- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 35
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکَ نَفَسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ (صحیح مسلم،کتاب البر۔۔۔الخ،باب فضل من یملک نفسہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۰۸،ص۱۴۰۶)
عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لیس الشدید بالصرعۃ انما الشدید الذی یملک نفسہ عند الغضب (صحیح مسلم،کتاب البر۔۔۔الخ،باب فضل من یملک نفسہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۶۰۸،ص۱۴۰۶)
حدیث ترجمہ
حضرت ابو ہریر ہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرما یا کہ لوگوں کو پچھاڑ دینے والا پہلوان نہیں ہے پہلوان تو وہی ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کا مالک ہے۔
شرح حدیث
شرحِ حدیث: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اس شخص کو بہت ہی طاقتور اور ’’پہلوان‘‘ سمجھتے ہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے اور لوگ اس کو نہ پچھاڑ سکیں لیکناللّٰہو رسول کے نزدیک بہت زیادہ طاقتور اور پہلوان وہ شخص ہے کہ اگر چہ وہ کسی کو پچھاڑ نہیں سکتا لیکن اس میں قُوَّتِ حِلْم اور طاقت ِبرداشت کا اتنا عظیم خزانہ ہو کہ وہ شدتِ غیظ و غضب کی حالت میں بھی اپنے نفس پر پوراپورا کنٹرول اور قابو رکھتا ہو اور غصہ کی حالت میں بھی اس سے کوئی ایسا فعل صادرنہ ہو جو عقل یا شریعت کے خلاف ہو بلکہ عین غضب کی حالت میں بھی اس کے غصہ کے جوش پر اس کا ہوش غالب رہتا ہو جس کی و جہ سے وہ کوئی خلاف شریعت حرکت نہ کرسکے اس لیے لوگوں کو پچھاڑنے والا نہ تو شریعت کی نگاہ میں کوئی قابل تعریف کارنامہ انجام دینے والاہے نہ دنیا و آخرت میں کسی مدح و ثنا کا مستحق اور اجر و ثواب کا حقدار ہے ۔مگر عین حالت غیظ و غضب میں جو شخص اپنے نفس پر کنٹرول اور قابو رکھے اور اس طرح اپنے نفس اَمّارہ پر غالب ہو کر اس کو دبائے رکھے کہ گناہ کا صادر ہونا تو بڑی بات ہے اس کے حاشیۂ خیال میں کسی گناہ کا تصور بھی نہ گزرے۔ یہ شریعت کی بارگا ہ میں یقینا دنیا و آخرت کے اندر لائق ِصد تحسین و آفرین ہے اور دونوں جہان میں انعام و اکرام کے اجرو ثواب کے قابل ہے۔
جسمانی و روحانی طاقت: اس کا راز یہ ہے کہ کسی کو پچھاڑ دینایا بہت زیادہ بوجھ اٹھا لینا یا مضبوط چیزوں کو توڑ ڈالنا یہ سب جسمانی طاقتوں کے کارنامے ہیں مگر نفس پر کنٹرول اور شہوانی و غضبانی طاقتوں پر قابو پالینا یہ ’’روحانی طاقت ‘‘کا کرشمہ ہے اور یہ آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت ہے کہ روحانی طاقت والا جسمانی طاقت والے سے بہت زیادہ باکمال اور طاقتور ہوا کرتا ہے ۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے کہا ہے کہ؎∞
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
غصہ:کسی خلاف طبیعت چیزیا بات پر نفس کا جوش مارنا ،اس کیفیت کا نام ’’غصہ ‘‘ ہے۔ غصہ بذات خود نہ اچھا ہے نہ بُرا بلکہ غصہ اپنے اچھے یا برے اثرات و ثمرات کے لحاظ سے اچھا یا بُرا ہوا کرتا ہے ۔اگر کسی انسان میں بالکل ہی غصہ کا مادہ ہی نہ ہو تو وہ انسان بہت سے انسانی کمالات سے محروم رہ جائے گایہاں تک کہ وہ اپنی جان و مال کی حفاظت کابھی اہل نہیں رہے گا۔ظاہر ہے کہ سانپ کو مارڈالنا ،چوروں اور ڈاکوؤں سے لڑنا،کفار سے جہاد کرنا،مجرموں کو سزائیں دینا یہ سب غصہ ہی کے کارنامے توہیں ۔