Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 25

حدیث مبارکہ

عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِضْمَنُوْا لِیْ سِتًّا مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَضْمَنْ لَکُمُ الْجَنَّۃَ اُصْدُقُوْا اِذَا حَدَّثْتُمْ وَاَوْفُوْا اِذَا وَعَدْتُمْ وَاَدُّوْا اِذَا ائْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَغُضُّوْا اَبْصَارَکُمْ وَکُفُّوْا اَیْدِیْکُمْ۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۰،ج۲،ص۱۹۷)

عن عبادۃ بن الصامت ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: اضمنوا لی ستا من انفسکم اضمن لکم الجنۃ اصدقوا اذا حدثتم واوفوا اذا وعدتم وادوا اذا ائتمنتم واحفظوا فروجکم وغضوا ابصارکم وکفوا ایدیکم۔ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۷۰،ج۲،ص۱۹۷)

حدیث ترجمہ

حضرت عُبادہ بن صامترضی اللّٰہ تعالیٰ عنہروایت کرتے ہیں کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم لو گ اپنی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کی ذمہ داری قبول کرلو تو میں تمہارے لیے جنت کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔{۱}جب بات کرو تو سچ بولو{۲}جب کوئی وعدہ کرو اس کو پورا کرو{۳}جب کوئی امانت تم کو سونپی جائے تو اس امانت کو ادا کرو{۴}اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو{۵}اپنی نگاہوں کو نیچی رکھو{۶}اپنے ہاتھوں کو (ہر ظلم و مَعْصِیَت سے ) روکے رکھو۔

