Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 19

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمَعْرُوْرِ قَالَ: لَقِیْتُ اَبَاذَرٍّ بِالرَّبَذَۃِ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ وَعَلٰی غُلَامِہٖ حُلَّۃٌ فَسَئَلْتُہٗ عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ: اِنِّیْ سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَیَّرْتُہٗ بِاُمِّہٖ فَقَالَ لِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا اَبَاذَرٍّ اَعَیَّرْتَہٗ بِاُمِّہٖ اِنَّکَ اِمْرَؤٌ فِیْکَ جَاہِلِیَّۃٌ اِخْوَانُکُمْ خَوَلُکُمْ جَعَلَھُمُ اللّٰہ تَحْتَ اَیْدِیْکُمْ فَمَنْ کَانَ اَخُوْہُ تَحْتَ یَدِہٖ فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَ لْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ وَلَا تُکَلِّفُوْھُمْ مَا یَغْلِبُھُمْ فَاِنْ کَلَّفْتُمُوْھُمْ فَاَعِیْنُوْھُمْ۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۰، ج۱،ص۲۳)

عن المعرور قال: لقیت اباذر بالربذۃ وعلیہ حلۃ وعلی غلامہ حلۃ فسئلتہ عن ذالک فقال: انی ساببت رجلا فعیرتہ بامہ فقال لی النبی صلی اللہ علیہ وسلم: یا اباذر اعیرتہ بامہ انک امرو فیک جاہلیۃ اخوانکم خولکم جعلھم اللہ تحت ایدیکم فمن کان اخوہ تحت یدہ فلیطعمہ مما یاکل و لیلبسہ مما یلبس ولا تکلفوھم ما یغلبھم فان کلفتموھم فاعینوھم۔( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۳۰، ج۱،ص۲۳)

حدیث ترجمہ

حضرت مَعْرور سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ذر غِفَاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے ’’رَبَذَہ‘‘ میں ملاقات کی، وہ اور ان کا غلام ایک ہی جیسا جوڑا پہنے ہوئے تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان سے سوال کیا تو حضرت ابوذررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے فرمایا کہ میں نے ایک شخص سے گالی گلوچ کی اور اس کو ماں کی گالی دی تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اے ابوذر! تم نے اس کو ماں کی گالی دی تم ایسے آدمی ہو کہ تمہارے اندر جاہلیت کی خَصْلَت ہے تمہارے لونڈی غلام تمہارے (دینی) بھائی ہیں ۔اللّٰہ تعالیٰنے ان لوگوں کو تمہارا ماتحت بنادیا ہے تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہئے کہ جو خود کھائے اس کو کھلائے اور جو خود پہنے اس کو پہنائے اور تم ان خادموں کو ایسے کاموں کی تکلیف مت دو جو انہیں لاچار کردے اور اگر تم ایسی تکلیف دو تو خود بھی کام میں ان کی مددکرو۔

