- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 36
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہٖ وَیُنْسَاَ لَہٗ فِیْ اَثَرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب البر والصلۃ، الحدیث: ۴۹۱۸،ج۲، ص۲۰۵)
عن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من احب ان یبسط لہ فی رزقہ وینسا لہ فی اثرہ فلیصل رحمہ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب البر والصلۃ، الحدیث: ۴۹۱۸،ج۲، ص۲۰۵)
حدیث ترجمہ
حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جس شخص کو یہ اچھا لگے کہ اس کی روزی میں فراخی اور اس کی عمر میں درازی ہو تو اس کو چاہئے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرے۔
شرح حدیث
فوائد و مسائل:{۱}اس بات کو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ دنیا عالم اسباب ہے ۔یہاں کے ہر کام کے لیے کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوا کرتا ہے اس لیے ’’رزق ‘‘میں زیادتی اور عمر کی درازی کے بھی چنداسباب ہیں ۔اُن میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور نیک سلوک کرتا رہے تو اس عملِ خیر کی برکت سے ان شاءاللّٰہ تعالیٰاس کی روزی میں فراخی و فراوانی ہوجائے گی اور اس کی عمر بھی بڑھ جائے گی۔{۲}اس حدیث کی شرح میں حضرت عبد الحق محدث دہلویرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ جب شارععَلَیْہِ السَّلَامنے یہ خبر دی ہے تو ایک مومن کے لیے ہے کہ اس پر ایمان رکھے اور بے چون و چرا اس پر عمل کرتا رہے اور صلہ رحمی کیوں روزی اور عمر کی زیادتی کا سبب ہے؟اور کس طرح سبب ہے؟ اس کا علم خدا کے سپرد کردے اور ہر گز ہرگز اس معاملہ میں بحث و مباحثہ نہ کرے۔ (اشعۃ اللمعات،ج۴،ص۱۰۹)کیوں ؟اس لیے کہ دُنیا عالم ِاسباب ہے اور خداوند ِکریم مُسَبِّبُ الاسباب ہے اس نے جس چیز کو جس چیز کاسبب بنانا چاہا اس کاسبب بنادیا، کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس لیے ہوا؟بندہ اس کی حکمتوں سے نہ کماحقہ واقف ہے نہ واقف ہوسکتا ہے سب جانتے ہیں کہ’’ سَنْکِھیا‘‘زہر ِ قاتل ہے اور’’تریاق‘‘زہروں کا علاج ہے مگر کوئی بتاتو دے کہ سنکھیا کیوں اور کیسے اور کس لیے زہر قاتل ہے ؟ اور تریاق کیوں اور کیسے اور کس لیے زہروں کا علاج ہے؟ ان اسباب و مُسَبَّبات کے رَبط و اِرْتِباط کو ’’مُسَبِّبُ الاسباب‘‘ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
ایک سوال وجواب:ہاں ! یہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ’’باب الْقَدَر‘‘ کی حدیثوں میں مذکور ہے کہ بچہ ماں کے شکم میں رہتا ہے اسی وقت ایک فرشتہ اس کی عمر، روزی اور سعادت و شَقاوَت خدا کے حکم سے لکھ دیتا ہے جو مٹ نہیں سکتاتو جس قدر عمر اور روزی فرشتہ نے لکھ دی ہے اب اس سے زیادہ عمر اور روزی کیسے بڑھ سکتی ہے؟ تو اس سوال کا شارحین ِحدیث نے کئی طرح سے جواب دیا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں :{۱}انسان کی عمر اور روزی کی مقدار تو گھٹ بڑھ نہیں سکتی ۔فرشتہ نے بحکم الٰہی جتنی عمر اور روزی لکھ دی ہے اس کی مقدار تو اتنی ہی رہے گی مگراللّٰہ تعالیٰمقدار میں اتنی برکت عطافرمادے گا کہ یہ بہت زیادہ معلوم ہونے لگے گی۔
