- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 16
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:دَخَلَتْ اِمْْرَأَۃٌ النَّارَ فِیْ ھِرَّۃٍ رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْھَا وَلَمْ تَدَعْھَا تَأْکُلُ مِنْ خُشَاشِ الْاَرْضِ ( صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب خمس من الدواب۔۔۔الخ، الحدیث:۳۳۱۸، ج۲،ص۴۰۸)
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:دخلت امرأۃ النار فی ھرۃ ربطتہا فلم تطعمھا ولم تدعھا تأکل من خشاش الارض ( صحیح البخاری،کتاب بدء الخلق،باب خمس من الدواب۔۔۔الخ، الحدیث:۳۳۱۸، ج۲،ص۴۰۸)
حدیث ترجمہ
: حضرت عبداللّٰہبن عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ایک عورت ایک بلی کے معاملہ میں جہنم میں داخل ہوئی۔ اُس نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا نہ تو اس کو کچھ کھلایا نہ اس کو چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کو کھاتی۔(یہاں تک کہ وہ بھوکی مرگئی)
شرح حدیث
حضرت ابن عمر:اس حدیث کے راوی حضرت ابن عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہیں ۔ ان کا نام عبداللّٰہہے اور یہ امیر المؤمنین حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے نامور فرزند ہیں ۔ بچپن ہی میں اپنے والد ماجد کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئے اور ہجرت کرکے مدینہ گئے جنگ ِ خَنْدَق اور بیعۃ الرضوان وغیرہ میں شریک ہوئے ۔انتہائی عابد و زاہد اور متقی و پرہیز گا ر صحابی ہیں ۔اپنی زندگی میں ایک ہزار سے زائد غلاموں کو خرید خرید کر آزاد کیا۔ حضرت جابربن عبداللّٰہصحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہفرمایا کرتے تھے کہ ہم میں سے ہر شخص کے پاس دُنیا آگئی ہے مگر حضرت عبداللّٰہاور ان کے والد امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماکے پاس سے دُنیا کا گزر نہیں ہوا ۔میمون بن مہران تابعی کہا کرتے تھے: میں نے ابن عمر سے بڑھ کر متقی اور ابن عباس سے بڑھ کر علم والا کسی کو نہیں دیکھا۔ ایک ہزار چھ سو تیس حدیثیں آپ نے روایت فرمائی ہیں ۔جن میں سے ایک سو ستر حدیثیں ایسی ہیں کہ وہ بخاری شریف و مسلم دونوں کتابوں میں ہیں اور اکیاسی حدیثیں وہ ہیں جو صرف بخاری شریف میں ہیں اور اکتیس حدیثیں ایسی ہیں جو صرف مسلم شریف میں ہیں ۔علم فقہ و حدیث میں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے اور ان کے شاگردوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ جن میں حضرت سالم و حمزہ و عبیداللّٰہو امام نافع جیسے بلند پایہ فقہا و محدثین ہیں ۔
حَجَّاج بن یوسف ثَقَفی ظالم گورنر کو آپ حج کے مسائل اور دوسرے شرعی معاملات میں ٹوکتے رہتے تھے ۔اس ظالم کو یہ ناگوار ہوا اور اس نے اپنے ایک سپاہی کے ذریعہ زہر آلود بَرچھی سے آپ کے پائوں کے تلے میں زخم لگوادیا جس سے سارے بدن میں زہر کا اثر پھیل گیا اور آپ مکہ مکرمہ میں علیل ہوگئے ۔مکار حجاج بن یوسف ظالم آپ کی بیمار پُرسی کے لئے آیا ۔آپ اسی علالت میں عبداللّٰہبن زبیررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی شہادت کے تین ماہ بعد ۷۳ھ میں چوراسی یا چھیاسی سال کی عمر میں وصال فرماگئے اور مکہ مکرمہ کے قبرستانِ مہا جرین ذی طویٰ میں مدفون ہوئے۔ (1) (اکمال مع حاشیہ)
فوائدو مسائل:{۱}یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں متعدد روایتوں اور مختلف لفظوں کے ساتھ بہت جگہ آئی ہے۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میں نے جہنم میں دیکھا کہ وہ بلی اُس عورت کو نوچ رہی ہے ۔ (2)(بخاری،ج۱،ص۳۱۸){۲}جس طرح اس سے پہلے والی حدیث میں جانوروں پر رحم اور احسان کرنے کی اہمیت کو ظاہر کیا گیا ہے اسی طرح اس حدیث میں جانوروں پر ظلم کرنے کی بُرائی اور اس کے بُرے انجام کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ عورت ایک بلی کو ظلم سے مار ڈالنے کی و جہ سے جہنم میں گئی۔{۳}امام نووی نے فرمایا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بلی یا کسی بھی جانور کو بھوکا پیاسا باندھے رہنایا قید میں رکھنا حرام ہے کیونکہ یہ عورت باوجود مسلمان ہونے کے اسی گناہ کی و جہ سے جہنم میں داخل کی گئی ۔ اور اس حدیث سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ جانوروں کا چارا پانی مالک کے اُوپر واجب ہے ۔اگر مالک اپنے جانوروں کو بھوکا پیاسا رکھے گاتو گناہگار ہوگا۔ (3) (نووی علی المسلم،ج۲،ص۳۳۶){۴}غیر موذی جانوروں پر کسی قسم کا ظلم کرنا حرام ہے۔جو لوگ گھوڑوں ،گدھوں پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادتے ہیں یا بلاو جہ مارتے پیٹتے ہیں یا تفریح کے طور پر بلا ضرورت جانوروں کو زدو کوب کرتے رہتے ہیں ان لوگو ں کے لیے اس حدیث میں لَرْزہ بَراَ نْدام کرنے والی اورعبرت خیز وعید ہے ۔اللّٰہ تعالیٰہر مسلمان کو ظلم کے گناہ سے محفوظ رکھے۔(آمین)
حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ظالم اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے۔حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے فرمایاکہ کیوں نہیں ! (ظالم کے ظلم کی نُحوست سے باری تعالیٰ بارش بند فرمادیتا ہے تو) جُباریٰ (ایک پرند) اپنے گھونسلے میں لاغر ہوکر ظالم کے ظلم کی و جہ سے مرجاتی ہے۔ (4) (مشکوٰۃ،باب الظلم)
بہرحال ظلم خواہ کسی انسان پر ہو یا کسی جانور پر بہرحال حرام اور جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے ۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال مع حاشیۃ،حرف العین،فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۴۔۶۰۵[2] صحیح البخاری،کتاب المساقاۃ،باب فضل سقی الماء، الحدیث:۲۳۶۴ج۲، ص۹۹[3] شرح صحیح مسلم للنووی،کتاب قتل الحیات وغیرھا،باب تحریم قتل الھرۃ، ج۲، ص۲۳۶[4] مشکاۃالمصابیح،کتاب الآداب،باب الظلم، الحدیث:۵۱۳۶، ج۲، ص۲۳۷
ومرقاۃ المفاتیح،کتاب الآداب،باب الظلم، الحدیث:۵۱۳۶، ج۸، ص۸۵۹
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 16