شرح حدیث

حضرت اَبو ذَر:یہ بہت ہی قدیم ا لا سلام صحابی ہیں یہاں تک کہ بعض لو گوں کا قول ہے کہ اسلام قبول کرنے میں باہری لوگوں کے اندر ان کا پانچواں نمبر ہے ان کے مسلمان ہونے کا پورا حال بخاری شریف میں مُفَصَّل مذکورہے۔اسلام لانے کے بعد سترہ دِنوں تک یہ صرف آب زم زم پی کر مسجد کعبہ میں مقیم رہے روزانہ یہ چلا چلا کر مجمع کفار میں اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے اور کفار مکہ ان کو اس قدر مارتے تھے کہ یہ لہولہان ہو کر بے ہوش ہو جاتے تھے مگر ہوش میں آنے کے بعد پھر اپنے اسلام کا اعلان کرتے تھے۔ ان کا اسم گرامی ’’ جُنْدُب بن جُنادَہ ‘‘ہے ۔بہت ہی عابد و زاہد اور انتہائی متقی صحابی ہیں ۔دو سو اکیاسی حدیثیں آپ نے روایت کی ہیں ۳۲ھ؁ میں حضرت عثمانرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے دور خلافت میں بمقام ’’رَبَذَہ ‘‘ آپ کا وصال ہوا اور حضرت عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (1)
رَبَذَہ :مدینۂ منورہ سے تین منزل دور ایک جگہ کا نام ہے۔(2)حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلامکے وصال پر غم زدہ ہوکر حضرت ابو ذر مدینہ منورہ سے ملک شام چلے گئے تھے ۔وہاں شام کے گورنر حضرت امیر مُعاوِیہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے ان کا ایک مسئلہ میں اختلاف ہوگیا تو حضرت امیر المؤمنین عثمان غنیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے حضرت ابو ذر کو ملک شام سے بلا کر ’’رَبَذَہ ‘‘ میں قیام کرنے کا حکم دے دیا ۔چنانچہ یہ آخری دم تک ’’رَبَذَہ ‘‘ ہی میں رہے۔
شرحِ حدیث: حدیث مذکور کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جناب مَعْرور جب حضرت ابوذَر کی ملاقات کے لیے رَبَذَہ حاضر ہوئے تو یہ منظر دیکھا کہ آپ کے اور آپ کے غلام کے بدن پر بالکل ایک ہی قسم کا جوڑا ہے ۔آقا اور غلام دونوں کا لباس یکساں دیکھ کر قدرتی طور پر جناب مَعْرور کے دل میں اس سوال نے سر اٹھایا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ آقا اور غلام دونوں ایک ہی قسم کے لباس میں ملبوس ہیں تو آپ نے حضرت اَبو ذَر سے اس کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابو ذر
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اس کا یہ جواب دیا کہ میں نے ایک شخص کو ایک مرتبہ ماں کی گالی دے دی اس شخص نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے میری شکایت کردی تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَرزَنِش کے طور پر مجھ سے فرمایا کہ کیا تو نے اس کو ماں کی گالی دی ہے۔ اے ابو ذر !رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمسلمان ہونے کے بعد بھی تیرے اندر زمانۂ جاہلیت کی خَصْلَت باقی ہے ۔
اس کے بعد حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے یہ نصیحت فرمائی کہ تم اپنے لونڈی غلاموں اور نوکروں چاکروں کو ہرگز ہرگز حقیر و ذلیل مت سمجھو بلکہ یہ سمجھو کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جن کو خدا نے تمہارے ماتحت بناکر تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے ۔لہٰذا اگر تمہارا کوئی دینی بھائی تمہارا ماتحت اور تمہارا غلام ہوتو اس کے ساتھ برادرانہ سلوک کرو یہاں تک کہ جو تم خود کھاتے ہو وہی اس کو کھلاؤ اور جو تم خود پہنتے ہو وہی اس کو بھی پہناؤاور ان لوگوں سے ان کی طاقت سے زیادہ مشقت کا کام نہ کراؤاور اگر کوئی مشقت کا کام ان لوگوں کے سپرد کرو تو تم خود بھی ان لوگوں کی مدد کرو۔اس لیے میں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ دستور بنالیا ہے کہ میں جو کھاتا ہوں وہی اپنے غلام کو بھی کھلاتا ہوں اور جس قسم کا جوڑا خود پہنتا ہوں اسی قسم کا جوڑا اپنے غلام کو بھی پہناتا ہوں ۔یہی و جہ ہے کہ تم میرا اور میرے غلام کا لباس ایک ہی جیسا دیکھ رہے ہو۔
حضرت اَبو ذَر
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا ایک شاہکار: حضرت اَبوذَررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے جس شخص کو ماں کی گالی دی تھی وہ حضرت بلالرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہیں ۔کیا گالی دی تھی بس اتنا کہدیا تھا کہ (اے کالی ماں کے بیٹے)حضرت بلال نے جب دربار ِ رسالت میں اس کی شکایت کی تو سرکار ِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت اَبو ذَررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو ڈانٹا اور نصیحت فرمائی ۔اس کے بعد حضرت اَبو ذَررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہپر اس کا کیا رد عمل ہوا، یہ بہت ہی لَرزہ بَراَ ندام کردینے والی داستان ہے۔اس کو بار بار پڑھتے رہیے اور خدا کے خوف سے ڈرتے رہیے۔
