Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 27

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَیْنَ بَیْتِیْ وَمِنْبَرِیْ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِالْجَنَّۃِ وَمِنْبَرِیْ عَلٰی حَوْضِیْ (صحیح البخاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ، باب فضل مابین القبر والمنبر،الحدیث:۱۱۹۶،ج۱،ص۴۰۳)

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ما بین بیتی ومنبری روضۃ من ریاضالجنۃ ومنبری علی حوضی (صحیح البخاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ و المدینۃ، باب فضل مابین القبر والمنبر،الحدیث:۱۱۹۶،ج۱،ص۴۰۳)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ حضورنبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ زمین کا جو حصّہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان میں ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔

شرح حدیث

فوائد و مسائل:{۱}علامہ عینیعلیہ رحمۃ اللّٰہ الغنینے فرمایا کہ اس حدیث کی صحیح روایت یہی ہے۔ بعض روایتوں میں اس جگہ’’مَا بَیْنَ حُجْرَتِیْ وَمُصَلَّایَ‘‘ کا لفظ آیا ہے اور بعض روایتوں میں ’’مَا بَیْنَ قَبْرِیْ وَمِنْبَرِیْ‘‘بھی وارد ہوا ہے۔بہر حال تینوں روایتوں کا مدّعیٰ اور حاصل ایک ہی ہے۔{۲}یہ حدیث مختلف سندوں کے ساتھ بخاری شریف میں چند جگہ مذکور ہے صاحب ِ مجمع البحار اور علامہ عینی و علامہ ِکرمانیرحمہم اللّٰہ تعالیٰوغیرہ نے اس حدیث کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ یہاں دو احتمال ہیں ۔حدیث میں یا تو معنی حقیقی مُراد ہیں یا مجازی ۔معنی حقیقی تو یہ ہیں کہ یہ زمین کا ٹکڑا درحقیقت جنت ہی کا ایک ٹکڑا ہے اوریہ بعینہ ایک باغ بناکر جنت میں پہنچادیا جائے گااور یہ میرا منبر بعینہ حوضِ کوثر پر رکھ دیا جائے گا۔
اور معنی مجازی یہ ہیں کہ اس زمین کے ٹکڑے میں عبادت کرنا جنت میں جانے کا سبب ہے اور اس منبر کے پاس عبادت کرنا حوض کوثر سے سیراب ہونے کا ذریعہ ہے جیسا کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کہیں یہ فرمایا کہ
’’ ذکر کے حلقے جنّت کے باغ ہیں ‘‘ کہیں یہ فرمایا کہ ’’ جنّت تلوار کے سائے کے نیچے ہے ‘‘ یعنی ’’ ذکر الٰہی کے حلقوں میں بیٹھ کر عبادت کرنادخولِ جنت کا سبب ہے‘‘ اور ’’ تلوار کے سائے میں جہاد کرنا یا شہید ہونا جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے۔ ‘‘ یا معنی مجازی یہ ہیں کہ زمین کا یہ ٹکڑا جنت کے باغ کے مثل ہے کہ جس طرح جنت کے باغ میں ہر وقت رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا رہتا ہے اسی طرح اس زمین کے ٹکڑے میں بھی بہت زیادہ رحمت الٰہی نازل ہوا کرتی ہے۔
لیکن حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرّہ العزیز نے ’’لمعات شرح مشکوٰۃ‘‘ میں تحریر فرمایا کہ
