- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 28
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ کَانَ اِذَا قُحِطُوْا اِسْتَسْقٰی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فَقَالَ:اَللّٰھُمَّ اِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا فَتَسْقِیْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ: فَیُسْقَوْنَ (صحیح البخاری،کتاب الاستسقاء،باب سؤال الناس الامام۔۔۔الخ،الحدیث:۱۰۱۰، ج۱،ص۳۴۶)
عن انس بن مالک ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کان اذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ فقال:اللھم انا کنا نتوسل الیک بنبینا فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال: فیسقون (صحیح البخاری،کتاب الاستسقاء،باب سوال الناس الامام۔۔۔الخ،الحدیث:۱۰۱۰، ج۱،ص۳۴۶)
حدیث ترجمہ
حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب امیر المؤمنینرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ،جب لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوتے تھے تو حضرت عباس بن عبد المطلب کے وسیلہ سے بارش کی دُعا مانگا کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یااللّٰہ!عَزَّوَجَلَّہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اس وقت تو ہم کو بارش سے سیراب فرماتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کوتیری بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہیں لہٰذا تو ہم کو سیراب فرما دے تو لوگ سیراب کردئیے جاتے تھے۔(یعنی بارش ہوجاتی تھی)۔
شرح حدیث
فوائد و مسائل:{۱}بخاری شریف کی یہ حدیث کھلی ہوئی دلیل ہے کہ خدا سے دُعا مانگتے وقت حضراتِ انبیاء و اولیاء اور دوسرے صُلَحاء ِ اُمت کا وسیلہ پکڑنا اور ان کے وسیلوں سے اپنی مرادوں کو بارگاہِ الٰہی سے طلب کرنا یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر تمام صحابۂ کرام کا اجماع و اتفاق ہے ۔کیونکہ ظاہر ہے کہ نمازِ استسقاء میں حضور امیر لمؤمنین فاروق اعظمرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے ساتھ ہزاروں صحابہ دُعا میں شریک ہوتے رہے ہوں گے اور اس دعا کو سنتے رہے ہوں گے ۔
اگر خدانخواستہ وسیلوں کے ساتھ دُعا مانگنا شرک یا گناہ ہوتا تو نہ حضرت امیر المؤمنین فاروق اعظم اس طرح دُعا مانگتے نہ صحابہ اس دعا ء کو پسند کرتے ۔اگر بال برابر بھی یہ دُعا خلاف ِشریعت ہوتی تو ہزاروں صحابہ ہرگز ہرگز اس کو برداشت نہیں کر سکتے تھے بلکہ ضرور حضرت فاروقِ اعظم کو ٹوک دیتے مگر جب حضرت فاروقِ اعظم نے اس طرح دعا مانگی اور تمام صحابہ نے اس دُعا کو پسند کر کے اس پر’’آمین ‘‘کہاتو یہ اجماع ہوگیا کہ بلاشبہ اس طرح دُعامانگنا جائز بلکہ مستحب ہے۔{۲}حضرت علامہ عینی نے تحریر فرمایا کہ ’’ابو صالح‘‘کی روایت کردہ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے حضرت عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکو اپنے ساتھ منبر پر کھڑا کیا اور پہلے خود اس طرح دُعا مانگی کہ ’’اَللّٰھُمَّ اِنَّا تَوَجَّھْنَا اِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّکَ وَصِنْوِ اَبِیْہٖ فَاسْقِنَا الْغَیْثَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْقَانِطِیْنَ‘ یااللّٰہ!عَزَّوَجَلَّہم سب تیرے نبی کے چچا کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتے ہیں لہٰذا تو ہم لوگوں کوبارش سے سیراب فرما دے اور ہم کو ناامید نہ فرما۔
اس کے بعد حضرت فاروق اعظمرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے حضرت عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے فرمایا کہ اے ابو الْفَضْل! تم بھی دُعاء مانگو تو حضرت عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اس طرح دُعاء مانگی کہ’’اَللّٰھُمَّ لَمْ یُنْزَلْ بَلَائٌ اِلَّا بِذَنْبٍ وَلَمْ یُکْشَفْ اِلَّا بِتَوْبَۃٍ وَقَدَ تَوَجَّہَ بِیَ الْقَوْمُ اِلَیْکَ لِمَکَانِیْ مِنْ نَبِیِّکَ وَھٰذِہٖ اَیْدِیْنَا اِلَیْکَ بِالذُّنُوْبِ وَنَوَاصِیْنَا بِالتَّوْبَۃِ فَاسْقِنَا الْغَیْثَ‘‘
یااللّٰہ! ہر بلا گناہوں کے باعث ہی اتاری جاتی ہے اور بغیر توبہ کے کوئی بلا دفع نہیں کی جاتی ساری قوم میرے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوئی ہے کیونکہ مجھ کو تیرے نبی سے ایک خاص تعلق ہے یہ ہمارے گناہگار ہاتھ اور ہماری توبہ کرنے والی پیشانیاں تیرے حضور میں حاضر ہیں لہٰذا تو ہم لوگوں کو سیراب فرمادے۔
راوی کا بیان ہے کہ حضرت عباسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی دُعا ء کے بعد پہاڑوں کی طرح بدلیاں ہر چہار طرف سے آگئیں اور خوب بارش ہوئی یہاں تک کہ زمین سیراب ہوکر سرسبز و شاداب ہوگئی۔ (1) (حاشیہ بخاری،ص۱۳۷){۳}حضرت فاروقِ اعظمرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اپنی اس دُعاء میں یہ تصریح فرمادی کہ
پہلے ہم تیرے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ بناکر دُعا مانگا کرتے تھے اور اب ہم تیرے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا کو وسیلہ بناکر دُعا مانگتے ہیں ۔
اس سے ثابت ہوگیا کہ نبی اور غیر نبی ،زندوں اور وفات پاجانے والوں ، سب کو دُعاؤں میں وسیلہ بنانا جائز ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم∞ [1] عمدۃ القاری،کتاب الاستسقاء،با ب سؤال الناس الامام۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۱۰۱۰، ج۵،ص۲۵۵
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 28