- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 6
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ عَمْرٍو اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ کَانَ مُنَافِقًا خالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِیْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَھَا اِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:۳۴، ج۱، ص۲۵)
عن عبد اللہ بن عمرو ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اربع من کن فیہ کان منافقا خالصا ومن کانت فیہ خصلۃ منھن کانت فیہ خصلۃ من النفاق حتی یدعھا اذا اوتمن خان واذا حدث کذب واذا عاھد غدر واذا خاصم فجر ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب علامۃ المنافق، الحدیث:۳۴، ج۱، ص۲۵)
حدیث ترجمہ
حضرت عبداللّٰہبن عمرورضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ بے شک حضورنبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جس شخص میں یہ چار باتیں ہوں گی وہ خالص مُنافِق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک بات ہوگی اس میں نِفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑدے۔{۱}جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے{۲}جب بات کرے تو جھوٹ بولے{۳}اور جب کسی سے کوئی عہد کرے تو عہدشِکْنی کرے{۴}اور جب جھگڑا کرے تو بدزبانی کرے۔
شرح حدیث
حضرت عبداللّٰہبن عمرو:اس حدیث کے راوی حضرت عبداللّٰہبن عمرو بن العاصرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہیں ۔خاندان قریش کی شاخ ’’بنی سَہْم‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سہمی قریشی کہلاتے ہیں بہت ہی صاحب مرتبہ صحابی ہیں عالم ،حافظ ِقرآن ،بہت بڑے عابد و زاہد تھے ۔اپنے باپ حضرت عمرو بن العاصرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے پہلے ایمان لائے اور ہجرت بھی کی، راتوں کو خوف الٰہی سے روتے روتے ان کی آنکھوں میں آشوب ِچشم ہوگیا تھاجس کے لئے ان کی والدہ سُرمہ بنایا کرتی تھیں ۔انہوں نے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے حدیثوں کو لکھنے کی اجازت طلب کی تھی تو حالانکہ عام طور پر حضور نے لوگوں کو حدیثیں لکھنے سے منع فرمایا تھا اور صرف قرآن کے لکھنے کا حکم دیا تھا تاکہ قرآن و حدیث میں خَلْط مَلْط نہ ہونے پائے مگر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو حدیثیں لکھنے کی اجازت عطا فرمادی تھی کیونکہ ان کی احتیاط پر حضور کو پورا پورا اعتماد تھا کہ یہ آیتوں اور حدیثوں کو خَلْط مَلْط نہیں ہونے دیں گے ۔علم حدیث میں ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
یہ ایک عجیب بات ہے کہ اتنے نامْوَر اور مشہور صحابی کی تاریخ وفات اور ان کی قبر شریف کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف ہے ۔بعض کا قول ہے کہ ۶۳ھ میں بعض کا قول ہے کہ ۷۳ھ میں مکہ مکرمہ کے اندر آپ کا وصال ہوا اور بعض نے کہا کہ ۵۵ھ میں طائف کے اندر آپ کی وفات ہوئی اور بعض یہ کہتے ہیں کہ مصر میں ۶۵ھ کے سا ل آ ٓپ کا انتقال ہوا ۔(1)واﷲ تعالیٰ اعلم۔ (اکمال وارشاد الساری،ج۱،ص۲۵۱)
شرحِ حدیث:منافق کی دو قسمیں ہیں :{۱}منافق ِاِعْتِقادی{۲}منا فق ِعملی۔
