Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 39

حدیث مبارکہ

عَنْ زِیَادِ بْنِ عَلَاقَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ جَرِیْرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہ یَقُوْلُ یَوْمَ مَاتَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ قَامَ فَحَمِدَ اللّٰہ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِاتِّقَائِ اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَالْوَقَارِ وَالسَّکِیْنَۃِ حَتّٰی یَاْتِیَکُمْ اَمِیْرٌ فَاِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ الْآنَ ثُمَّ قَالَ: اِسْتَعْفُوْا لِاَمِیْرِکُمْ فَاِنَّہٗ کَانَ یُحِبُّ الْعَفْوَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلَامِ فَشَرَطَ عَلَیَّ وَالنَّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ فَبَایَعْتُہٗ عَلٰی ھٰذَا وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اِنِّیْ لَنَاصِحٌ لَکُمْ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب قول النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۵۸،ج۱،ص۳۵)

عن زیاد بن علاقۃ قال: سمعت جریر بن عبد اللہ یقول یوم مات المغیرۃ بن شعبۃ قام فحمد اللہ واثنی علیہ وقال: علیکم باتقائ اللہ وحدہ لا شریک لہ والوقار والسکینۃ حتی یاتیکم امیر فانما یاتیکم الان ثم قال: استعفوا لامیرکم فانہ کان یحب العفو ثم قال: اما بعد فانی اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم قلت: ابایعک علی الاسلام فشرط علی والنصح لکل مسلم فبایعتہ علی ھذا ورب ھذا المسجد انی لناصح لکم ثم استغفر ونزل (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب قول النبیصلی اللہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔۔۔الخ، الحدیث:۵۸،ج۱،ص۳۵)

حدیث ترجمہ

زیاد بن عَلاقہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جریر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے سُناجس دن مُغِیْرہ بن شُعْبہ (حاکم کوفہ) کا وِصال ہوا تو وہ (خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے اوراللّٰہکی حمد و ثناء کی اور فرمایا کہ تم لوگوں پر لازم ہے کہاللّٰہسے ڈرو جووَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗہے اور وقار و سکون کو لازم پکڑو یہاں تک کہ تمہارا دوسرا حاکم آجائے اور وہ اب آتا ہی ہے پھر کہا کہ اپنے سابق حاکم کے لیے مغفرت کی دعا کرو اس لیے کہ وہ بھی عفو ودر گزر کو پسند کرتے تھے ۔پھر فرمایا کہ جب میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں (بیعت کے لیے) حاضر ہوا اور میں نے عرض کیاکہ میں اسلام پر بیعت کرتا ہوں تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسلام کے ساتھ یہ شرط لگاکر کہ ہر مسلمان کی ’’خیر خواہی‘‘ کرنا مجھے بیعت فرمایاتو میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کرلی۔ مجھے اس مسجد کے رب کی قسم ہے کہ (اے کوفہ والو!) میں تمہارا خیرخواہ ہوں ۔پھر آپ نے مغفرت کی دعا مانگی اور منبر پر سے اُترگئے۔

