Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 11

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:ثَلٰثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ حَلَاوَۃَ الاِْیْمَانِ اَنْ یَّکُوْنَ اللّٰہ وَرَسُوْلُہٗ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِوَاھُمَا وَاَنْ یُّحِبَّ الْمَرْئَ لَا یُحِبُّہٗ اِلَّا لِلّٰہِ وَاَنْ یَّکْرَہَ اَنْ یَّعُوْدَ فِی الْکُفْرِکَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُّقْذَفَ فِی النَّارِ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حلاوۃ الایمان، الحدیث:۱۶، ج۱،ص۱۷)

عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:ثلث من کن فیہ وجد حلاوۃ الایمان ان یکون اللہ ورسولہ احب الیہ مما سواھما وان یحب المرئ لا یحبہ الا للہ وان یکرہ ان یعود فی الکفرکما یکرہ ان یقذف فی النار ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب حلاوۃ الایمان، الحدیث:۱۶، ج۱،ص۱۷)

حدیث ترجمہ

حضرت اَنسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پائے گا{۱}جس کواللّٰہو رسول ان دونوں کے ماسوا (سارے جہان ) سے زیادہ مَحبوب ہوں ۔{۲}اور جو کسی آدمی سے خاصاللّٰہہی کے لئے محبت رکھتا ہو{۳}اور جو اسلام قبول کرنے کے بعد پھر کفر میں جانے کو اتنا ہی بُرا جانے جتنا آگ میں جھونک دئیے جانے کو بُرا جانتا ہے۔

