- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 7
حدیث مبارکہ
عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللّٰہ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:۵۲،ج۱،ص۳۳)
عن عامر قال:سمعت النعمان بن بشیر یقول:سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول الحلال بین والحرام بین وبینھما مشتبھات لا یعلمھا کثیر من الناس فمن اتقی المشبھات استبرا لدینہ و عرضہ ومن وقع فی الشبھات کراع یرعی حول الحمی یوشک ان یواقعہ الا وان لکل ملک حمی الا ان حمی اللہ فی ارضہ محارمہ الا وان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرا لدینہ،الحدیث:۵۲،ج۱،ص۳۳)
حدیث ترجمہ
عامر (شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیررضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک ’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔
شرح حدیث
حضرت نعمان بن بَشِیْر:اس حدیث کے راوی نعمان بن بشیر اَنصاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہمشہور صحابی ہیں ۔ان کے والدین بھی صحابی ہیں ہجرت کے بعد قبیلہ انصار میں جو سب سے پہلا بچہ پیدا ہوا وہ آپ ہی ہیں ۔حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ برس سات ماہ کی تھی۔ حضرت امیر مُعاوِیہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکے دور حکومت میں آپ کوفہ کے گورنر تھے ۔آپ سے کل ایک سو چودہ حدیثیں مروی ہیں ۔ ۶۴ھ یا ۶۵ھ میں شہر ِ حَمص کے اندر آپ کی شہادت ہوئی صحابہ کرام میں تقریباً تیس آدمیوں کا نام’’ نعمان‘‘ ہے مگر نعمان بن بشیر یہی ایک ہیں ۔ (1) (اکمال وفیوض الباری،ج۱،ص۲۰۲)
شرحِ حدیث: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کون کون سی چیزیں حلال ہیں اور کون کون سی چیزیں حرام ہیں یہ تو بالکل واضح اور ظاہر ہے اور اس کو ہر عالم جانتا ہے کہ قرآن و حدیث نے جن جن چیزوں کو حلال قرار دیاوہ حلال ہیں جیسے پانی، گیہوں ، چاول، میوہ وغیرہ اور جن جن چیزوں کو حرام ٹھہرادیا وہ حرام ہیں جیسے شراب، مردار، خنزیر وغیرہ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا حلال یا حرام ہونا مُشْتَبَہ ہے اور دلائل میں تعارض ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے حلال یا حرام ہونے کو نہیں جانتے۔ لہٰذا جو شخص حرام کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ان مُشْتَبَہ چیزوں کو بھی چھوڑ دے گا اس کا دین محفوظ اور اس کی آبرو سلامت رہے گی۔ اور جو شخص مُشْتَبَہ چیزوں سے پرہیز نہیں کرے گا وہ کبھی نہ کبھی حرام میں بھی ضرور مبتلا ہوجائے گا ۔اس شخص کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی چرواہا اگر اپنے جانوروں کو بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے ارد گرد چرائے گا تو کبھی نہ کبھی اس کے جانور بادشاہ کی محفوظ چراگاہ میں بھی ضرور داخل ہوجائیں گے اور یہ چرواہا غضب سلطانی کی سزا میں گرفتار ہوجائے گا۔
حضوراکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ ایک مثال دے کر سمجھاتے ہیں کہ جس طرح ہر بادشاہ کی ایک محفوظ و مخصوص چراگاہ ہوتی ہے جس میں کسی جانور کو چرانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اس کو ’’ حِمیٰ‘‘کہتے ہیں اسی طرح بادشاہوں کے بادشاہاللّٰہ تعالیٰنے بھی کچھ چیزوں کو حرام ٹھہرا کر ہر شخص کو منع فرمادیاہے کہ خبردار کوئی اس کے قریب نہ جائے ۔تو یہ حرام چیزیں گویااللّٰہ تعالیٰکی ’’حِمیٰ‘‘ ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی حمی میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی اسی طرحاللّٰہ تعالیٰکی حرام کی ہوئی چیزوں کے پاس کسی کو پھٹکنے کی اجازت نہیں ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو حرام اورمُشْتَبَہ دونوں قسم کی چیزوں سے بچنا اور پرہیز کرنا ضروری ہے۔
