- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 10
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَیْنِ فَقَالَ: اِنَّھُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِیْرٍ اَمَّا اَحَدُھُمَا فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَاَمَّا الاٰخَرُ فَکَانَ یَمْشِیْ بِالنَّمِیْمَۃِ ثُمَّ اَخَذَ جَرِیْدَۃً رَطَبَۃً فَشَقَّھَا بِنِصْفَیْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہ لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟فَقَالَ:لَعَلَّہٗ اَن یُّخَفَّفَ عَنْھُمَا مَا لَمْ یَیْبِسَا ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الطھارۃ،باب آداب الخلائ، الحدیث:۳۳۸، ج۱، ص۸۱)
عن ابن عباس قال:مر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقبرین فقال: انھما لیعذبان وما یعذبان فی کبیر اما احدھما فکان لا یستتر من البول واما الاخر فکان یمشی بالنمیمۃ ثم اخذ جریدۃ رطبۃ فشقھا بنصفین ثم غرز فی کل قبر واحدۃ قالوا: یارسول اللہ لم صنعت ھذا؟فقال:لعلہ ان یخفف عنھما ما لم ییبسا ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الطھارۃ،باب اداب الخلائ، الحدیث:۳۳۸، ج۱، ص۸۱)
حدیث ترجمہ
حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو قبروں کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا کہ یقینایہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں اور کسی ایسے گناہ میں عذاب نہیں دیا جارہا ہے جس سے بچنا بہت زیادہ دشوار ہو ۔ان میں سے ایک تو پیشاب کے وقت پردہ نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا ۔پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی اور اس کو چیر کر دو ٹکڑے کئے پھر ہر قبر میں ایک ایک ٹکڑا گاڑدیا ۔صحابہ نے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو حضورصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمنے فرمایا : اس لئے کہ جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں گی ان دونوں کے عذاب میں تَخْفِیْف ہوجائے گی۔
شرح حدیث
حضرت ابن عباس:اس حدیث کے راوِیوں میں حضرت ابن عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت ہی ممتاز اور صا حبِ فضیلت صحابی ہیں ۔یہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکے چچا حضرت عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے فرزند ارجمند ہیں ۔ان کا نام’’ عبداللّٰہ‘‘ ہے ۔یہ دَورِ صحابہ کے سب سے کم عمر مُفَسِّر ہیں ۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے حق میں یہ دعا فرمائی تھی کہ یااللّٰہ! ان کو حکمت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما ۔چنانچہ اسی دعا ئِ نبوی کا اثر ہے کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے آپ کے علم و فضل کا اِعتراف کیا ۔یہاں تک کہ امیر المؤمنین حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبعض مشکل مسائل میں آپ سے مشورہ لیتے تھے۔ امام احمد بن حنبلرحمۃ اللّٰہ علیہکا قول ہے کہ صحابہ کرام میں چھ شخصوں نے بہت زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں اور ان کے نام یہ ہیں :{۱}حضرت عائشہ{۲}حضرت عبداللّٰہبن عباس{۳}حضرت عبداللّٰہبن عمر{۴}حضرت ابو ہریرہ{۵}حضرت جابر{۶}حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم۔ حضرت عبداللّٰہبن عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے ایک ہزار چھ سو ساٹھ حدیثیں مروی ہیں ۔ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے وقت آپ کی عمر۱۳ یا ۱۴ سال کی تھی۔ (عینی، ج۱،ص۸۳) ستر سال کی عمر میں بمقام ’’طائف‘‘ ۶۸ھ میں آپ نے وفات پائی۔ حضرت محمد بن حنفیہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے نماز پڑھاکر مجمعِ عام میں بڑی حسرت کے ساتھ یہ کہا کہ ہائے افسوس !آج اس امت کا مفسر دنیا سے اٹھ گیا۔ (1) (فیوض الباری،ج۱،ص۸۱)
شرحِ حدیث:امام بخاری نے اس حدیث کو اس عنوان کے تحت بیان فرمایا ہے کہ ’’بَابٌ مِنَ الْکَبَائِرِ اَنْ لَا یَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِہٖ‘‘اس سے امام موصوف کا مقصدیہ ہے کہ پیشاب کے وقت پردہ نہ کرنا اور لوگوں کے سامنے شرم گاہ کھول کر پیشاب کرنا یہ گناہ کبیرہ ہے اور بعض روایتوں میں ’’لَا یَسْتَتِرُ‘‘کی جگہ ’’لَا یَسْتَنْزِہُ‘‘کا لفظ آیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پیشاب سے اپنے بدن اور کپڑوں کو محفوظ نہ رکھنا یہ گناہ کبیرہ ہے کیونکہ اسی حدیث میں پیشاب سے نہ بچنے والے کو قبر میں عذاب دیا جانا بیان کیا گیا ہے اس لیے یہ ثابت ہوگیا کہ اپنے بدن اور کپڑوں کو پیشاب سے نہ بچانا گناہ کبیرہ اور باعثِ عذاب ہے۔
گناہِ کبیرہ کون کون ہیں :گناہ ِکبیرہ کون کون اور کتنے ہیں ؟اس میں اِختلاف ہے۔ حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی روایت ہے جس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ گناہِ کبیرہ کی تعداد’’ سات ‘‘ہے اور وہ یہ ہیں: شرک،جادو، خونِ ناحق، سود خواری، یتیم کا مال کھانا، جہاد ِکفار سے بھاگ جانا، پاک دامن مومن عورتوں کو زِنا کی تہمت لگانا۔ (2) (مشکوٰۃ،باب الکبائر)
یہ ساتوں گناہ وہ ہیں جن کے بارے میں حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ فرمایا کہ سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو! اور حاکم کی روایت میں گناہ کبیرہ کی تعداد’’نو‘‘ اور بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی بتائی گئی ہے۔حضرت ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے کسی نے کہا کہ کیا گناہِ کبیرہ سات ہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ گناہِ کبیرہ کی تعداد سات سو تک ہے۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ایک چھوٹی سی نیکی کو خلوصِ نیت کے ساتھ اگر کوئی کرے تو اس کا اجر و ثواب بہت بڑھ جاتا ہے اسی طرح گناہ صغیرہ یعنی چھوٹے چھوٹے گناہوں کو اگر کوئی بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ کرتا ہے تو وہ گناہِ صغیرہ بھی گناہِ کبیرہ ہوجاتا ہے۔ (3)کیونکہ ہر’’گناہ ِصغیرہ‘‘پر جب اِصرار کیا جائے تو وہ’’ گناہ ِکبیرہ‘‘ بن جاتاہے۔
حضرت شیخ ابو طالب مکی سے منقول ہے کہ گناہِ کبیرہ سترہ ہیں ۔چار وہ ہیں جو دل سے تعلق رکھتے ہیں :{۱}شرک{۲}گناہوں پر اصرار{۳} اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے ناامید ہوجانا{۴} اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عذاب سے بے خوف ہوجانا اور چار وہ ہیں جن کا تعلق زبان سے ہے:{۱}جھوٹی گواہی دینا{۲}پاک دامن کو تہمت لگانا{۳}جادو کرنا{۴}حرم کعبہ میں گناہ کرنا اور تین وہ ہیں جن کا تعلق شکم سے ہے:{۱}شراب پینا{۲}یتیم کا مال کھانا{۳}سود کھانا،دو وہ ہیں جن کا تعلق شرمگاہ سے ہے:{۱}زنا{۲}لواطت، ایک وہ ہے جس کا تعلق پائوں سے ہے:{۱}جہاد سے بھاگنا،دو وہ ہیں جو ہاتھ سے تعلق رکھتے ہیں :{۱}خون ناحق{۲}چوری اور ایک وہ ہے جس کا تعلق پورے جسم سے ہے:{۱}والدین کی نافرمانی کرنا۔ (4)