دربار ِ رسالت کی ملامت سُن کر فوراًہی حضرت اَبوذَر
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہحضرت بلالرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی خدمت میں ندامت کے ساتھ حاضر ہوئے اور ایک دم اپنا حسین رُخسار زمین پر رکھ کر انتہائی لَجاجَت کے ساتھ روتے اور گڑگڑاتے ہوئے یہ کہا کہ اے بلال! جب تک تم اپنے قدم کے تلوے سے میرے اس رُخسار کو نہ روندوگے میں اس وقت تک اپنا یہ چہرہ ہرگز ہرگز زمین سے نہیں اٹھاؤں گا۔حضرت اَبو ذَر کے شدید اِصرار سے مجبور ہوکر حضرت بلالرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے بادِلِ نَخَواستہ اپنا قدم اَبو ذَررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے چہرے پر رکھ کر فوراً ہی ہٹالیا اور حضرت اَبو ذَر کو معاف کردیا۔(3)(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۴۶)
علامہ قَسْطَلانی نے اس واقعہ کے بارے میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ حضرت اَبوذَر نے یہ عار دلانے والی بات حضرت بلال کے لئے اس وقت کہی تھی جبکہ حضرت اَبوذَر کو اس قسم کے الفاظ کی حرمت کا علم نہیں ہوا تھا ۔ورنہ حضرت اَبو ذَر جیسے پیکر تقویٰ و پرہیز گار ی سے ایسی بات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اسی لیے حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف یہ لفظ کہہ کر ان کی سرزنش فرمائی کہ’’ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی خصلت باقی ہے۔ ‘‘اور یہ زجرو توبیخ بھی ان کے بلند مَراتِب کی و جہ سے ہوئی کہ اتنے بڑے آدمی کی زبان سے اتنی چھوٹی اور گری ہوئی بات نہیں نکلنی چاہئے تھی۔ (4)(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۴۶)
مسائل ِحدیث: حدیث مذکور بالا سے حسب ِذیل مسائل ثابت ہوتے ہیں :
{۱}کسی مسلمان کو اگرچہ وہ لونڈی، غلام یا نوکر چاکر ہی کیوں نہ ہو گالی دینا حرام ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہٗ کُفْرٌیعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فاسق کا کام ہے اور کسی مسلمان سے جنگ و قتال کرنا کافر کا کام ہے۔{۲}غلاموں اور نوکروں کو محض ان کی غلامی اور نوکری کی بناء پر حقیر و ذلیل سمجھنا جائز نہیں ہے اس لیے کہ بزرگی کا دارومدار ذات،خاندان یا دولت و حکومت پر نہیں ہے بلکہاِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہ اَتْقٰـکُمْ(5)کے فرمان الٰہی نے ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ پر مہر ِصدتَصْدیق ثَبَت کردی ہے کہ بزرگی کا دارومدار تقویٰ اور پرہیز گاری پر ہے تو ہو سکتا ہے کہ غلام آقا سے زیادہ پرہیزگار اور خدا کے نزدیک عزت والاہو۔{۳}حدیث مذکور میں ’’فَلْیُطْعِمْہُ مِمَّا یَأْکُلُ وَلْیُلْبِسْہُ مِمَّا یَلْبَسُ‘‘کا امر وجوبی نہیں ہے بلکہ یہ امر ارشاد ی یا امر اِستحبابی ہے لہٰذا آقا جو کھائے اور جو پہنے وہی غلاموں کو بھی کھلائے اور پہنائے یہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب اور کارِ ثواب ہے۔(6)
لیکن بہر حال اس حدیث سے اتنی بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غلاموں اور نوکروں کو بہت زیادہ خراب کھانا اور کپڑا نہیں دینا چاہئے بلکہ اپنی اور غلام یا نوکر کی حیثیتوں کا لحاظ کرتے ہوئے مناسب درجے کا کھانا ،کپڑا دینا آقا پر لازم ہے۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال، حرف الذال، فصل فی الصحابۃ،ص۵۹۴
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب المعاصی من امرالجاھلیۃ۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۲۴
[2] ارشاد الساری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۳۰، ج۱،ص۱۹۷[3] ا رشاد الساری،کتاب الایمان، باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۳۰،ج۱،ص۱۹۷[4] ارشاد الساری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امر الجاھلیۃ۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۳۰، ج۱،ص۱۹۷[5] ترجمہء کنز الایمان:بے شکاللّہکے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے۔ (پ۲۶،الحجرٰت:۱۳)[6] عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب المعاصی من امرالجاھلیۃ۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۳۰ج۱،ص۳۱۱

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 19