منافق اِعْتِقادی وہ ہے کہ زبان سے تو اسلام کا اِظہار کرتا ہومگر اپنے دل میں کفر چھپائے ہو ئے ہو جیسے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں عبداللّٰہبن اُبی وغیرہ منافقوں کی ایک جماعت تھی کہ یہ لوگ بظاہر کلمہ پڑھتے تھے، روزہ ونماز اور حج و زکوۃ کے بھی پابند تھے مگر دل سے اسلام کے منکر تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے ایمان و عقیدہ میں ہی نفاق تھا۔منافق اعتقادی کافر ہے بلکہ کافر سے بھی بدتر ہے۔قرآن کریم کا فرمان ہے کہاِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ(2)یعنی منافق اعتقادی کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈال دیا جائے گا۔
منافق عملی وہ ہے کہ جس کے ایمان و عقائد میں کوئی خرابی و نفاق نہیں ہوتا بلکہ وہ ظاہر و باطن میں مسلمان ہوتا ہے لیکن اس کے بعض اعمال اور خصلتیں منافقوں سے ملتی جلتی ہیں ۔
اس حدیث میں جس منافق کی چار خصلتوں کا ذکر ہے اس منافق سے مُراد منافق عملی ہے اور چاروں منافقانہ خصلتوں سے مُراد منافقانہ اعمال و کردار ہیں اور وہ چاروں خصلتیں یہ ہیں :{۱}جب اس کو کوئی امانت سونپی جائے تو اس میں خیانت کرے{۲}جب بات کرے تو جھوٹ بولے{۳}جب کسی سے کوئی عہد کرے تو دغا کرے{۴}جب کسی سے کسی معاملہ میں جھگڑے تو گالی دے۔
بلاشبہ یہ چاروں خصلتیں ہرگز ہرگز مومن کی خصلتیں نہیں ہیں بلکہ یہ منافقوں کی خصلتیں ہیں اور گناہ کبیرہ ہیں لہٰذا جس طرح ایک مسلمان کو کفر و شرک اور تمام گناہ کبیرہ سے بچنا ضروری ہے اسی طرح ایک مسلمان کو ضروری ہے کہ منافقوں کے خصائل اور منافقانہ اعمال و کردار کی گندگی اور پلیدی سے بھی جو یقینا رذائل ہیں اپنے آپ کو بچائے رکھے۔
فوائد و مسائل:{۱}اس بات پر تمام علماء ِامت کا اجماع و اتفاق ہے کہ یہ چاروں خصلتیں اگرچہ منافقوں کے خصائل اور نفاق کی علامتیں ہیں مگر اس کے باوجود اگر کسی صادق الایمان مسلمان میں یہ چاروں خصلتیں پائی جائیں تو اس کے بارے میں یہ کہنا تو درست ہے کہ اس شخص میں منافقوں کی عادتیں اور علامتیں پائی جاتی ہیں لیکن یہ ہرگز ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ یہ شخص منافق ہوگیا ،کیوں !اس لئے کہ کسی شخص میں منافق کی عادت و علامت کا پایا جانا اور بات ہے اور اس شخص کا منافق ہوجانا یہ اور بات ہے۔
اسکی مثال یوں سمجھئے کہ ایک سید کا بچہ آکر کھیت میں سے گنا چرا کر اور خاک دھول میں لوٹ پوٹ اور کیچڑ میں لت پت ہو کر آیا اوراس کے باپ نے اس کوڈانٹتے ہوئے یہ کہا کہ تیرے اندر تو چَماروں کی خصلتیں اور عادتیں پائی جارہی ہیں ۔ تو چَماروں کی خصلتیں بچے میں پائے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ’’سید‘‘کا بچہ’’چَمار‘‘ہوگیا۔ اسی طرح اگر کسی مسلمان میں منافقوں کی عادتیں پائی گئیں تو اُس سے اس مسلمان کا منافق ہونا لازم نہیں آتا ۔{۲}بعض شُرَّاحِ حدیث کا قول ہے کہ یہ ارشاد نبوی ان منافقوں کے بارے میں ہے جو زمانہ نبوت میں تھے جو سب کے سب منافق اعتقادی بھی تھے۔چنانچہ حضرت عبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماوغیرہ نے فرمایا کہ ہم لوگوں نے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسکرا کر فرمایا کہ میں نے جو یہ چاروں خصائل بیان کئے ہیں وہ ان منافقوں کے بارے میں ہیں جن کے بارے میںاِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰـفِقُوْنَ(3) کی سورہ نازل ہوئی ہے۔ کیا ان لوگوں کی جو حالت ہے وہی تمہاری بھی ہے ؟ تو ہم لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں تو ارشاد فرمایا کہ یہ حدیث تمہارے متعلق نہیں ہے تم اس سے بری ہو۔ (4) (عینی،ج۱،ص۲۵۹)مذکورہ بالا روایت کی بناء پر حدیث مذکور میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلامنے اپنے زمانے کے منافقوں کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں کہ ان لوگوں میں خیانت،جھوٹ،دغا، بدزبانی کی بُری عادتیں اور گندی خصلتیں ہیں ۔
بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ چاروں عادتیں بد سے بدتر خصلتیں ہیں لہٰذا ان گندی عادتوں سے ہر مسلمان کو بچنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایک مومن کے اندر منافقوں کی علامتوں اور نشانیوں کا پایا جانااس کے دامن ایمان پر اتنا گندہ اور گھِنائونا دھبَّہ ہے کہ بغیر توبہ و ترک کے ساتوں سمندر بھی اس کو دھو نہیں سکتے ۔
اب ان چاروں علاماتِ نفاق کی کچھ تفصیل بھی ملاحظہ فرمالیجئے۔
امانت میں خیانت:پہلی علامت نفاق امانت میں خیانت کرنی ہے یاد رکھئے کہ امانت ہر وہ چیز ہے جو کسی کی طرف سے کسی کو بغرض حفاظت سونپی جائے ۔امین امانت رکھنے والے کی اجازت کے بغیر اور اس کے مَنْشا کے خلاف امانت میں جو تَصَرُّف بھی کرے گا وہ خیانت کہلائے گی۔
اس سلسلے میں یہ بھی ملحوظ ِ خاطر رکھنا چاہئے کہ امانت صرف روپے پیسے یا سامانوں ہی کی نہیں ہوا کرتی بلکہ بات،راز ،ذمہ داری وغیرہ بھی امانت ہیں مثلًاآپ سے کسی نے کوئی راز کی بات کہہ دی اور آپ سے اُس نے یہ بھی کہہ دیا کہ خبر دار ! یہ بات امانت ہے آپ اس کو کسی سے ذکر نہ کریں تو یہ بات بھی امانت ہوگئی اور آپ اس کے امین ہوگئے۔ اگر آپ نے اس بات کو کسی سے کہہ دیا تو آپ نے امانت میں خیانت کی۔
اسی طرحاللّٰہ تعالیٰنے اپنے بندوں کو مال ،عقل،اختیار،آنکھ ،کان،ہاتھ، پائوں وغیرہ جسمانی اعضاء اور قسم قسم کی طاقتیں سونپ کر حکم دیا ہے کہ میری ان امانتوں کو میرے حکم کے مطابق استعمال کرناتو ان سب امانتوں میں بھی اگر خداوندی حقوق کو نہیں ادا کیا ہے تو یہ بھی خیانت ہی کہلائے گی۔
اسی لئے قرآن مجید میں ربُّ العالمین کا فرمان ہے کہاِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًاo(5)یعنی کان، آنکھ، دل ہر چیز کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی کہ خدا کی ان امانتوں میں کوئی خیانت تو نہیں ہوئی۔
حضورعلیہ الصلوۃ والسلامنے فرمایا کہ’’اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ‘‘ (6) یعنی جس شخص سے کوئی مشورہ لیا جائے وہ اَمین ہو جاتا ہے۔اگر اس نے جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا تو وہ خیانت کرنے والا کہلائے گا۔