(شرح عقائد و حاشیہ، ص۸۲)
واضح رہے کہ مختلف روایتوں میں جو گناہ کبیرہ کی تعداد بتائی گئی وہ حصرکے لیے نہیں ہے کہ گناہ کبیرہ سات ہیں یا نو ہی ہیں یا سترہ ہی ہیں بلکہ یہ مثال کے طور پر ہے کہ کسی روایت میں مثال کے طور پر سات کا ذکر آگیا، کسی روایت میں نو کا، کسی روایت میں سترہ کا ورنہ ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا گناہوں کے سوا اور بھی بہت سے گناہ کبیرہ ہیں ۔ مثلًا نماز و روزہ اور حج و زکوۃ کو چھوڑ دینا، ظلم کرنا، ڈاکہ ڈالنا،جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، دو مسلمانوں کو آپس میں لڑا دینا،ناچ دیکھنا، عورتوں کا بے پردہ ہوکر پھرنا، ناپ تو ل میں کمی کرنا، جوا کھیلنا، حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے صحبت کرنا، ماں باپ کو تکلیف دینا وغیرہ وغیر ہ سینکڑوں گنا ہ کبیرہ ہیں ۔
گنا ہ کبیرہ کس کو کہتے ہیں :گنا ہ کبیرہ ہر اس گناہ کو کہتے ہیں جس سے بچنے پر خداوند عالم نے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ۔(5) (حاشیہ بخاری، ص ۳۴) اور بعض علماء کرام نے فرمایا کہ ہر وہ گناہ جس کے کرنے پراللّٰہو رسول نے وعید سنائی یا لعنت فرمائی یا عذاب و غضب کا ذکر فرمایا وہ گناہ کبیرہ ہے ۔(6) (فیوض الباری،ج۱،ص۴۰۵)واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
چغلی کیا ہے ؟ حدیث میں لفظ ’’نَمِیْمہ‘‘آیا ہے جس کا ترجمہ اُردو میں ’’چغلی ‘‘ ہے۔ علامہ عینی نے فرمایا کہ کسی کی بات کو دوسرے آدمی تک نقصان پہنچانے کے قصد سے لے جانایہ چغلی ہے۔ (7)اور گناہ کبیرہ ہے کیونکہ مسلمانوں میں خِلاف و شِقاق اور جنگ و جِدال کا ذریعہ ہے۔
دوسری نَجاستوں اورگناہوں سے بھی بچو:حدیث مذکورمیں اگرچہ عذاب کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہ دونوں قبر والے ایک تو اُن میں سے اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا تھا لیکن اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس خصوص میں اپنے پیشاب ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی نَجاست گوبر،پاخانہ ،خون وغیرہ نَجاستوں سے بھی پرہیز نہ کرنا عذابِ قبر کا باعث بن سکتا ہے۔(8) اس لیے ہر مسلمان کو ہر قسم کی نجاستوں سے ہر وقت پاک و صاف رہنا چاہئے۔
اسی طرح عذابِ قبر کا سبب بننے میں صرف ’’چغلی ‘‘ہی کی کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ اس قسم کے دوسرے گناہِ کبیرہ مثلًا غیبت ،جھوٹ،ظلم وغیرہ بھی عذاب قبر کا سبب بن سکتے ہیں ، لہٰذا مسلمانوں کو گناہِ کبیرہ کی تمام قسموں سے اجتناب و پرہیز کرنا لازم ہے۔
عالمِ برزَخ کا علم : اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعالم برزخ کے واقعات کو دیکھتے ،سنتے اور جانتے تھے اس لیے کہ ’’عذاب قبر ‘‘عالم برزخ کے احوال میں سے ہے ۔بخاری شریف کی روایت میں ’’فَسَمِعَ صَوْتَ اِنْسَانَیْنِ یُعَذَّبَانِ‘‘ کے الفاظ ہیں کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان دونوں قبروں کے مُردوں کے عذاب کا علم وحی کے ذریعے نہیں ہوا تھا بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سُن کر اور دیکھ کر عذابِ قبر کا حال معلوم فرمایا تھا۔
