- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 17
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ قَالَ:کَانَ عَبْدُ اللّٰہ یُذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِیْسٍ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ:یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُ اَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا کُلَّ یَوْمٍ۔قَالَ:اَمَا اِنَّہٗ یَمْنَعُنِیْ مِنْ ذٰلِکَ اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ وَاِنِّیْ اَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَخَوَّلُنَا بِھَا مَخَافَۃَ السَّامَۃِ عَلَیْنَا۔ (صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومۃ، الحدیث:۷۰، ۱،ص۴۲)
عن ابی وائل قال:کان عبد اللہ یذکر الناس فی کل خمیس فقال لہ رجل:یا ابا عبد الرحمن لوددت انک ذکرتنا کل یوم۔قال:اما انہ یمنعنی من ذلک انی اکرہ ان املکم وانی اتخولکم بالموعظۃ کما کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتخولنا بھا مخافۃ السامۃ علینا۔ (صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من جعل لاھل العلم ایاما معلومۃ، الحدیث:۷۰، ۱،ص۴۲)
حدیث ترجمہ
حضرت ابو وائل ( شقیق بن سلمہ ) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہر جمعرات کے دن وعظ فرمایا کرتے تھے تو ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن!میری تمنا ہے کہ آپ روزانہ ہم کو وعظ سُنایا کریں تو آپ نے فرمایا کہ( روزانہ وعظ کہنے سے) جو چیز مجھے روکتی ہے وہ یہ ہے کہ میں تم لوگوں کو تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا اور تمہاری فرصت کا خیال رکھتا ہوں جیسے کہ نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموعظ سنانے میں ہماری فرصت کا خیال رکھتے تھے اس خوف سے کہ ہم اکتا نہ جائیں ۔
شرح حدیث
حضرت عبداللّٰہبن مسعود:اس حدیث کے راویوں میں حضرت عبداللّٰہبن مسعود صحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت جامع فضائل و کمالات ہیں ابتدا ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لیے سابقین اولین میں آپ کا شمار ہے۔
یہاں تک کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ چھٹے مسلمان ہیں ۔مکہ سے حبشہ اور حبشہ سے مدینہ دونوں ہجرتوں کاشرف آپ کو حاصل ہے ۔آپ کی کنیت ابو عبد الرحمن اور لقب ’’صَاحِبُ النَّعْلَیْنِ وَالْوِسَادَۃِ وَالْمِطْہَرَۃِ‘‘ہے یعنی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نعلین اور مَسْنَد،نیزوضو کا برتن اور مسواک وغیرہ آپ ہی کی تحویل میں رہتی تھیں ۔ جنگ بدر اور دوسری لڑائیوں میں بھی شریک جہاد رہے اور عمر بھر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں اس طرح حاضر باش اور راز دار رہے کہ باہر سے آنے والے لوگ آپ کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھر کا ایک فرد سمجھتے تھے ۔آپ بہت ہی دبلے پتلے اور پستہ قد تھے ۔ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو جنت کی بشارت دی اور یہ فرمایا کہ میں اپنی امت کے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو یہ پسند کریں اور اسی کو ناپسند سمجھتا ہوں جس کو یہ ناپسند کریں ۔ امیر المؤمنین حضرت عمررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاور امیر المؤمنین حضرت عثمانرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے دور خلافت میں کوفہ کے قاضی اور بیت المال کے منیجر رہے آٹھ سو اڑتالیس حدیثیں آپ سے مروی ہیں ۔فقہ حنفی کا دارومدارزیادہ تر آپ ہی کی روایات پر ہے۔ آخری عمر میں آپ کوفہ سے مدینہ چلے آئے اور ۳۲ھ میں ساٹھ سال سے زیادہ عمر پاکر وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ (1)