غرض ’’خیانت ‘‘کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔تمام حقداروں کے حقوق بھی امانت ہیں ، کسی حقدار کا حق نہ ادا کرنا بھی امانت میں خیانت ہے،بستر ِجماع پر میاں بیوی کی گفتگو اور معاملات یہ بھی امانت ہیں اور میاں بیوی ایک دوسرے کے امین ہیں اگر کسی نے اس راز کو فاش کردیا تو یہ بھی امانت میں خیانت کہلائے گی ،ملازم اپنی ڈیوٹی کا، حاکم رعیت کے ساتھ اپنے فرائض کا اَمین ہے ۔اگر ملازم نے اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کی یا حاکم نے ظلم کیا تو یہ بھی امانت میں خیانت ہے ۔غرض امانت میں خیانت کی بہت سی صورتیں ہیں اور ہر قسم کی امانت میں خیانت حرام وگناہ ہے۔قرآن کریم میں غفور رحیم کاارشاد ہے کہیٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰہ وَالرَّسُوْ لَ وَتَخُوْنُوْآ اَمٰـنٰـتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo(7)
یعنی اے ایمان والو ! تماللّٰہورسول کے ساتھ خیانت مت کرو اور اپنے آپ کی امانتوں میں بھی خیانت مت کرواور تم جانتے ہو۔
جھوٹ: یہ بہت ہی ملعون عادت ،سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔قرآن مجید میںاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰذِبُوْنَo(8)کہیں مشرکوں کی صفت بتائی گئی، کہیں کافروں کی،کہیں منافقوں کی ،کہیں فاسقوں کی۔
بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ ’’تم لوگ اپنے کو جھو ٹ سے بچائے رکھو اس لئے کہ جھوٹ بدکاری کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور بدکاری جہنم میں کھینچ کر لے جاتی ہے اور آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کا مُتَلاشی رہتا ہے یہاں تک کہ دفتر ِخداوندی میں وہ ’’کَذَّاب ‘‘لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (9) (مشکوٰۃ،باب حفظ اللسان)
ایک حدیث میں ہے کہ حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کسی نے سوال کیا کہ کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے ؟ حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’ہاں ‘‘پھر اس نے عرض کیا کہ مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟ارشاد فرمایا کہ’’ ہاں ‘‘پھر اُس نے دریافت کیا کہ کیا مومن جھوٹا ہوسکتاہے ؟ تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ’’ نہیں ‘‘۔ (10) (مشکوٰۃ،باب حفظ اللسان)
عہد شِکَنی: کسی سے کوئی معاہدہ یاوعدہ کرکے بلا کسی عذر شرعی کے اس معاہدہ اور وعدہ سے پھر جانایہ عہد شِکَنی اور دغا بازی ہے جو شرعًا حرام و گناہ ہے ۔قرآن مجید میں حق جَلَّ مَجْدُہٗ کا فرمان ہے کہیٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ(11)یعنی اے ایمان والو اپنے عہدوں اور وعدوں کو پورا کرو۔
واضح رہے کہ جس طرح کسی مخلوق سے عہد شکنی حرام وگناہ ہے اسی طرح اپنے خالق و مالکاللّٰہ تعالیٰسے بھی عہدشِکْنی و بد عہدی اس سے کہیں بڑھ کرحرام و گناہ ہےاللّٰہ تعالیٰنے ہر انسان سے اپنی تو حید کے اقرار کا عہد لیا ہے اور علماء ِکرام سے خصوصی طور پر یہ عہد لیا ہے کہ وہ کبھی بھی اور کسی حال میں بھی حق کو نہ چھپائیں اس لئے جو مسلمان یا علمائے کرام اپنی کسی دنیاوی مَصْلَحَت کی بناء پر مشرکین کی خوشنودی کے لئے شرک کے کام کر بیٹھتے ہیں یا کلمۂ حق کو چھپاتے یا اس کو بیان کرنے سے سکوت کرتے ہیں وہ بھی عہدشِکْنی اور خدا کے ساتھ دغا کرنے کے مجرم ہیں ۔