شرح حدیث

شرحِ حدیث:اس حدیث کاحاصل مطلب یہ ہے کہ جس طرح’’شکر‘‘اور چیز ہے اور ’’شکرکی مٹھاس ‘‘اور چیز ہے اسی طرح ایمان اور چیز ہے ا ور ایمان کی لذت اور چیزہے۔جس شخص کے منہ کا ذائقہ بالکل درست ہو اگر وہ شکر کھائے گا تو اس کو شکر کی مٹھاس کا لُطف و مزہ بھی محسوس ہوگا لیکن اگر کوئی صَفْر اوی بخار کا مریض جس کے منہ کا ذائقہ بگڑ کر تلخ ہوچکا ہو اگر وہ شکر کھائے گا تو اس کو شکر کی مٹھاس محسوس نہیں ہوگی۔ ظاہر ہے کہ پہلا شخص تو شکر کھانے والا بھی کہلائے گا اور شکر کی لذت پانے والا بھی ہوگا اور دوسرا شخص اگرچہ شکر کھانے والاتو کہلائے گا مگر شکر کی مٹھاس کی لذت سے محروم ہوگا۔
بس بالکل یہی مثال ایمان کی ہے جوشخص کلمہ پڑھ کر مومن ہوگیا اور ایمان کے بعد اس میں تین خَصْلَتیں پیدا ہوگئیں تو وہ شخص ایمان کی مٹھاس یعنی ایمانی لذت کا لُطف و مزہ بھی پالے گااور جس شخص میں یہ تینوں خصلتیں نہیں پیدا ہوئیں تو وہ شخص اگرچہ صاحب ایمان تو ہوگامگر ایمان کی مٹھاس یعنی ایمان کی لذت خاص کے لطف و مزہ سے مَحروم رہے گا۔
وہ تین چیزیں جن پر ایمان کی مٹھاس اور لذت کا پایاجانا مَوقوف ہے وہ کون کون ہیں اب ان کی کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیے اور انتہائی جذبۂ اخلاص کے ساتھ انتہائی جدوجہد اور پوری پوری کوشش کیجئے کہ آپ میں یہ تینوں خصلتیں پیدا ہوجائیں تاکہ آپ ایمان کی مٹھاس یعنی ایمان کی لذت ِ خاص سے لطف اندوز ہوسکیں ۔
اللّٰہو رسول کی محبت:اللّٰہو رسولعَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت کا سارے عالَم سے بڑھ کر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مومن کے دل کی گہرائیوں میںاللّٰہو رسول کی محبت اس طرح گھر کر جائے اور اس قدر مضبوط و مستحکم ہوجائے کہ اپنے آباء و اَجداد،اَزواج و اَولاد ،مکان ودکان، مال وسامان،جسم و جان یہاں تک کہ سارے جہان کواللّٰہو رسول کی راہ میں قربان کردینے کا سچا جذبہ پیدا ہوجائے ۔
علا مہ قاضی عیاض
رحمۃ اللّٰہ علیہنے فرمایا کہ رسول کی محبت کا مطلب یہ ہے کہاللّٰہ تعالیٰاور اس کے رسول کی فرمانبرداری میں ایسی استقامت اور اوامرونواہی کی تعمیل میں ایسا اِلْتِزام ہو کہ کسی حال میں بھی جذبۂ استقامت اور جوشِ اِلْتِزام مُتَزَلْزَل نہ ہو۔ (1)
حُبٌّ فی
اللّٰہ:صوفیاء کرام نے فرمایا ہے کہ ’’حب فیاللّٰہ‘‘اور ’’بغض للہ ‘‘یعنیاللّٰہہی کے لئے دوستی اوراللّٰہہی کے لئے دشمنی یہ تَصَوُّف کی جان ہے ۔ایک مومن کے کامل ایمان کی یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے کہ وہ اگر کسی سے دوستی کرتا ہے تو اپنی کسی غرضِ نفسانی کے لئے نہیں بلکہ خالص رضائے الٰہی کے لئے دوستی کرتا ہے اور اگر وہ کسی سے دشمنی رکھتا ہے تومَحضاللّٰہکی رِضااور اس کی خوشْنودی کے لئے دشمنی رکھتاہے ۔مثلًا ہم لوگ انبیاء، صِدِّیقین ،شہدا اور صالحین سے جو محبت رکھتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ یہ لوگ ہما رے رشتہ دار ہیں یا یہ لوگ ہما ری مالی امداد کرچکے ہیں بلکہ صرف اس لیے ہم ان حضرات سے محبت کرتے ہیں کہ یہ لوگاللّٰہکے محبوب بندے ہیں ۔
اور اگر ہم ابو جہل ،ابو لہب اور دوسرے کافروں یا منافقوں یا بد مذہبوں سے بغض رکھتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ ان لوگوں نے ہم لوگوں کو مارا پیٹا ہے یا ہم لوگوں کا مال واسباب لوٹ لیا بلکہ ہم ان ظالموں سے صرف اس لیے دشمنی رکھتے ہیں کہ یہ
