- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 37
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہٗ اِلَّا مِنْ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْعِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہٗ۔ رَوَاہ مُسْلِم۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الاوّل، الحدیث:۲۰۳، ج۱،ص۶۰)
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلثۃ الا من صدقۃ جاریۃ اوعلم ینتفع بہ او ولد صالح یدعو لہ۔ رواہ مسلم۔ ( مشکاۃ المصابیح،کتاب العلم،الفصل الاول، الحدیث:۲۰۳، ج۱،ص۶۰)
حدیث ترجمہ
حضرت ابو ہریر ہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہے کہ جب انسا ن مرجاتا ہے تو اس سے اس کے عمل کا ثواب کٹ جاتا ہے مگر تین عمل سے (کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ){۱}صدقہ جاریہ کا ثواب{۲}یا اس علم کاثواب جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں{۳}یانیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔
شرح حدیث
شرحِ حدیث:انسان جب تک زندہ رہتا ہے قسم قسم کے اعمال ِصالحہ کرتا رہتا ہے اور اس کے نیک اعمال کا ثواب ملتا رہتا ہے مگر جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اس کے اجر و ثواب کا سلسلہ بھی کٹ جاتا ہے لیکن تین آدمی ایسے خوش نصیب ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان کے اعمال کے اجر و ثواب کا سلسلہ قائم رہتا ہے اور برابر ان کی قبروں میں ثواب پہنچتا رہتا ہے۔
ان میں سے پہلا شخص تو وہ ہے جو اپنی زندگی میں کوئی ’’صدقہ جاریہ ‘‘ کر کے مرا ہو تو اگر چہ وہ مرکر قبر میں سو رہا ہے اور کوئی عمل نہیں کررہا ہے مگر اُس کے نامۂ اعمال میں اس کے ’’صدقہ جاریہ ‘‘کا ثواب برابر درج ہوتا رہتا ہے ۔
’’صدقہ جاریہ ‘‘کیا ہے؟ مثلًا مسجد بنوانا، مدرسہ بنوانا، کنواں بنوانا، مسافر خانہ بنوانایاکارخیر کے لیے کوئی جائداد وقف کردینا ۔جب تک یہ چیزیں باقی رہیں گی برابر ان کے ثواب کا سلسلہ قائم رہے گا اور ہر لحظہ اور ہر لمحہ اس کا ثواب ملتا رہے گا۔اس کی بنوائی ہوئی مسجدمیں جو نمازیں پڑھیں جائیں گی اور جتنی نمازیں پڑھیں جائیں گی جس طرح نماز پڑھنے والوں کو ثواب ملے گا اسی طرح مسجد بنوانے والے کو بھی اس کا ثواب ملتا رہے گا۔اس کے بنوائے ہوئے مدرسہ میں جو لوگ پڑھیں ،پڑھائیں گے، اس کے بنوائے ہوئے کنویں سے جتنے پیاسے سیراب ہوں گے،جتنے لوگ وضو کریں گے ان سب کا ثواب مدرسہ اورکنواں بنوانے والے کو ملے گا۔اسی طرح جائداد موقوفہ سے جتنے کارخیر ہوں گے سب کا ثواب واقف کو ملتا رہے گااور وقف کرنے والے کی قبر میں اجر و ثواب پہنچتا رہے گا۔
دوسر ا شخص و ہ ہے جو کوئی ایسا علم چھوڑ کر مرا ہوجس سے اُمَّت ِرسو ل کو نفع حاصل ہوتا ہومثلًا کوئی مفید کتاب لکھ کر مرا ہویا کچھ شاگردوں کو علم پڑھا کر مرگیا ہویا علم دین کی کتابیں خرید کر وقف کرگیا ہو تو جس طرح علم دین پڑھنے پڑھانے والوں کوثواب ملے گا اسی طرح اس شخص کو قبر میں بھی اجر و ثواب ملتا رہے گا۔
تیسرا شخص وہ ہے جس نے اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت دے کر نیک اور صالح بنادیا ہو تو اس کے مرنے کے بعداس کی سب اولادجو اس کے لیے ایصال ثواب اور دعا ئے مغفرت کرتی رہے گی اس کا اجر و ثواب اس کو ہمیشہ ملتا رہے گا۔خداوند کریم ہر مسلمان کودنیا میں ان تینوں اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 37