- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 24
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلٰی حَصِیْرٍ فَقَامَ وَقَدْ اَثَّرَ فِیْ جَسَدِہٖ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! لَوْ اَمَرْتَنَا اَنْ نَبْسُطَ لَکَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: مَا لِیْ وَلِلدُّنْیَا وَمَا اَنَا وَالدُّنْیَا اِلَّا کَرَاکِبٍ اِسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَکَہَا۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الفصل الثانی، الحدیث:۵۱۸۸، ج۲،ص ۲۴۷)
عن ابن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نام علی حصیر فقام وقد اثر فی جسدہ فقال ابن مسعود: یارسول اللہ! لو امرتنا ان نبسط لک ونعمل فقال: ما لی وللدنیا وما انا والدنیا الا کراکب استظل تحت شجرۃ ثم راح و ترکہا۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الفصل الثانی، الحدیث:۵۱۸۸، ج۲،ص ۲۴۷)
حدیث ترجمہ
حضرت عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے کہ رسولاللّٰہعَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک چٹائی پر سو کر جب اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کا نشان پڑگیا تھا تو عبداللّٰہبن مسعودرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاش! آپ ہم لوگوں کو حکم فرماتے کہ ہم لوگ آپ کے لیے بچھونا بچھا دیتے اور آپ کی راحت کا سامان کردیتے تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا مطلب میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں (کچھ دیر )بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔
شرح حدیث
فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی اور امام ابن ما جہ نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔{۲}اس حدیث میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دنیا سے بے رغبتی ،عیش و آرام سے نفرت اور مُتَواضِعانہ زندگی کی ایک ایسی تصویر نظر آتی ہے کہ اس کے تصور ہی سے ہم دنیا داروں کے قلب پرچوٹ لگتی ہے کہاللّٰہ اللّٰہ!دونوں عالم کے سردار،محبوب پروردگار، حضور احمدِ مختارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک کُھرّی ،کھردری چٹائی پر بغیر بچھونے کے سوتے تھے یہاں تک کہ چٹائی کی تیلیوں سے محبوبِ خدا کے جسمِ نازک پر نشان پڑ جاتے تھے۔ حضرت عبداللّٰہبن مسعود اس روح فَرْسا منظر کی تاب نہ لاسکے، بلبلا اُٹھے اور چٹائی پر بچھونا بچھادینے کی تمنا ظاہر کی تو شہنشاہ ِ کونین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ مجھ کو دنیا کے عیش و آرام سے کیا مطلب اور مجھے دنیا سے کیا تعلق میری دُنیاوی زندگی کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی سوارسفر میں اپنی منزلِ مقصود کی طرف جارہا ہے راستے میں کوئی سایہ دار درخت مل گیا تو وہ تھوڑی دیر کے لیے اس درخت کے سایہ میں بیٹھ گیاپھر اس درخت کو چھوڑ کر چل دیا ۔یہی مثال دنیا کی ہے کہ ہم سب عالَم ِآخرت کے مسافر ہیں اور زمانے کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہیں ، عالَم ِآخرت کو جاتے ہوئے یہ عالَم ِدنیا ایک سایہ دار درخت کی طرح راستے میں مل گیا ہے اس سائے میں چند دن بیٹھ کر پھر اس کو چھوڑ کر اپنی منزل مقصود یعنی عالَم ِآخرت کی طرف روانہ ہوجانا ہے تو جس طرح سائے دار درخت کے سائے میں بیٹھنے والا مسافر نہ وہاں پلنگ بچھاتا ہے نہ بچھونا بچھاتا ہے نہ مکان بناتا ہے نہ کوئی عیش و آرام کا سامان کرتا ہے اسی طرح میں بھی اس دنیا میں بجز بقدر ضرورت سامان کے عیش و آرام کا کوئی ساز و سامان پسند نہیں کرتا ۔{۳}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو امیرانہ زندگی بالکل ہی پسند نہیں تھی۔بار بار فرمایا کرتے تھے کہ میں کوئی بادشاہ نہیں ہو ں کہ میں بادشاہوں کی طرح زندگی بسر کروں ۔ میں تو خدا کا رسول ہوں اور خدا کا بندہ ہوں ،میں ایک بندے کی طرح کھاتا ہوں ، ایک بندے کی طرح اُٹھتا بیٹھتا ہوں ،ایک بندے کی طرح زندگی بسر کرتا ہوں ۔{۴}آپ کو مسکینوں کی زندگی سے بے حد محبت تھی۔چنانچہ حضرت انسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا بیان ہے کہ آپ اس طرح دعا مانگا کرتے تھے کہ’’اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنَ‘‘یااللّٰہ! تو مجھ کو ایک مسکین کی زندگی عنایت فرما اور ایک مسکین کی موت عطا فرما اور مسکینوں کی جماعت میں میرا حشر فرما۔