اللّٰہکے دشمن ہیں ۔اللّٰہہی کے لئے دوستی اوراللّٰہہی کے لئے دشمنی ،اسی کا دوسرا نام اِخلاص ہے مومن کے لئے ہر عمل میں اخلاص و لِلّٰہیت کا جذبہ رکھنا یہ ایمان کی لذت پالینے کی دوسری شرط ہے اور یاد رکھئے کہ مومن کے جذبۂ اِخلاص کی وہ طاقت ہے کہ اس کی روحانی توانائیوں کے مقابلہ میں ہزاروں شیطانوں کی طاغوتی طاقتیں لرزہ براَندام رہتی ہیں ۔ شیطان خود ہی خدا کے دربار سے یہ کہہ کر نکلاہے کہاِلَّاعِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَo (2)یعنی اےاللّٰہ! میں قیامت تک اولادِ آدم کو گمراہ کرتا رہوں گامگر تیرے اخلاص والے بندوں پر میرا جادو نہیں چل سکے گا۔
حکایت:
اللّٰہاکبر ! اِخلاص کی طاقت کا کیا کہنا ! بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ایک عابد کو پتہ چلا کہ فلاں جنگل میں ایک درخت کو لوگ پوجتے ہیں ، عابد کو لوگوں کے اس شرک پر بڑا جلال اور بے حدغصہ آگیا ۔جوشِ جہاد سے سَرشار ہو کر عابد نے ایک کلہاڑی لی اور یہ عَزْم کرکے چل پڑا کہ میں اس درخت کو جڑ سے کاٹ کراس شرک کی جڑ ہی کاٹ دوں گا۔ مگر ابھی چندہی قدم چلا تھا کہ شیطان ایک پہلوان کی شکل میں سامنے آگیا اور کہنے لگاکہ کہاں چلے ؟عابد نے کہا کہ میں جنگل میں فلاں درخت کو کاٹنے کے لئے جارہا ہوں ۔شیطان نے کہا کہ میں اُس درخت کا نگہبان ہوں بھلا تمہاری مَجال ہے کہ تم اس درخت کو کاٹ سکوگے عابد جوشِ جہادمیں شیطان سے لڑپڑا اور شیطان کو زمین پر پچھاڑ کر اس کے سینے پر سوار ہوگیا اور شیطان بالکل ہی عاجز و لاچار ہوگیا ۔جب شیطان ہار گیا تو عابد سے کہنے لگا: بھائی! میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں تم اس درخت کو مت کاٹو ،اس درخت کے کاٹنے سے تم کو کیا فائدہ ہوگا خواہ مخواہ تھک جاؤگے اور رات کو نمازِ تہجد بھی نہ پڑھ سکو گے،تم اس درخت کو کاٹنے کے خیال سے باز آجاؤمیں اس کے بدلے میں روزانہ تم کوایک اشرفی دیا کروں گا،خود بھی آرام سے کھانا پینا اور اس میں سے فقراء اور مساکین کو صدقہ بھی دیتے رہنا اور انتہائی اطمینانِ قلب کے ساتھ خدا کی عبادت میں مشغول رہنا۔عابد پر شیطان کا جادو چل گیا اور روزانہ ایک اشرفی کا نام سن کر اُس پر لالچ کا بھوت سوار ہوگیا۔ عابدنے وعدہ کرلیاکہ جائو میں اب اس درخت کو نہیں کاٹو ں گا ۔چنانچہ چند دنوں تک تو شیطان عابد کے پاس روزانہ ایک اشرفی پہنچاتا رہا لیکن پھر ایک دم بند کردیا ۔جب کئی دنوں تک اشرفی نہیں آئی تو عابد کو بڑا غصہ آیا کہ کم بخت شیطان نے مجھے دھوکہ دیا،پھر کلہاڑی اٹھائی کہ چل کر درخت کاٹ ڈالوں ۔ چنانچہ گھر میں سے نکلا ہی تھا کہ شیطان بصورتِ پہلوان سامنے آگیا اور راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔اور عابد سے کہنے لگا کہ خبر دار ! تم اس درخت کو کبھی ہرگز ہر گز نہیں کاٹ سکتے ۔عابدنے تڑپ کر کہا کہ میں ضرور کاٹوں گا یہاں تک کہ دونوں ُگتھم گُتھَّا ہوگئے مگر اب کی مرتبہ شیطان نے اس زور سے عابد کو زمین پر دے مارا کے عابد کا سارا اَنجَر پَنجر ڈھیلا ہوگیا اور شیطان عابد کے سینے پر سوار ہوگیا ۔