اس سے پتہ چلا کہ حضرات انبیاء کرامعلیہم الصلوۃ والسلامکے دیکھنے اور سننے بلکہ ان کی تمام قوتوں کو عام انسانوں کے قُوائے جسمانیہ اور بدنی طاقتوں پر قیاس نہیں کرسکتے۔ ہم عام انسان چیزوں کو اپنے حواس ظاہری یعنی آنکھ ،کان وغیرہ سے دیکھتے سنتے ہیں اور حضرات انبیاءعلیہم السلاماپنی باطنی قوتوں سے دیکھتے سنتے ہیں ۔اللّٰہاکبر! کہاں ہمارے ظاہری حواس اور کہاں انبیاءعلیہم السلامکی باطنی قوتیں !’’چہ نسبت خاک را با عالم ِپاک‘‘۔
عارِف رومی نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب کہاہے؎∞
فلسفی کہ منکر حنانہ است از حواس انبیاء بیگانہ است
یعنی فلسفی جو’’ستون حنانہ ‘‘کے رونے اور اس کی آواز سنائی دینے کے معجزہ سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’فلسفی‘‘انبیاءعلیہم السلامکے حواس کی بے پناہ باطنی قوتوں سے ناواقف ہے۔ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ؎∞
نطقِ خاک و نطقِ آب و نطقِ گل ہست محسوس حواس اہل دل
یعنی مٹی، پانی ،کیچڑکی بولیوں کو بھی اہل دل کے حواس محسوس کرتے اور جان لیتے ہیں ۔
قبر پر پھول: اس حدیث میں ’’لَعَلَّہٗ اَنْ یُّخَفَّفَ‘‘یعنی کھجور کی تر شاخوں کو قبر پر ڈالنے کی حکمت حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بتائی کہ ان گیلی اور ہری ٹہنیوں کی تسبیح سے ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قبر وں پر تازہ پھول اور ہری پتیوں کو ڈالنا ہرگز ہرگز بدعت نہیں ہے بلکہ حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اسی حدیث پر عمل ہے لہٰذا یہ سنت ہے چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت بُرَیدہ اَسْلَمی صحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے یہ وصیت فرمائی تھی کہ میری قبر میں دو گیلی ٹہنیاں ڈال دی جائیں ۔ (9) (بخاری،ج اول،باب الجرید علی القبر)
قبر کے پاس تلاوت : علّامہ خَطَّابیعلیہ الرحمۃنے فرمایا کہ جب سبز ٹہنیوں کی تسبیح سے میت کے عذاب میں تَخْفِیْف ہوجاتی ہے تو قبر کے پاس اگر کوئی مسلمان قرآن مجید کی تلاوت کرے توبدرجہ اَولیٰ اس سے میت کے عذاب میں تَخْفِیْف ہوگی کیونکہ ظاہر ہے کہ تلاوت قرآن برکت و فضیلت میں شاخوں اور ٹہنیوں کی تسبیحات سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھ کر ہے۔(10) (عینی،ج۱،ص۸۷۰)
ایصال ِثواب:حضرت امام اعظم ابو حنیفہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاور امام احمدرحمۃ اللّٰہ علیہکا یہی مسلک ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کا اجر و ثواب میت کو پہنچتا ہے ۔چنانچہ اس سلسلے میں بکثرت اَحادِیث بھی وارد ہوئی ہیں ۔ مثلاًابو بکر نجار نے اپنی کتابُ السُّنن میں حضرت علیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت کیا ہے کہ جوکوئی قبرستان میں گزرے اور گیارہ مرتبہ ’’قل ہو اللّٰہ‘‘ پڑھ کر اس کا ثواب مُردوں کو بخش دے تواللّٰہ تعالیٰاس قبرستان کے مُردوں کی تعداد میں اس کا ثواب عطا فرمائے گا۔(11)
اسی طرح حضرت اَنسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے حضورعلیہ الصلوۃ والسلامسے روایت کیا ہے کہ جو قبرستان میں جائے اور سورہء یٰسین پڑھ کر اس کا ثواب میّت کو پہنچائے تواللّٰہ تعالیٰاس میت کے عذاب میں تَخْفِیْف فرمائے گا۔ (12)
