Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 33

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلٰثٌ مُنْجِیَاتٌ وَثَلٰثٌ مُھْلِکَاتٌ فَاَمَّا الْمُنْجِیَاتُ فَتَقْوَی اللّٰہ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِی الرِّضٰی وَالسَّخَطِ وَالْقَصْدُ فِی الْغِنٰی وَالْفَقْرِ وَاَمَّا الْمُہْلِکَاتُ فَھَوًی مُتَّبَعٌ وَشُحٌ مُطَاعٌ وَاِعْجَابُ الْمَرْئِ بِنَفْسِہٖ وَھِیَ اَشَدُّھُنَّ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب الغضب والکبر، الحدیث: ۵۱۲۲، ج۲،ص۲۳۵)

عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ثلث منجیات وثلث مھلکات فاما المنجیات فتقوی اللہ فی السر والعلانیۃ والقول بالحق فی الرضی والسخط والقصد فی الغنی والفقر واما المہلکات فھوی متبع وشح مطاع واعجاب المرئ بنفسہ وھی اشدھن ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب الغضب والکبر، الحدیث: ۵۱۲۲، ج۲،ص۲۳۵)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہراوی ہیں کہ رسو لاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تین(خصلتیں )نجات دلانے والی اور تین(خصلتیں )ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں ۔نجات دلانے والی (خصلتیں )یہ ہیں :{۱}ظاہر و باطن میںاللّٰہسے ڈرنا{۲}خوشی و ناراضگی میں حق بولنا{۳}مالداری اور فقیری میں درمیانی چال چلنا، اور ہلاکت میں ڈالنے والی (خصلتیں )یہ ہیں :{۱}نفسانی خواہشوں کی پیروی کرنا{۲}بخیلی کی اطاعت کرنا{۳}اپنی ذات پر َگھمنڈ کرنا اور یہ ان تینوں میں سب سے زیادہ سخت ہے۔

شرح حدیث

فوائد و مسائل: حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد گرامی کا مطلب بالکل واضح ہے کہ تین خصلتیں وہ ہیں جو دُنیا اور آخرت کے عذابوں سے نجات دلانے والی ہیں اور تین خصلتیں ایسی ہیں جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں جگہوں میں ہلاک کردینے والی ہیں ، نجات دلانے والی خصلتوں کی فہرست یہ ہے :
تقوی:ظاہر و باطن میں خدا سے ڈرنا ۔ظا ہر ہے کہ خوف الٰہی تمام نیکیوں کے کرنے اور تمام گناہوں سے بچنے کا سرچشمہ ہے۔جب تنہائی اور مجمع ،ظاہر و باطن، ہر جگہ ،ہر حال میں بندہ خدا سے ڈرتا رہے گا تو یقینا وہ ہر جگہ اور ہر حال میں وہی کام کرے گا جس سے
اللّٰہ تعالیٰخوش ہو اور ان تمام باتوں سے بچے گا جن سےاللّٰہ تعالیٰناراض ہو ظاہر ہے کہ جس شخص کا یہ حال ہو گا وہان شآء اللّٰہ تعالیٰضرور دونوں جہان کے عذاب سے نجات پاجائے گا۔
حق بولنا: اسی طرح جو شخص اس خَصْلَت کا عادی بن جائے گا کہ وہ خوشی کی حالت میں ہویا ناراضگی کی حالت میں ہر جگہ ،ہر حال میں وہ حق بات ہی بولے گاتو وہ گناہ کی باتوں سے ہمیشہ محفوظ رہے گااور اپنی اس حق گوئی پر جہاد کے ثواب کا مستحق ہوگا لہٰذا ان شاء
اللّٰہ تعالیٰوہ عذاب دارین سے نجات پاجائے گا ۔
درمیانی چال: اسی طرح امیری اور فقیری دونوں حالتوں میں جو درمیانی چال چلے گا تو ظاہر ہے کہ وہ دونوں حالتوں میں گناہوں سے بچے گاجس کا ثمرہ دونوں جہان کے عذاب سے بچنا ہے ۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
ہلاک کردینے والی خصلتوں کی فہرست یہ ہے :
خواہش ِنفس کی پیروی:نفس اَمَّارہ کی پیروی یہی تمام گناہوں کی جڑ ہے۔قرآن مجید نے بہت ہی واضح لفظوں میں ارشاد فرمایا کہ
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌمبِالسُّوْٓئِ(1) یعنی ’’نفس ِاَمَّارہ ‘‘کا کام یہ ہی ہے کہ وہ انسان کو ہمیشہ گناہوں کا حکم دیتا رہتا ہے اور معصیتوں پر ابھارتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ’’معصیت اور گناہ‘‘ ہلاکت کے سوااور کس چیز کا سبب بن سکتی ہے؟
بخیلی کی اطاعت:اسی طرح بخیلی کی اطاعت بھی ہر قسم کی نیکیوں سے روکنے والی ہے اور بخیل کو دنیا وآخرت میں کہیں بھی آرام و راحت نصیب نہیں ہوسکتا،دُنیا میں بھی وہ طرح طرح کی تکلیفیں اُٹھاتا ہے اور آخرت میں تو جہنم کے سوا اس کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے۔
بخیل ار بود زاہد بحر و بر بہشتی نباشد بحکم خبر
یعنی بخیل اگر چہ خشکی اور سمندر ہر جگہ کا زاہد بن جائے پھر بھی وہ حدیث کے فرمان سے’’جنتی‘‘ نہیں ہوگا۔
اپنی ذات پر َگھمنڈ : اسی طرح اپنی ذات پر َگھمنڈ یعنی اپنے کو سب سے اچھا سمجھنا یہ بھی عذاب دارین کا سبب ہے اور یہ تو وہ ہولناک گناہ اور خوفناک معصیت ہے کہ ابلیس اسی’’
اَنَاخَیْرٌ مِنْہُ‘‘ کے َگھمنڈ میں مارا گیا اور ذلیل کرکے بِہِشْت سے نکالا گیا اور قیامت تک خالقِ کائنات اور اس کی تمام مخلوق کی لعنتوں میں گرفتار رہے گا۔

∞ [1] ترجمہء کنز الایمان: بیشک نفس تو بُرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے۔ (پ۱۳،یوسف:۵۳)

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 33