پھر آگے ارشاد فرمایا کہ انسان کے بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ وہ اگرچہ ایک چھوٹی سی گوشت کی بوٹی ہے مگر اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر وہ درست اور ٹھیک ہے تو سارا بدن درست اور ٹھیک رہے گا اور اگر وہ بگڑ گیا تو سارا بدن بگڑ جائے گااس لئے کہ ہر اچھا یا بُرا خیال اور جذبہ اسی دل ہی میں پیدا ہوتا ہے اور بد ن کا ہر ایک عُضْو اسی دِلی خیالات و جذبات کے مطابق ہی اپنے اپنے عمل میں مَشْغول ہوا کرتا ہے تو دل گویا تمام اعضائِ بدن کا حاکم بلکہ بادشاہ ہے۔لہٰذا اگر دل میں نیکی کا جذبہ اور خیال پیدا ہوا تو بدن کا ہرہر عُضْو اور جوڑ جوڑ نیکی کے اعمال میں مَشْغول ہوجائے گااور اگر دل میں بدی کا خیال اور جذبہ ہواتو پھر بدن کا ایک ایک عُضْو اور جسم کی ایک ایک بوٹی بدی اور گناہ کی حرکتوں میں مصروفِ عمل ہوجائے گی تو پتہ چلا کہ پورے بدن کی اصلاح و فساد کا دارومدار قلب پر ہی ہے۔اسی لئے تمام علمائِ شریعت و اربابِ طریقت کا اس حقیقت پر اجماع و اِتِّفاق ہے کہ قلب اشرفُ الاعضاء بلکہ پورے بدن کا بادشاہ ہے لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے قلب کی اصلاح کرے ۔
اور در حقیقت تمام عقائد ِاِسلامیہ اورصوفیائِ کرام کے اَذکار و مُراقَبات اسی دل ہی کی اصلاح کے لئے ہیں اور جس دل کی اصلاح ہوگئی اور وہ ’’قلب ِسلیم‘‘ کہلانے کا مستحق ہوگیا تو اس کو اگر ’’عرشِ الٰہی‘‘کا ہم پایا اور خانہ خدا کا ہم پلہ کہہ دیا جائے تو یہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہوگا جو آفتاب کی طرح عالَم پر آشکار ہے۔حضرت مولانا آسیعلیہ الرحمۃنے اسی دل کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ؎∞
بُتِ پندار جب اس میں سے جدا ہوتا ہے یہی دل رتبے میں کعبہ سے سوا ہوتا ہے
دل جو ہے خاص گھر اس کا نہ بنایا افسوس مسجد و دَیر بنایا کرو کیا ہوتاہے
اسی طرح کسی دوسرے عارِف نے بھی ’’قلب ِمومن‘‘کی عظمت کا خطبہ پڑھتے ہوئے کیا خوب کہا ہے؎∞
دل کا بھی اک مقام ہے واعظ مسجد و خانقاہ سے پہلے!
فوائد و مسائل:{۱}اس حدیث کو امام بخاری و مسلم و نسائی نے کتابُ البُیُوع میں بھی ذکر کیا ہے ا ور ابن ما جہ نے اس حدیث کو کتاب الفِتَن میں تحریر کیا ہے۔{۲}علامہ خَطَّابیعلیہ الرحمۃنے فرمایا ہے کہ اس حدیث میںلا یعلمھا کثیر من الناسکے الفاظ سے معلوم ہوا کہ اکثر لوگ یعنی عوام تو مُشْتَبِہات کے حکم کو نہیں جانتے مگر بعض لوگ یعنی ا ئمۂ مُجْتَہِد ین اپنے اِجْتِہاد علمی کی بَصیرت سے دلائل کے تَعارض کو چھان بین کر مُشْتَبِہات کو خوب اچھی طرح جان پہچان لیتے ہیں کہ وہ حرام ہیں یا حلال۔ ’’مُشْتَبِہات‘‘ ان ہی لوگوں کے لئے مُشْتَبَہ ہیں جو عوام ہیں اور اِجْتِہادی بَصِیرت سے مَحروم ہیں ۔(2) (عینی،ج۱،ص۳۵۰) لیکن ہاں یہ ممکن ہے کہ مُجْتَہِد بھی باوجود دَلائل میں انتہائی غور و فکر کرنے کے بعض مُشْتَبِہات کے حکم کو نہ پہچان سکے ۔چنانچہ مشہور ہے کہ کھجور کی نَبِیْذ کے متعلق امام اعظمرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِفرمایا کرتے تھے میں خود اس کو استعمال نہیں کرسکتا لیکن میں اس کے حرام ہونے کا فتوی بھی نہیں دے سکتا ۔حضرت امام کے اس قول کی وجہ یہی ہے کہ آپ کو اس کے حکم کے بارے میں اِشْتِباہ تھا اس لئے تقویٰ کا تقاضا یہی تھا کہ مُشْتَبَہ چیزوں سے بھی پرہیز کیا جائے۔ (3) (فیوض الباری،ج۱،ص۲۰۳){۳}اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز جس کے حلال و حرام ہونے میں شبہ ہو اس سے پرہیز ہی کرنا چاہئے ۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف النون،فصل فی الصحابۃ، ص۶۲۰
وفیوض الباری، پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،ج۱، ص۲۷۷[2] عمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ، تحت الحدیث:۵۲،ج۱،ص۴۴۰ملخصاً[3] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،ج۱،ص۲۷۸،۲۷۹ملخصاً
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 7