- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 20
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا کَانَ اُمَرَائُکُمْ خِیَارَکُمْ وَاَغْنِیَائُکُمْ سَمْحَائَکُمْ وَاُمُوْرُکُمْ شُوْریٰ بَیْنَکُمْ فَظَھْرُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ بَطْنِھَا وَاِذَا کَانَ اُمَرَائُکُمْ شِرَارَکُمْ وَاَغْنِیَائُکُمْ بُخَلَائَکُمْ وَ اُمُوْرُکُمْ اِلٰی نِسَائِکُمْ فَبَطْنُ الْاَرْضِ خَیْرٌ لَّکُمْ مِنْ ظَہْرِھا۔ رواہ الترمذی ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۶۸، ج۲، ص۲۷۵)
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا کان امرائکم خیارکم واغنیائکم سمحائکم وامورکم شوری بینکم فظھر الارض خیر لکم من بطنھا واذا کان امرائکم شرارکم واغنیائکم بخلائکم و امورکم الی نسائکم فبطن الارض خیر لکم من ظہرھا۔ رواہ الترمذی ( مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب تغیرالناس، الحدیث:۵۳۶۸، ج۲، ص۲۷۵)
حدیث ترجمہ
حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جب تمہارے اُمراء تم میں سے بہترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارا معاملہ آپس کے مشوروں سے طے ہوتا رہے تو تمہارے لیے زمین کی پیٹھ زمین کے پیٹ سے بہتر ہے اور جب تمہارے اُمراء بدترین لوگ ہوں اور تمہارے مالدار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات تمہاری عورتیں طے کرنے لگیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ زمین کی پیٹھ سے بہتر ہے۔
شرح حدیث
شرحِ حدیث: اس حدیث میں زمین کی پیٹھ سے مُراد’’زمین کے اُوپر زندہ رہنا‘‘ اور زمین کے پیٹ سے مُراد ’’مرکرزمین میں مدفون ہونا‘‘ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سلطنت کے اُمراء اور حکومت کے حُکّام نیک اور صالح لوگ ہوں گے تو ان کے عدل و انصاف سے زمین پر امن و امان اور سکون و اطمینان کا دور دورہ ہوگا اور ظلم و طُغْیان سرکشی و عِصْیان غرض ہر قسم کے جَرائم کا نام و نشان مٹ جائے گااور دن رات زمین پر رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا رہے گا۔
اسی طرح جب مالدار سخی ہوں گے تو وہ اپنی دولت کو نیک کاموں میں خرچ کریں گے اور مساجد و مدارس اور دوسرے دینی اداروں اور اسلامی مرکزوں کی ترقی اور رونق بڑھے گی،کوئی ننگا بھوکا نہیں رہے گا، غرباء مالداروں سے محبت کریں گے، امیری فقیری کی جنگ ختم اور طبقاتی کشمکش کا خاتمہ ہوجائے گا۔
اسی طرح جب اُمراء اور حُکّام کا تقرر اور تمام قومی معاملات آپس کے مشوروں سے طے پاتے رہیں گے تو بغض و کینہ اور تَحاسُد و تَباغُض کا روئے زمین سے جنازہ نکل جائے گااور ہر شخص کو سکون و اطمینان کے ساتھ نیکیوں اور اعمالِ صالحہ میں مصروف و مشغول رہنے کا موقع ملے گا ایسی صورت میں جبکہ روئے زمین کا چپہ چپہ امن و چین اور سکون و راحت کی جنت بناہوا ہو اور ہرطرف تجارتِ آخرت کے بازار میں چہل پہل اور رونق ہی رونق نظر آرہی ہو تو بلاشبہ یقینا ایک مسلمان کی زندگی اس کی موت سے بدرجہا خوشتر اور زمین کی پیٹھ زمین کے پیٹ سے بہتر ہوگی۔
برخلاف اس کے، جب حکومت کے امرا ء و حکام بدکار و حرام کار اور عیاش و بدمعاش ہوں گے تو ظاہر ہے کہ عدل و انصاف نہ ہونے سے زمین پر ہرطرف فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوگا اور ہر چہار جانب روئے زمین پر نِراج بلکہ شیطان کا راج ہوگا۔
اسی طرح جب مالدار بخیل ہوجائیں گے اور صدقات و خیرات کا دروازہ بند ہوجائے گا تو غرباء و مساکین ننگے بھوکے ہوں گے،مزدور و سرمایہ دار کی جنگ شروع ہوجائے گی اور طبقاتی کشمکش کا اژدہا منہ پھاڑے ہوئے زمین پر لہراتا ہوگا۔ مساجد و مدارس کی رونق میں کمی اور دینی اداروں کی بہاریں نذرِ خزاں اور اسلامی مراکز کے گلشنوں میں ویرانی کے اُلُّو بول رہے ہوں گے۔دینداری کی مجلسوں کے چراغ بجھ چکے ہوں گے اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیراہوگا۔
اسی طرح جب لوگ تمام معاملات میں عورتوں کے مشوروں کو دَخِیل بنالیں گے تو ظاہر ہے کہ یہ ناقصاتِ عقل و دین ایسا ہی مشورہ دیں گی جو تباہی و بربادی کا سگنل اور دین و دنیا کی خرابیوں کے لئے ہری جھنڈی ہوگی اور ملک و ملت کی ساری شان و شوکت غارت ہوکر رہ جائے گی۔غرض ساری دنیا طرح طرح کے جرائم و مفاسد کے بھیانک جنگل اور پوری زندگی دینی و دنیاوی ہلاکتوں اور بربادیوں کا جہنم بن کر رہ جائے گی۔ایسی صورت میں بلاشبہ یقینا ایک مسلمان کی موت اس کی زندگی سے بدرجہا اچھی اور زمین کا پیٹ زمین کی پیٹھ سے ہزاروں درجہ بہتر ہوگا۔
اسی لیے ایک حدیث شریف میں حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَا تَذْھَبُ الدُّنْیَا حَتَّی یَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَی القَبْرِ فَیَتَمَرَّغُ عَلَیْہِ وَیَقُوْلُ یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ مَکَانَ صَاحِبِ ھٰذَا الْقَبْرِ(1) (مسلم،ج۲،ص۳۹۴)
میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ دنیا اس وقت تک نہیں جائے گی یہاں تک کہ آدمی قبر پر جاکر لوٹے گااور کہے گا کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ پر میں ہوتا۔توبہ توبہ !نَعُوْذُ بِاللّٰہ مِنْہ!یااللّٰہ! ہم ان فتنوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔
∞ [1] صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب لا تقوم الساعۃ حتی یمر الرجل۔۔۔الخ، الحدیث:۲۹۰۷،ص۱۵۵۵
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 20