہ کا حق قرار دیا ہے اور مومن پر ازروئے شریعت ہر حق والے کا حق ادا کرنا واجب ہے لہٰذا جو لوگ راستوں پر بیٹھیں ان پر واجب ہے کہ ان پانچوں باتوں پر عمل کریں ۔{۳}بلا ضرورت راستوں پر بیٹھنا اگرچہ راستہ کے حقوق ادا کرنے کی صورت میں حرام اور گناہ تو نہیں مگر چونکہ یہ کوئی اچھی خصلت بھی نہیں ہے لہٰذا حتی الوسع مسلمانوں کو اس سے پرہیز ہی کرنا چاہئے۔خصوصاً اس زمانے میں جبکہ بے پردگی بلکہ عریانی و برہنگی فیشن بن چکی ہے سڑکوں اور راستوں پر لوگوں کا بیٹھنا بہت سے مفاسد کا پیش خیمہ ہے لہٰذا اس سے خاص طور پر پرہیز کرنا چاہئے۔{۴}راستوں کے پانچوں حقوق کی قدرے تفصیل یہ ہے :
اوّل: نگاہوں کو نیچی رکھنا، چونکہ راستوں پر عورتیں اور مردبھی گزریں گے اس لیے بیٹھنے والے پر ازروئے حکم شریعت واجب ہے کہ نہ غیر محرم عورتوں پر نظر ڈالیں نہ لوگوں کے ان عیوب کو دیکھیں جن کو راستہ چلنے والے لوگوں سے چُھپانا چاہتے ہیں مثلاً کوڑھی یاسفیدداغ والے یا لنگڑے لولے کو گھور گھور کر بار بار نہ دیکھیں کہ اس سے ان لوگوں کی دل آزاری ہوگی۔
دوم:کسی کو ایذا نہ دینا ،یعنی اس طرح راستوں پر نہ بیٹھا کریں کہ راستہ تنگ ہو جائے اور گزرنے والوں کو ایذا پہنچے ۔یوں ہی راستہ چلنے والوں کا مذاق نہ اڑائیں ، راستہ چلنے والوں کی تحقیر اور عیب جوئی نہ کریں ،سفر کرنے والوں کی جاسوسی نہ کریں کہ کون کون، کہاں کہاں جاتا ہے اور کیوں جاتا ہے، غرض راستوں پر بیٹھنے والے اپنے کسی قول و فعل سے گزرنے والوں کو تکلیف اور ایذا نہ پہنچائیں ۔
سوم:ہر گزرنے والے کے سلام کا جواب دیتے رہیں ۔
چہارم:راستہ چلنے والوں کو اچھی باتیں بتاتے رہیں مثلًا آگے راستہ میں کوئی خطرہ ہو یا راستہ میں کوئی رکاوٹ ہو تو اس سے راستہ چلنے والوں کو آگاہ کرتے رہیں راستہ بھولنے والوں یا ناواقفوں کو راستہ بتاتے رہیں اور راستہ چلنے کے شرعی آداب لوگوں کوبتاتے اور سکھاتے رہیں ۔
پنجم:خلاف ِشریعت اور بُری باتوں سے لوگوں کو منع کرتے رہیں تاکہ راستہ چلنے والے سفر میں کوئی خلافِ شریعت کام نہ کرنے پائیں ۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] ارشادالساری،کتاب الاستیذان،باب قول
اللّٰہتعالی۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۶۲۲۹، ج۱۳،ص۲۷۳

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 26