Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 34

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَجَابِرٍ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ وَکَیْفَ الْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: اِنَّ الرَّجُلَ لَیَزْنِیْ فَیَتُوْبُ فَیَتُوْبُ اللّٰہ عَلَیْہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَیَتُوْبُ فَیَغْفِرُ اللّٰہ لَہٗ وَاِنَّ صَاحِبَ الْغِیْبَۃِ لَا یُغْفَرُ لَہٗ حَتّٰی یَغْفِرَھَا لَہٗ صَاحِبُہٗ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۴۔۴۸۷۵، ج۲،ص۱۹۸)

عن ابی سعید وجابر قالا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الغیبۃ اشد من الزنا قالوا: یارسول اللہ وکیف الغیبۃ اشد من الزنا؟ قال: ان الرجل لیزنی فیتوب فیتوب اللہ علیہ وفی روایۃ فیتوب فیغفر اللہ لہ وان صاحب الغیبۃ لا یغفر لہ حتی یغفرھا لہ صاحبہ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۴۔۴۸۷۵، ج۲،ص۱۹۸)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو سعید و حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ غیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) ہے تو صحابہ نے کہا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) کس طرح ہے؟ تو حضور نے فرمایا کہ آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے تواللّٰہ تعالیٰاس کی توبہ قبول فرما کر اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو خداوند تعالیٰ اس وقت تک نہیں بخشے گا جب تک اس کو وہ شخص معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے۔

شرح حدیث

حضرت جابر: حضرت جابر بن عبداللّٰہانصاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت ہی مشہور صحابی ہیں ۔ ان سے بکثرت احادیث مروی ہیں ۔ان کی کنیت ابو عبداللّٰہہے۔ جنگ بدر اور اس کے بعد کی اٹھارہ لڑائیوں میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلامکے ساتھ شریک جہاد رہے شام اور مصر بھی تشریف لے گئے تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔مدینہ منورہ میں ۷۴ھ؁ کے سال، ۹۴ سال کی عمر پاکر وصال فرمایا ۔سب سے آخری صحابی جن کا مدینہ میں وصال ہوا وہ یہی جابر بن عبداللّٰہانصاری ہیں ۔ (1)رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ(اکمال)
فوائد و مسائل : غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو سب سے زیادہ کثیر الوقوع ہے۔ اور باوجود یکہ انتہائی سخت گناہ کبیرہ ہے یہاں تک کہ زنا سے بھی بدتر ہے مگر اس زمانے میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس گناہ سے محفوظ ہیں ۔عوام تو عوام جُہَّال تو جُہَّال بڑے بڑے علماء اور مشائخ اور عابد و زاہد لوگوں کا دامن اس گناہ سے آلودہ نظر آتا ہے۔ غضب یہ ہے کہ لوگ اس طرح غیبت کے عادی ہوگئے ہیں کہ گویا غیبت ان کے نزدیک کوئی گناہ کی بات ہی نہیں ہے شاید ہی کوئی مجلس ایسی ہوگی جواس گناہ کی نحوست سے خالی ہو۔
غیبت کیا ہے ؟: کسی کو غائبانہ بُرا کہنایا پیٹھ پیچھے اس کا کوئی عیب بیان کرنا یہی ’’غیبت‘‘ ہے ۔چنانچہ مشکوۃ شریف میں ایک حدیث ہے کہ خود حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ سے فرمایا کہ کیاتم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟صحابہ نے کہا کہاللّٰہاور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔حضور نے فرمایا تمہارا اپنے (دینی) بھائی کی اُن باتوں کو بیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے۔(یہی غیبت ہے) صحابہ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ اگر میرے (دینی) بھائی میں واقعی وہ باتیں موجود ہوں (تو کیا ان باتوں کو کہنا بھی غیبت ہوگی؟) تو حضور نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں ہوں گی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلاؤگے اور اگراس میں وہ باتیں نہ ہوں جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہوجاؤگے۔( جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے۔)(2) (مشکوٰۃ،باب حفظ اللسان،ص۴۱۲)
اور اگر کسی شخص کا کوئی عیب اس کو ذلیل کرنے کی نیت سے اس کے منہ پر کہدیا جائے تو یہ ’’اِیذا رَسانی ‘‘ہے اور غیبت و بہتان کی طرح یہ ’’ایذا رسانی ‘‘ بھی گناہ کبیرہ ہے ہاں اگر اصلاح کی نیت سے کسی کا کوئی عیب اس کے سامنے نصیحت کرتے ہوئے بیان کیا جائے تو یہ نہ غیبت ہے نہ بہتان نہ اِیذارَسانی بلکہ یہ
اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفاورنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکََریعنی نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکناہے اور بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟:حضرت علامہ ابو زکریا محی الدین بن شرف نَوَوِی (متوفی ۶۷۶؁ھ )نے مسلم شریف کی شرح میں فرمایا ہے کہ شرعی اَغراض و مَقاصد کے لئے کسی کی غیبت کرنا جائز اور مُباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں :
اول: مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا تاکہ اس کی داد رَسی ہوسکے۔
دوم: کسی شخص کو بُرائی سے روکنے کیلئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی برائیوں کا ذکر کرنا تاکہ وہ صاحب ِ اقتدار اپنے رُعْب داب سے اُس کو برائیوں سے روک دے۔
سوم: مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لیے کسی کے عُیوب پیش کرنا ۔
چہارم: مسلمانوں کو شر وفساد اور نقصان سے بچانے کے لیے کسی کے عیوب کو بیان کرنا مثلاً جھوٹے راویوں ، جھوٹے گواہوں ، بدمذہب مُصَنِّفوں اور واعِظوں کے جھوٹ اور بد مذہبی کو لوگوں سے بیان کردینا تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے محفوظ رہیں یا شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے عیوب کو بتادینا یا خریدار کو نقصان سے بچانے کے لئے سامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے باخبر کردینا ۔
پنجم: جو شخص علی الاعلان فِسْق و فُجور اور بدعادات و مَعْصِیات کا مرتکب ہو اس کے عیوب کو بیان کرنا ۔
ششم: کسی شخص کی شناخت اور پہچان کرانے کیلئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر کردینا ۔جیسے محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں اِمتیاز اور ان کی شناخت کے لیے اَعْمَش(چندھا) اَعْرَج(لنگڑا) اَعْمیٰ (اندھا) طویل (لمبا) وغیرہ عیوب کو ان کے ناموں کے ساتھ ذکر کردیتے ہیں جس کا مقصد ہرگز ہرگز نہ توہین و تَنْقِیْص ہے نہ اِیذا رَسانی بلکہ صرف راویوں کی شناخت اور ان کے تعارف کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔(3) (نووی علی المسلم،ص۳۲۲)

∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف الجیم،فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۹
[2] مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث: ۴۸۲۸،ج۲،ص۱۹۲[3] شرح صحیح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والادب،باب تحریم الغیبۃ، ج۲،ص۳۲۲

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 34