شرح حدیث

شرحِ حدیث:حضرت جریر بن عبداللّٰہبَجَلیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے کوفہ کے گورنر حضرت مُغِیْرہ بن شُعْبہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی وفات کے دن کوفہ کی جامع مسجد میں خطبہ پڑھتے ہوئے اس حدیث کو بیان فرمایا۔ چونکہ گورنر کے انتقال کے بعد عموماً عوام میں اِنْتِشار پھیل جانے کا خطرہ ہوتا ہے خصوصاً کوفہ جہاں کے لوگ اِنْتِشار اور ہِیجان پھیلانے کے عادی تھے اس خطرہ کا بہت زیادہ امکان تھا اس لیے حضرت جریر بن عبداللّٰہبَجَلیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے عوام کو پر سکون رہنے کی تلقین فرمانے کے لیے یہ خطبہ دیا اور اس خطبہ میں خدا کی حمد و ثناء کرنے کے بعد آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو!تم لوگ اپنے ہر عمل اور اپنی ہر حرکت و سکون میں ہمیشہ خوف الٰہی کو اپنے پیش نظر رکھو اور خبر دار !کوئی ایسی حرکت نہ کرو جس سےاللّٰہ تعالیٰتم پر ناراض ہوجائے۔پھر فرمایا کہ تم لوگ نہایت ہی سکون و اطمینان کے ساتھ رہو بہت جلد مرکزی حکومت کی طرف سے نیا گورنر آنے والا ہے جو آکر نظام ِحکومت سنبھال لے گا۔پھر آپ نے عوام سے یہ فرمائش کی کہ تم لوگ اپنے سابق گورنر (حضرت مغیرہ بن شعبہ) کے لیے دعائیں مانگو کہاللّٰہ تعالیٰان کو اپنی مغفرت کے انعام واکرام سے نوازے کیونکہ تمہارا سابق گورنر بہت زیادہ درگزر کرنے والا اور خطا کاروں کی خطائیں معاف کرنے والا تھا۔پھراس کے بعد آپ نے یہ حدیث سنائی کہ میں جب بارگاہ رسالت میں اسلام قبول کرنے کے لیے حاضر ہوا اور میں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی کہ یارسو لاللّٰہ!میں اسلام پر قائم رہنے کی بیعت کرتا ہوں تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شرط پر مجھ کو بیعت فرمایا کہ اسلام پر قائم رہنے کے ساتھ ساتھ تم عمر بھر ہر مسلمان کی خیر خواہی کرتے رہنا۔ چنانچہ میں نے اس شرط کو قبول کرتے ہوئے بیعت کی۔ لہٰذا میں اس مسجد کے رب کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں جس طرح اپنی بیعت کے مطابق آج تک ہر مسلمان کی خیر خواہی کرتا رہاہوں تمہارا بھی خیر خواہ ہوں اور تمہاری خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہوئے میں تم لوگوں کو پُرسکون رہنے کی تلقین کرتا ہوں ۔ اس کے بعد آپ نے مغفرت کی دعا فرمائی اورمنبر سے اترگئے۔
حضرت مُغِیْرہ بن شُعْبہ:بہت ہی شاندار اور زیرک و ہوشیار صحابی ہیں ۔مُلکی انتظام اور نظم و نسق قائم کرنے کا ان کو بڑا ملکہ اور بہترین مہارت تھی۔ انتہائی طاقتور ،عالی دماغ اور بہادر تھے۔ان کا تعلق قبیلہ ثَقِیْف سے تھا اس لیے ثَقَفی کہلاتے ہیں ۔جنگ ِ خَنْدق کے سال ۵ھ؁ میں اسلام قبول کیا اور ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت عمر
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اپنے دورِ خلافت میں ان کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا اور حضرت امیر مُعاوِیہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اپنے دور حکومت میں ان کو کوفہ کا گورنر بنادیا تھا ۔چنانچہ کوفہ کی گورنری کے دوران ہی ۵۰ھ؁ میں مرض طاعون میں مبتلا ہوکر ستر سال کی عمر میں وصال فرمایا(1) اور ان کے بعد حضرت جریر بن عبداللّٰہبَجَلیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہی کو مرکزی گورنمنٹ نے کوفہ کا گورنر بنادیا۔ (اکمال وغیرہ)
فوائد و مسائل:
{۱}اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الشُروط میں بھی ذکر کیا ہے اور امام مسلم نے کتاب الایمان میں اور امام نسائی نے بیعت کے باب میں تحریر کیا ہے۔ (2){۲}’’نصیحۃ‘‘عربی میں بہت ہی جامع لفظ ہے۔اردو میں اس کا ترجمہ ’’خیر خواہی کرنا ، دوسروں کا بھلا چاہنا‘‘ہے۔
’’دوسروں کا بھلا چاہنا‘‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ ’’خیر خواہی‘‘ کرنا، اس کے مفہوم میں بڑی وُسْعَت ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ’’ہر مسلمان کی خیر خواہی ‘‘یہ ایک ایسا عملِ خیر ہے کہ اگر ہر مسلمان اس تعلیم نبوت کو حِرزِ جان بنا کر اس پر عمل شروع کردے تو ایک دم مسلمانوں کے بگڑے ہوئے معاشرہ کی کایا پلٹ جائے اور’’مسلم معاشرہ ‘‘ آرام و راحت اور سکون و اطمینان کا ایک ایسا گہوارہ بن جائے کہ دنیاہی میں بِہِشْت کے سکون و اطمینان کا جلوہ نظر آنے لگے۔
ظاہر ہے کہ جب ہر مسلمان اپنی زندگی کا یہ نصب العین بنالے گاکہ میں ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گاتو ہر قسم کے مکرو فریب،نقصان و ضرر ،ظلم و ستم ،بغض و حسد، خِلاف و شِقاق،عِناد و نِفاق،بدخواہی و اِیذا رَسانی تمام قبِیح خصلتوں کا مسلمانوں کے گھروں سے جنازہ نکل جائے گااور ہر مسلمان ہر ایک مسلمان کے لیے صلاح وفلاح اور نفع رَسانی و بھلائی کے سوا نہ کچھ کر سکے گانہ کچھ سوچ سکے گانہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کے ساتھ خیانت کرے گانہ چغلی غیبت اور اِفترا پردازی کا مرتکب ہوگانہ ظلم کے کسی پہلو کو بھی اپنے گوشۂ خیال میں آنے دے گانہ کسی کے بنتے ہوئے کام میں روڑا اٹکائے گا بلکہ وہ سب کا بھلا چاہے گااورسب کے ساتھ بھلائی کرے گا۔جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ بھی اس کی خیر خواہی اور بھلائی کریں گے اور و ہ بھی ہر نقصان سے محفوظ رہے گا اور ہمیشہ اس کا بھلا ہوتا رہے گا۔
{۳}علامہ کرمانی نے ’’اَلنُّصْحُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ‘‘کی شرح میں تحریر فرمایا کہ ’’وَاَمَّا النَّصِیْحَۃُ لِلْعَامَّۃِ فَاِرْشَادُھُمْ اِلٰی مَصَالِحِھِمْ وَکَفُّ الْاَذیٰ عَنْہُمْ‘‘یعنی عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا یہ مطلب ہے کہ ہر مسلمان کو اس کی مصلحتوں اور بھلائیوں کی طرف رہنمائی کرتے رہنا اور ہر مسلمان سے ہر قسم کی تکالیف کو دور کرتے رہنا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کی ہر قسم کی نفع رسانی کرنا اور ہر مسلمان کو ہر قسم کی ضرر رسانی سے بچانا۔(3)واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال، حرف المیم، فصل فی الصحابۃ، ص۶۱۶
والاعلام للزرکلی،ج۷،ص۲۷۷
[2] عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب قول النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم: الدین النصیحۃ۔۔۔الخ، تحت الحدیث:۵۸،ج۱،ص۴۷۴[3] حاشیۃ صحیح البخاری،ج۱،ص۱۳(و فیہ ’’ قال الخطابی ‘‘ واللّٰہتعالیٰ اعلم)

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 39