گالی: گالی گلوچ اور بدگوئی و بد زبانی خصوصا ًاپنے مسلمان بھائی کے ساتھ انتہائی قبیح خَصلت اور نہایت ہی مَعیوب اور گھِنائونی عادت ہے۔گالی گلوچ تو کُجا کسی مسلمان سے اس طرح کی ہنسی مذاق کرناجس سے اس کی دل آزاری ہو یا کسی مسلمان کو ایسے القاب سے یاد کرنا جس سے اس کو ایذا پہنچتی ہو خداوند ِعالَم نے قرآن مجید میں اس کو حرام قرار دیا ہے ۔سورۂ حُجُرات کی اس آیت کو نگاہِ عبرت سے دیکھئے اور منافقانہ سیرتوں اور فاسقانہ عادتوں سے توبہ کیجئے ۔ارشاد خداوندی ہے کہیٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(12)oاے ایمان والو! نہ مرد مردوں کا مذاق اڑائیں عجب نہیں کہ وہ ہنسی اڑانے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے ہنسی ٹھٹھا کریں ہوسکتا ہے کہ ان ہنسنے والیوں سے وہ بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ مت مارو اور نہ ایک دوسرے کے بُرے نام رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں وہی لوگ ظالم ہیں ۔
عبرت:اللّٰہاکبر! جب کسی مومن سے اس قسم کامذاق بھی جائز نہیں ہے جس سے اُس کی دل آزاری ہو تی ہو اور نہ کسی مومن کو ایسے بُرے القاب سے پکارنا جائز ہے جس میں اس کی اہانت کا پہلو ہو تو پھر بھلا کسی مومن کو گالیاں دینا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہسَبَابُ الْمُسْلِمِ فُسْوقٌ وَقِتاَلُہٗ کُفرٌ(13)یعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فِسْق ہے اور کسی مسلما ن سے جنگ کرنا یہ کافروں کا کام ہے۔ بہر حال کسی مسلمان کو گالیاں دے کر یا اس کے سامنے بیہودہ الفاظ زبان سے نکال کر ایذا دینا،یہ منافقوں کی خَصلت اور منافقوں کا طریقہ ہے ۔گالی دینا،بیہودہ بکنا،فُحش کلامی کرنا ،ہرگز ہرگز مومن کا کام اور مومن کی خصلت نہیں ہے۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین،فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۵[2] ترجمہء کنز الایمان:بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں ۔ (پ۵،النسآء:۱۴۵)[3] ترجمہء کنز الایمان:جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں ۔(پ۲۸،المنافقون:۱)[4] عمدۃ القا ری،کتاب الایمان،باب علامات ا لمنافق، تحت ا لحدیث:۳۳،ج۱،ص۳۳۰ملخصاً[5] ترجمہء کنز الایمان:بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے ۔ (پ۱۵، بنی اسرائیل :۳۶)[6] سنن الترمذی،کتاب الادب،باب ماجاء ان المستشار مؤتمن، الحدیث: ۲۸۳۱،ج۴،ص۳۷۵[7] ترجمہء کنز الایمان:اے ایمان والواللّٰہورسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (پ۹،الانفال:۲۷)[8] ترجمہء کنز الایمان:وہی جھوٹے ہیں ۔ (پ۱۴،النحل:۱۰۵)[9] مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ،الحدیث:۴۸۲۴،ج۲،ص۱۹۱[10] مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث: ۴۸۶۲،ج۲،ص۱۹۶[11] ترجمہء کنز الایمان:اے ایمان والو اپنے قول پورے کرو۔ (پ۶،المائدۃ:۱)[12] ترجمہء کنز الایمان:اے ایمان والو نہ مَرد مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہوکر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں ۔(پ۲۶،الحجرٰت:۱۱)[13] مشکاۃالمصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ،الحدیث:۴۸۱۴،ج۲،ص۱۹۰
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 6