عابد لاچار ہو کر کہنے لگا کہ یار! میں سمجھ نہیں سکا کہ پہلے دن تو میں نے بہت ہی معمولی زور لگا کرتمہیں پچھاڑدیا تھا مگر آج میں اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود تمہاری پیٹھ نہیں لگا سکا بلکہ خود ہی چت ہوگیاآخر معاملہ کیا ہے ؟اُس وقت شیطان نے کہا کہ میاں جی ! ہوش کی دو ا کرو ۔ پہلی مرتبہ جو تم درخت کاٹنے چلے تھے تو صرف خدا کی رضا جوئی اور اخلاص کی نیت لے کر چلے تھے اس لیے میں تم پر قابو نہیں پاسکا تھا کیونکہ میں ہمیشہ خدا کے مخلص بندوں ہی سے عاجز و لاچار رہتا ہوں ۔مگر اب کی مرتبہ تم اخلاص کے ساتھ درخت کاٹنے کے لئے نہیں چلے تھے بلکہ اس غصہ میں چلے تھے کہ تم کومیں نے اشرفی نہیں دی تھی۔ سن لو!جب تک تمہارے اندر اخلاص کی طاقت کار فرما تھی میں تم سے عاجز تھا اب جبکہ اخلاص کی طاقت سے تم محروم ہوگئے تو اب قیامت تک تم مجھ پر کبھی غلبہ نہیں پاسکوگے۔ (3)
کفر آگ میں جانے کے برابر: تیسری چیز جس پر ایمان کی لذت و حَلاوَت کا پایا جانا موقوف ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کفر سے اتنا ہی بیزار اور مُتَنَفِّر ہو جتنا کہ آگ کے شعلوں میں ڈالے جانے سے بیزار و مُتَنَفِّر رہتا ہے ۔مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی انسان کبھی کسی حالت میں بھی اس کو گوارا نہیں کرسکتا کہ کوئی اس کو جلتی ہوئی آگ کے شعلوں میں جھونک دے اسی طرح کسی حالت میں بھی ایک سچا مومن کفر کرنے کو کبھی ہرگز ہرگز گوارا کر ہی نہیں سکتا۔کفر کرنا اور آگ میں داخل ہونا دونوں اس کے نزدیک برابر ہوں ۔جب کسی مومن کو کفر سے اتنی نفرت اور بیزاری پیدا ہوجائے تو اس کو حلاوت ِ ایمان کا مزہ نصیب ہوجائے گا۔
اللّٰہ تعالیٰہر مومن کو حلاوتِ ایمان کی لذت سے لطف اندوز فرمائے (آمین)
فوائد و مسائل:
{۱}یہ حدیث مسلم شریف، ترمِذی شریف، نَسائی شریف میں بھی مذکور ہے ۔{۲}اگر کسی مسلمان کوکافروں نے کفر کرنے پر اس طرح مجبور کردیا کہ اس کو اپنی جان کا خطرہ یقینی طور پر نظر آنے لگاتو اگرچہ قرآن کے حکماِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّمبِالْاِیْمَانِ(4)سے اس مسلمان کے لئے یہ رخصت ہے کہ وہ کفر کی بات زبان سے کہہ دے بشرطیکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو لیکن اگر وہ مسلمان اس حالت میں بھی کفر کی بات زبان پر نہ لائے اور جان دے دے تو بلا شبہ وہ بہت ہی افضل و اعلیٰ درجے کی شہادت سے سرفراز ہوگا۔چنانچہ صحابہ کرام اور بہت سے شہدائے اسلامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکا یہی اسوۂ حسنہ ہے کہ ان خاصان خُدا کو جب کافروں نے کفر کرنے پر مجبور کردیا اور ان کی گردنوں پر تلواریں رکھ دیں تو ان حضرات نے اپنی جانیں قربان کردیں مگر کفر کی بات اپنی زبانوں پر نہیں لائے بلکہ دین ِ اسلام پر استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے اپنے خون کا آخری قطرہ اور اپنی زندگی کی آخری سانس خدا کی راہ میں قربان کرکے شہادت کے اِعزاز سے سرفراز ہوگئے۔ سبحان اﷲ∞؎∞
بناکر دند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را

∞ [1] الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی،الجزء الثانی،القسم الثانی، الباب الثانی فی لزوم محبتہ، ص۲۴،مأخوذاً
[2] ترجمہ کنز الایمان:مگر جو اُن میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں ۔ (پ۲۳،صٓ :۸۳)[3] احیاء علوم الدین،کتاب النیۃ والاخلاص والصدق، ج۵، ص۱۰۴،۱۰۵[4] ترجمہء کنز الایمان:سوا اسکے جو مجبور کیا جا ئے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو ۔ (پ۱۴،النحل:۱۰۶)

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 11