(اکمال وفیوض الباری،ص۱۰۸)
فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو امام بخاری نے اس کے علاوہ ’’ کتاب الدعوات‘‘ میں اور مسلم نے باب توبہ میں اور ترمذی نے باب اِسْتِیْذَان میں ذکر کیا ہے۔{۲}حدیث کا مطلب واضح ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایسے وقت میں وعظ فرمایا کرتے تھے جب لوگ اپنے کام دھندے سے فرصت پاکر اطمینان سے سن سکیں ۔ اسی لیے حضرت عبداللّٰہبن مسعود ہفتہ میں ایک ہی مرتبہ جمعرات کے دن اپنے وعظ کا پروگرام رکھتے تھے تاکہ لوگ اس دن اپنے کاروبار سے فارغ ہوکر اور فرصت پاکر سکون و اطمینان کے ساتھ وعظ سن سکیں ۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وعظ کے جلسوں کے لیے وقت اور دن مقرر کردینے میں سامعین کو بڑی آسانی ہوا کرتی ہے کیوں کہ جب لوگوں کو پہلے سے معلوم رہتا ہے کہ فلاں دن اور فلاں وقت وعظ ہونے والا ہے تو لوگ اپنے کاموں سے فارغ ہوکر اور فرصت کا وقت نکال کر شوق سے وَعْظوں کے جلسوں میں شامل ہوتے ہیں اور ان کے کاروبار کا پروگرام بھی نہیں بگڑتا۔{۳}اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ محفل ِمیلاد شریف،جلسۂ رجبی شریف، جلسۂ بارہویں شریف،جلسۂ گیارہویں شریف وغیر ہ کے لئے وقت اور دن مقرر کرنا ہرگز ہرگز بدعت اور گناہ نہیں ہے بلکہ ایک جلیل القدر صحابی حضرت عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا طریقہ ہے کہ آپ نے جمعرات کے دن کو وعظ کے لیے معین اور مقرر فرمادیا تھا۔
جو لوگ میلاد شریف میں تعیین ِوقت اور تَداعی (ایک دوسرے کو دعوت دینے) سے چڑتے اور منہ بگاڑتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں اگر وہ تَعَصُّب اور ہٹ دھرمی کی عینک اتار کر اس حدیث کو دیکھ لیں تو ان پر بھی اس حقیقت کا انکشاف ہوجائے گاکہ کسی جائز کام کو دن مقرر کر کے کرنا نہ صرف جائز بلکہ اخلاص و نیت ِخیر کے ساتھ ہو تو مُسْتَحَب و مُسْتَحْسَن بھی ہے۔{۴}اس حدیث سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ علماء ِکرام کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ اپنے مَواعِظ اور تقریروں کے ذریعہ عوام میں تبلیغ و تذکیر کرتے ر ہیں ۔صحابۂ کرام اور تابعین و تبع تابعین بلکہ ان کے بعد کے علماء بھی برابر عوام کی اصلاح اور تبلیغ اسلام کی غرض سے وعظ و تقریر فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو ذر غفاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا قول تو یہ تھا کہ اگر تم لوگ میری گردن پر تلوار رکھ دو اور پھر اس حالت میں بھی اگر میں یہ سمجھ لوں کہ گردن کٹنے سے پہلے میں ایک بات جو میں نے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سُنی ہے اس کو تم لوگوں تک پہنچا سکوں گاتو اس کو ضرور پہنچادوں گا۔ (2) (بخاری،ج۱،ص۱۶){۵}اس حدیث میں ’’اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ‘‘کے جملے سے یہ مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ عالموں کو اپنے وعظوں میں اس کا لحاظ و خیال رکھنا چاہئے کہ لوگ وعظ سے اکتا کر رَنج و مَلال میں نہ پڑجائیں لہٰذا اتنی ہی دیر تک وعظ بیان کرنا چاہئے جب تک لوگ نِشاط اور شوق کے ساتھ سنتے رہیں ۔وعظ کو اتنا طول نہیں دینا چاہئے کہ لوگ گھبرا کر بددلی کے ساتھ سننے لگیں ورنہاللّٰہو رسولعَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کلام و احکام کو سننے میں بے رغبتی کا گناہ لازم آئے گا۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۵
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب قول النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۷۰[2] صحیح البخاری،کتاب العلم،باب العلم قبل القول والعمل، ج۱، ص۴۲
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 17