اسی طرح حضرت امیر المؤمنین ابو بکر صدیقرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جو شخص اپنے والدین کی قبر کی زیارت کرے اور وہاں سورۂ یٰسین پڑھے تواللّٰہ تعالیٰان کی بخشش فرمائے گا۔ (13) (فیوض الباری،ج۱،بحوالہ عینی،ج۱،ص۸۷۶)
سوال و جواب:کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکو تو معلوم ہو گیا تھا کہ ان دونوں قبروں کے مُردوں کو عذاب ہورہا ہے اس لیے ان دونوں کے عذاب کی تخفیف کے لئے گیلی ہری شاخوں کو ان کی قبروں میں گاڑدیالیکن ہم لوگو ں کو کیا معلوم کہ کون سی قبر والے کو عذاب ہورہا ہے اور کون سی قبر والے کو نہیں اس لیے ہم کیوں کسی قبر پر گیلی شاخ یا تازہ پھول اور ہری پتیاں ڈالیں ۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سبز پتیوں اور تازہ پھولوں کی تسبیحات سے جب عذاب قبر میں تخفیف ہوجانا حدیث سے ثابت ہے تو یقینا ان کی تسبیحوں سے میت کو اُنس بھی حاصل ہو گا اور سکون و راحت بھی پہنچے گی تو اگر کسی ایسی قبر پر پھول پتی ڈالیں جس قبر والے کو عذاب نہیں ہورہا ہے تو اس کو اُنس اور سکون و راحت کی نعمت تو مل ہی جائے گی بہر حال قبروں پر پھول پتی ڈالنا ہر صورت میں باعث ِ خیر و برکت اور موجب رحمت ہی ہوگا۔صاحبِ قبر کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا اور زائرین قبر بھی اس کی خوشبو سے فائدہ مند ہونگے ۔ہر حال میں اس سے فائدہ ہی کی امید ہے اس میں نقصان کاتو کوئی اندیشہ ہی نہیں ہے لہٰذا جو لوگ قبروں پر پھول پتی ڈالتے ہیں خواہ مخواہ ان کو بدعتی کہہ کر لوگوں کو اس کارِ خیر سے ہرگز ہرگز منع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جیسا کہ گزرچکا حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے اور یاد رکھئے کہ جس چیز کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہو وہ ہرگزہرگز ممنوع نہیں ہوسکتی نہ اس کو بدعت کہنا صحیح ہوسکتا ہے۔ درحقیقت وہابیوں کا یہ ایک بڑا ظلم وستم ہے کہ وہ بات بات پر خواہ مخواہ مسلمانوں کو مشرک و بدعتی بناتے رہتے ہیں اور خدا کی حلال کی ہوئی چیزوں کو بلا کسی دلیل کے حرام ٹھہرا کراللّٰہو رسول پر افترا ء کرتے رہتے ہیں ۔(والعیاذ باللّٰہ تعالٰی منہ) واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، ج۱، ص۱۲۸[2] مشکاۃ المصابیح،کتاب الایمان،باب الکبائر وعلامات النفاق، الحدیث:۵۲، ج۱،ص۳۱[3] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ،ج۱،ص۴۹۵[4] حاشیۃ شرح العقائد النسفیۃ، مبحث الکبیرۃ،ص۱۰۸[5] ارشادالساری،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ، ج۱،ص۵۱۴[6] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ،ج۱،ص۴۹۵[7] عمدۃ القاری،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ، تحت الحدیث:۲۱۶، ج۲،ص۵۹۴[8] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ،ج۱،ص۴۹۶[9] صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب الجرید علی القبر، ج۱، ص۴۵۸[10] عمدۃ القاری،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ، تحت الحدیث:۲۱۶، ۲،ص۵۹۸[11] کشف الخفاء،الحدیث۲۶۲۹،ج۲،ص۲۵۲[12] مرقاۃ المفاتیح،کتاب الجنائز،باب دفن المیت،تحت الحدیث۷۱۷۱،ج۴،ص۱۹۸[13] فیوض الباری،کتاب الوضوء،باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ، ج۱،ص۴۹۸
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 10