یہ دُعاسن کر اُمُّ المؤمنین حضرت بی بی عائشہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہاصبر نہ کرسکیں اور عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ اس طرح کی دعا کیوں مانگ رہے ہیں ؟ تو ارشاد فرمایا :اِنَّھُمْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ اَغْنِیَائِ ھِمْ بِاَرْبَعِیْنَ خَرِیْفًا یَا عَائِشَۃُ! لَا تَرُدِّی الْمِسْکِیْنَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ یَاعَائِشَۃُ اَحِبِّی الْمَسَاکِیْنَ وَ قَرِّبِیْھِمْ فَاِنَّ اللّٰہ یُقَرِّبُکِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ(1) (مشکوۃ، باب الفقراء ،ص ۴۴۷)
یقینا یہ (مسکین )لوگ مالداروں سے چالیس برس پہلے جنّت میں داخل ہوجائیں گے،اے عائشہ!تومسکین کوخالی ہاتھ مت لوٹادے کچھ نہ ہو تو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دیدے، اے عائشہ ! تو مسکینوں سے محبت کر اور ان کو اپنے قرب میں جگہ دے تواللّٰہ تعالیٰتجھ کو قیامت کے د ن اپنا قرب عطا فرمائے گا۔
اسی طرح حضرت عبداللّٰہبن عمر صحابیرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکہتے ہیں کہ ایک دن حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جذبۂ محبت میں میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہکُنْ فِی الدُّ نْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ وَعُدَّ نَفْسَکَ فِیْ اَہْلِ الْقُبُوْرِ(2) (مشکوۃ، باب الامل و الحرص، ص ۴۵۰)
تم دنیا میں ایک پردیسی کی طرح رہو بلکہ ایک راستہ چلنے والے مسافر کی طرح رہو اور اپنی ذات قبر والوں (مُردوں ) میں سے شمارکرو۔
مطلب یہ ہے کہ پردیسی آدمی یا راستہ چلنے والا مسافر جس طرح بہت ٹھاٹھ باٹھ اور سازوسامان سے گِراں بار نہیں ہوتا اور پردیس یا راستہ سے کوئی زیادہ دلچسپی اور لگائو نہیں رکھتا اسی طرح تم بھی دُنیا کے سازوسامان سے زیادہ تعلق اور قلبی لگاؤ مت رکھو۔{۵}واضح رہے کہ جن خاص خاص صحابہ کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسکینوں کی زندگی بسر کرنے کا حکم دیا یہ کوئی وجوبی حکم نہیں تھا بلکہ یہ استحبابی حکم تھا ۔یہ حضور رحمت ِعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کمالِ کرم ہے کہ خود تو مسکینوں کی زندگی گزاری مگر اپنی اُمّت کو ہر قسم کی حلال راحتوں اور جائز سازوسامان رکھنے کی اجازت عطا فرمائی ہے اور اس بارے میں اپنی امت کو قرآن کا یہ فرمان بار بار سُنایا ہے کہقُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ(3)
یعنی اے محبوب! آپ لوگوں کو سناد یجئے کہ کس نےاللّٰہکی اُس زینت کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے نفع اٹھانے کے لیے پیدا فرمائی ہے اور کون ہے جو حلال اور پاکیزہ رزق کو حرام ٹھہرائے
بہر حال ہر قسم کے آرام و راحت کے سامانوں کو بشرطیکہ وہ حلال اور جائز ہوں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی امت کو اس کے استعمال کرنے اور اس سے نفع اُٹھانے کی اجازت دی ہے۔لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ہر قسم کا سامانِ راحت رکھنا اور برتنا جائز ہے ۔بس شرط یہی ہے کہ وہ حلال اور جائز ہو۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب فضل الفقراء۔۔۔الخ، الحدیث:۵۲۴۴، ج۲،ص۲۵۵[2] مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،باب الامل والحرص، الحدیث:۵۲۷۴، ج۲،ص۲۵۹[3] ترجمہء کنزا لایمان:تم فرماؤ کس نے حرام کیاللّہکی وہ زینت جو اس نے اپنے بندو ں کے لیے نکالی اور پاک رزق۔(پ۸،الاعراف:۳۲ )
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 24