کسی چیز میں ’’برکت ‘‘اور ’’بے برکتی‘‘کا تجر بہ تو تقریباًہر انسان کو ہوتا ہی رہتا ہے یہی بارہ گھنٹے کا دن کبھی اتنا مختصر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی کام ہی نہیں ہوتا اور چٹ پٹ دن ختم ہوجاتا ہے اور کبھی اتنا دراز ہوجاتاہے کہ کئی کئی دنوں کا کام ایک ہی دن میں ہوجاتا ہے اور دن اتنا بڑا معلوم ہوتا ہے کہ کاٹے نہیں کٹتا ۔چنانچہ مصنفین اسلام مثلًا مولانا جلال الدین سیوطی،امام غزالی ،اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلویرحمہم اللّٰہ تعالیٰوغیر ہ ایسے ایسے بابرکت لوگ گزرے ہیں کہ ان کی عمر وں میں اس قدر زیادہ برکت ہوگئی کہ ان کی تصنیفات اور ان کی عمروں کا حساب لگایا جائے توایک ایک دن میں اتنے اتنے اوراق ان بزرگوں نے تصنیف کردئیے ہیں کہ اگر آج کوئی بڑا ہی زُود نو ِیس ان کو نقل کرنا چاہے تو ایک ہفتہ میں بھی ان کو نقل نہیں کرسکتا کیوں ؟ اس لیے کہ ان بزرگوں کے اوقات میں برکت ہوا کرتی تھی ان کی تھوڑی سی عمریں اگرچہ مقدار میں تو تھوڑی تھیں مگر برکت ہوجانے سے ان کی عمریں بہت بڑھ گئیں اور لمبی لمبی عمروں والے اگر چہ مقدار میں تو ان کی عمریں بہت لمبی تھیں مگر برکت نہیں ہوئی تو اتنی جلد ان کی عمریں ختم ہوگئیں کہ گویا بہت ہی کم تھیں ۔
تو اس حدیث میں ’’صلہ رحمی‘‘کرنے والے کی روزی اور عمر میں زیادتی اور درازی کا یہی مطلب ہے کہ اس کی روزی اور عمر میں برکت ہوجاتی ہے۔{۲}بعض شارحین ِحدیث نے فرمایا کہ رِزق اور عمر میں زیادتی کایہ مطلب ہے کہ اس کی روزی اور عمر ضائع نہیں ہوتی بلکہ فرشتہ نے جو روزی اور عمر لکھ دی ہے نہ اس روزی کا ایک دانہ ضائع ہوتا ہے نہ اُس عمر کا ایک لمحہ برباد ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کی روزی اور عمر کا بہت سا حصہ ضائع ہوجایا کرتا ہے تو جس کی روزی اور عمر کا کچھ حصہ بیماریوں اور دوسر ے عَوارض کی و جہ سے ضائع اور بے کار ہوگیا گویا اس کی روزی اور عمر گھٹ گئی اور جس کی روزی بالکل ضائع اور برباد نہیں ہوئی گویا اس کی روزی اور عمر بڑھ گئی۔{۳}بعض علما ء نے فرمایا کہ روزی اور عمر بڑھنے کا یہ مطلب ہے کہاللّٰہ تعالیٰاس کو نیک اولاد عطا فرماتا ہے جس کی بدولت مرنے کے بعد بھی اس کا ذکر ِجمیل دنیا میں باقی رہتا ہے یا اس سے کوئی ایسا نیک کام انجام پاجاتا ہے کہ ہمیشہ اس کی نیک نامی کا ڈنکا بجتا رہتا ہے تو گویا اس کی روزی اور عمر بڑھ گئی اور جس کے مرتے ہی اس کی نیک نامی کا نام و نشان بالکل مٹ جاتا ہے گویا اس کی روزی اور عمر گھٹ گئی۔ (1)واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
(حواشی مشکوٰۃ،ص۴۱۹)
∞ [1] حاشیۃ المشکاۃ،کتاب الآداب،باب البر والصلۃ ۔۔۔الخ، ص۴۱۹
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 36