شرح حدیث

فوائد و مسائل:حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللّٰہعز وجل نے ’’جَوَامِعُ الْکَلِم‘‘کا معجزہ عطا فرمایا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے الفاظ و کلمات دیکھنے میں تو بہت ہی مختصر ہوتے ہیں مگر وہ اپنے دامنوں میں اتنے کثیر معانی و مطالِب کا خزانہ رکھتے ہیں کہ گویا ایک کوزہ میں پورا سمندر سمایا ہوا ہے ۔چنانچہ اس حدیث میں بظاہر تو کل چھ ہی چیزیں مذکور ہیں مگر یہ چھ چیزیں ایسی ہیں کہ انسان ان پر مکمل طورسے عامل ہوجائے تو وہ چھ ہزار بلکہ چھ لاکھ بلکہ تمام گناہوں سے بچ جائے گا اور تمام نیکیوں کا خزانہ اس کے نامۂ اعمال میں جمع ہوجائے گا۔
مثلًا پہلی چیز کہ زبان سے سچ کے سوا کچھ نہ بولنا ،ظاہر ہے کہ زبان تمام قولی گناہوں کا منبع اور تمام قولی عبادتوں کا سر چشمہ ہے ۔اب جو شخص اس کی ذمہ داری لے لے کہ وہ سچ کے سوا زبان سے کچھ نہ بولے گاتو سُن لیجئے کہ توحید ،رسالت ،قیامت اور تمام عقائد اسلام کا اقرار ،تلاوت قرآن، تمام درود ووظائف ،اچھی باتو ں کا حکم دینا، بُری باتوں سے روکنا، غرض ہر چھوٹی بڑی قولی عبادت ’’سچ‘‘ ہی تو ہے ۔لہٰذا سچ بولنے والا تمام قولی عبادتوں پر عامل ہوگا اور کفر وشرک، بہتان، فریب، وعدہ خلافی، جھوٹی شہادت، غلط باتیں ، جھوٹی خبریں ،غرض زبان سے صادر ہونے والے ہزاروں لاکھوں گناہ یہ سب ’’جھوٹ‘‘ہی تو ہیں ۔تو غور کر لیجئے! ایک سچ بولنے کا عہد کر لینے میں تمام قولی عبادتوں کے کرنے اور تمام قولی گناہوں سے بچنے کی گارنٹی ہے۔
اسی طرح ہر وعدہ کو پورا کرنا، یہ بھی ایک ہی عمل ایسا ہے کہ اس کے اندر ہزاروں نیکیاں کرنے اور ہزاروں گناہوں سے بچنے کی ضمانت ہے۔ظاہر ہے کہ بندوں کا وعدہ دو قسم کا ہے ایک
اللّٰہسے وعدہ ایک مخلوق سے وعدہ۔اللّٰہ تعالیٰنے ہر انسان سے روز ازل میں ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْج قَالُوْا بَلٰیج شَھِدْنَا‘‘ (1)کے ذریعہ اپنی رَبوبِیَّت کا اقراراور اپنی فرماں برداری کا وعدہ لے لیا ہے اور پھر یہ بھی حکم دیا ہے کہاَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ(2) اے بندو!تم اپنے تمام وعدوں کو پوراکرو
تو اب نماز روزہ اور حج و زکوۃ غرض تمام اعمالِ صالحہ کا کرنا یہ
اللّٰہسے کئے ہوئے وعدوں کا پورا کرنا ہے اوراللّٰہکے کسی حکم سے نافرمانی کرنا یہ وعدہ خلافی کرنا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک وعدہ پورا کرنے کی ذمہ داری میں تمام حقوقاللّٰہکی ادائیگی داخل ہے۔
اسی طرح مخلوق سے وعدہ پورا کرنے میں مخلوق کو راحت پہنچانا، اس کی حاجتوں کو پوری کرنا ،مومنوں کا دل خوش کرنا،غرض ہزاروں نیک کام اس کے ضمن میں ہوجاتے ہیں اور وعدہ خلافی میں مومنوں کی اِیذا رَسانی ان کی حاجتوں کو روکنا وغیرہ وغیرہ سینکڑوں ہزاروں مفاسد و معاصی جمع ہوجاتے ہیں ۔
اسی طرح شرمگا ہ کی حفاظت میں زنا،لِواطت اور ان کے دَواعی وغیرہ سے بچنا اور جائز طریقے سے صاحب اولاد ہونا ہے۔اگر خداوند تعالیٰ نیک و صالح اولاد عطا فرمادے تو وہ ماں باپ کے لیے دنیا و آخرت میں بہتری کا بہترین سامان ہیں ۔
اسی طرح خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے نگاہ نیچی رکھنا، اس میں سینکڑوں نیکیوں پر عمل اور سینکڑوں گناہوں سے بچنا ہے۔بزرگوں نے فرمایا ہے کہ آنکھ دل کا جھروکہ ہے نگاہ پڑنے ہی سے دل میں نیکی یا بدی کا خیال آتا ہے ۔پھر دل اگر سُدھرا تو سارا بدن سُدھرااور دل اگر بگڑا تو سار ا بدن بگڑا۔اب سمجھ لیجئے کہ خدا کے محارم سے نگاہ نیچی رکھنے میں کتنی نیکیوں پر عمل اور کتنے گناہوں سے بچت ہوجائے گی۔اسی طرح امانتوں میں خیانت سے پرہیز کرنے میں بھی۔ چونکہ خدا کی امانتیں سب ادائے امانت میں داخل ہیں اس لیے امانتوں کے ادا کرنے میں حقوق
اللّٰہاور حقوق العباد سب پر عمل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اپنے ہاتھوں کو تمام مظالِم اور گناہوں سے روکے رہنے میں ظاہر ہے کہ کتنی نیکیاں ہوں گی اور کتنے گناہوں سے انسان بچ جائے گا۔
بہر حال یہ چھ چیزیں بہت ہی اہم ہیں اور ہر مومن کو ان کی پابندی لازم ہے کیونکہ حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان چھ باتوں پر عمل کرنے والوں کے لیے جنّت میں داخل ہونے کی گارنٹی دی ہے۔
لطیفہ:میں ایک مرتبہ دھورا جی کے اندر ندی کے میدان میں وعظ بیان کرکے اپنی قیام گاہ ’’مدرسہ مسکینیہ‘‘میں جارہا تھا تو جامع مسجد کے چھتے کے نیچے ایک مست فقیر نے مجھ کو مخاطب کرکے یہ کہا کہ اے مولوی! اتنا لمبا وعظ مت کہا کربس لوگوں سے اتنا کہدے کہ’’زبان اور فَلان کی حفاظت کرو‘‘اُس وقت تو میں ہنس کر چل دیا اور اس جُملہ کو کوئی اہمیت نہیں دی لیکن جب دورئہ حدیث پڑھاتے ہوئے بخاری شریف کی اس حدیث پر نظر پڑی کہ
مَنْ یُّضْمَنْ لِیْ مَا بَیْنَ لَحْیَیْہٖ وَ مَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنْ لَہُ الْجَنَّۃَ(3) (مشکوۃ، باب حفظ اللسان، ص ۴۱۱)
جوشخص میرے لیے اپنے دونوں کَلَّوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرمگاہ) کا ضامن ہوجائے میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں ۔
تو میری آنکھیں کھل گئیں کہ واقعی اُس مست فقیر نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا وہ فرمانِ رسول ہی کی ایک دلچسپ تعبیر تھی کہ زبان اور فَلان کی حفاظت کرو۔

∞ [1] ترجمہء کنز الایمان :کیا میں تمہارا رب نہیں ،سب بولے کیوں نہیں ،ہم گواہ ہوئے۔(پ۹،الاعراف:۱۷۲)
[2] ترجمہء کنز الایمان:اپنے قول پورے کرو۔(پ۶،المآئدۃ:۱)[3] مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب حفظ اللسان۔۔۔الخ، الحدیث:۴۸۱۲،ج۲،ص۱۸۹

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 25