علماء ِمحققین کا یہی قول ہے کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ کلام حقیقی معنی پر محمول ہے اور اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ زمین کا یہ ٹکڑا حقیقی معنوں میں جنت کے باغ کا ایک ٹکڑا ہے اور قیامت کے دن زمین کا یہ ٹکڑا بِعَینہ جنت میں پہنچادیا جائے گا اور روئے زمین کے دوسرے ٹکڑوں کی طرح یہ برباد نہیں کیا جائے گا۔ (1) (حاشیہ بخاری،ج۱،ص۱۵۹)
حضرت امام مالک
رحمۃاللّٰہ تعالیٰ علیہکا بھی یہی قول ہے اور علامہ ابن حجر نے بھی یہ فرمایا ہے کہ’’وَھٰذَا عَلَیْہِ الْاَکْثَرُ‘‘ یعنی اکثر علماء کا یہی مسلک ہے ۔ (2) (مرقاۃ)
اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اگر اس کلام کے معنی مجازی مراد ہوں یعنی اس زمین کے ٹکڑے کو جنت کا باغ کہنا اس معنی کرکے ہو کہ ’’اس میں عبادت کرنا جنت میں داخل ہونے کا سبب اور ذریعہ ہے‘‘یا’’یہ خیر و برکت میں مثل جنت کے ہے‘‘ تو پھر اس بات میں زمین کے اس ٹکڑے کی خصوصیت ہی کیا رہ جاتی ہے اس معنی میں تو ہر مسجد جنّت کا باغ ہے، ہر ذکرکی مجلس جنّت کا باغ ہے، ہر میدان جہاد جنت کا باغ ہے، پھر مقام مدح میں خاص طور پر اس زمین کے ٹکڑے کو ذکر کرنے کا کیا فائدہ۔
پھر ایک خاص بات یہ ہے کہ بعض علماء ِکرام نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ’’مدینہ منورہ ‘‘تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ افضل ہے۔ (حاشیہ بخاری،ص۱۰۹)
ظاہر ہے کہ یہ اِستدلال اُسی وقت درست ہوگا جبکہ اس کے حقیقی معنی مُراد لیے جائیں کہ مدینہ کا یہ ٹکڑا چونکہ جنت ہی کا ایک ٹکڑا ہے اور مدینہ منورہ کے سوا دنیا بھر کے کسی شہر میں بھی ایسا کوئی زمین کا ٹکڑا نہیں ہے اس لیے مدینہ منورہ تمام شہروں سے اس خصوصیت کے لحاظ سے افضل و اعلی ہے ۔ورنہ معنی مجازی کے لحاظ سے آپ پڑھ چکے کہ بہت سے مقامات اور جگہیں جنت کا باغ ہیں ۔
اسی طرح علامہ خطّابی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کا مقصد لوگوں کو مدینہ منورہ کی سکونت پر ترغیب دلانا ہے۔ (3) (حاشیہ بخاری،ص۹۷۵)
ظاہر ہے کہ لوگوں کو مدینہ منورہ میں سکونت کی رغبت اسی وقت زیادہ ہوگی جب لوگ یہ سمجھیں گے کہ واقعی حضور کے منبر اور قبر انور کے درمیان میں زمین کا ٹکڑا حقیقت میں اور حقیقی طور پر جنت کا باغ ہے ورنہ محض اتنی سی بات سے کیا رغبت حاصل ہوگی کہ وہاں عبادت کرنے سے جنّت ملے گی یا وہاں جنت جیسی خیر و برکت ہے کیونکہ اتنی سی بات تو دُنیا میں اور بھی بہت سی جگہوں میں پائی جاتی ہے۔
بہر حال محققین کے قول کے مطابق اس حدیث کے یہی معنی راجح ہیں کہ ہر شخص کو یہ ایمان رکھنا چاہئے کہ منبر اور قبر انور کے درمیان کی زمین واقعی،سچ مُچ اور حقیقت میں جنت کا باغ ہے اور قیامت میں یہ زمین کا ٹکڑا مدینہ منورہ سے اُٹھا کر جنت میں پہنچادیا جائے گا۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔

∞ [1] حاشیۃ صحیح البخاری،ج۱،ص۱۵۹،مطبوعہ کراچی
وعمدۃ القاری،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ، باب فضل مابین القبر والمنبر، تحت الحدیث:۱۱۹۵،ج۵،ص۵۷۶
[2] مرقاۃ المفا تیح،کتاب الصلاۃ،باب المساجدومواضع الصلاۃ،تحت الحدیث:۶۹۴، ج۲،ص۳۹۸[3] حاشیۃ صحیح البخاری،ج۲،ص۹۷۵،مطبوعہ کراچی

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 27