اگر سانپ کو دیکھ کر آپ کو غصہ نہ آئے بلکہ اس پر پیار آجائے تو آپ سانپ کو دیکھ کر فوراً ہی اس کو اپنے کلیجے سے چمٹالیں گے اور اس کے چکنے چکنے منہ کا بوسہ لینا شروع کردیں گے اور وہ چند ہی منٹ میں آپ کو ’’عدم آباد‘‘کا ٹکٹ دے دیگا۔اور ذرا دیر میں نہ آپ ہندوستان میں رہیں گے نہ پاکستان میں بلکہ بغیر ویزا پاسپورٹ کے آپ ’’قبرستان ‘‘ میں پہنچ جائیں گے۔یہ غضبی قوت اورغصہ کی طاقت ہی کا کرشمہ توہے کہ آپ سانپ کو مار کر اپنے سرمایۂ حیات کی حفاظت کا سامان کرلیتے ہیں ۔آپ کو اپنے دشمنوں پر غصہ آتا ہے اسی لیے تو کیسے کیسے خوفناک ہتھیار اور ان کی گرفتاری کے لیے کیسے کیسے تیز رفتار ہوائی جہاز اور راکٹ آپ نے ایجاد کیے ہیں ۔یہ ساری جنگی ایجادات حضرت غصہ ہی کے طفیل تو ہیں جن سے آج دنیا میں چہل پہل ہے ۔اگر موسموں کے مظالم، جاڑا گرمی اور بدن کی عریانی پر آپ کو غصہ نہ آتا تو یہ سینکڑوں قسم کی پوشاکیں کہاں سے تیارہوتیں ؟
بہرحال یہ عرض کرنا ہے کہ غصہ ہر انسان میں ہوناکمال انسانی کے لوازم میں سے ہے اور غصہ فی نفسہ اور بذات خود نہ اچھا ہے نہ بُرابلکہ غصہ اچھا اور بُرا اس و جہ سے ہوا کرتا ہے کہ بے محل غصہ آیااور اس کے برے اثرات ظاہر ہوئے مثلًا ایک ماں سے بچھڑے ہوئے بھوکے پیاسے دودھ پیتے بچے کی گریہ و بُکا اور اس کے رونے پر آپ کو غصہ آگیا اور آپ نے اس بچے کا گلا گھونٹ کر اس کو مارڈالا تو ظاہر ہے کہ رحمت و شفقت کے موقع پر آپ کا غصہ یقینا بے محل اور بے موقع ہے اور اس غصہ سے جو بے رحمی کا اثر ظاہر ہوا بلاشبہ وہ دُنیا و آخرت میں قابل ِمذمت ،لائق ِعذاب اور مخلوقات اور خالق ِکائنات کی ناراضگی کا سبب ہے اور اگر کسی خوفناک ڈاکو کو ڈاکہ ڈالتے وقت دیکھ کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے مارے غصہ کے دانت پیستے ہوئے بندوق چلا کر اس ڈاکو کا خاتمہ کردیا تو چونکہ آپ کا یہ غصہ بالکل برمحل اور عین موقع کے مطابق ہے کہ آپ نے ایک خطرناک ڈاکو کو قتل کرکے ہزاروں بندگانِ خدا کو سکون و اطمینان کی جنت دلادی لہٰذا آپ گورنمنٹ کے انعام ،پبلک کے اعزاز و اکرام اور خُداوند ِذوالْجَلال کی طرف سے اجر ِ لازوال کے مستحق ہوں گے۔
ایک مثال:گویا یوں سمجھ لیجئے کہ غصہ ایسا ہی ہے جیسے ’’استرہ ‘‘ظاہر ہے کہ اگر ’’استرہ ‘‘ سے حجامت بنائی جائے تو یہ بہت ہی اچھی چیز ہے اور اگر استرہ سے ناک کاٹ لی جائے تو یہ بہت ہی بُری چیز ہے۔تو ’’استرہ ‘‘بذات خود نہ اچھا ہے نہ برا بلکہ اگر اس سے اچھا کام لیا جائے تو یہ اچھا ہے اور اگر اس سے بُرا کام لیا جائے تو یہ بُرا ہے ۔بس غصہ بھی بالکل ایسا ہی ہے کہ اگر غصہ آنے پر اس غصہ سے کوئی اچھا کام ہوا تو یہ غصہ اچھا ہے اور اگر اس غصہ سے کوئی بُرا کام ہوا تو یہ غصہ بُرا ہے اس لیے نہ یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر غصہ اچھا ہے نہ یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر غصہ بُرا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غصہ اچھا بھی ہے اور بُرا بھی ۔
حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے کہ جو شخص غصہ کی حالت میں اپنے نفس پر کنٹرول رکھے کہ اُس کے غصہ سے کوئی خلاف شریعت کام نہ ہونے پائے وہ ’’پہلوان ‘‘کہلانے کا مستحق ہے اور ایسا آدمی دنیا و آخرت میں اجر و ثواب کا حقدار ہے کیونکہ اس کے غصہ سے کوئی بُرا کام نہیں ہوا لہٰذا اس کا غصہ بُرا نہیں ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 35