Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَارِزًا یومًا لِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ:مَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَبِلِقَائِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ قَالَ:مَا الْاِسْلَامُ؟ قَالَ:اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قاَلَ: مَا الْاِحْسَانُ؟ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتٰی السَّاعَۃُ؟ قَالَ:مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذَا وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمُ فِی الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللّٰہ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ اَلْاٰیَۃُ، ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ:ھٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَھُمْ۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب سؤال جبریل۔۔۔الخ،الحدیث:۵۰،ج۱،ص۳۱)

عن ابی ہریرۃ قال:کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بارزا یوما للناس فاتاہ رجل فقال:ما الایمان؟ قال:الایمان ان تومن باللہ وملئکتہ وبلقائہ ورسلہ وتومن بالبعث قال:ما الاسلام؟ قال:الاسلام ان تعبد اللہ ولا تشرک بہ وتقیم الصلاۃ وتودی الزکاۃ المفروضۃ وتصوم رمضان قال: ما الاحسان؟ قال: ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک قال: متی الساعۃ؟ قال:ما المسئول عنہا باعلم من السائل وساخبرک عن اشراطھا اذا ولدت الامۃ ربھا واذا تطاول رعاۃ الابل البھم فی البنیان فی خمس لا یعلمھن الا اللہ ثم تلا النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم:ان اللہ عندہ علم الساعۃ الایۃ، ثم ادبر فقال: ردوہ فلم یروا شیئا فقال:ھذا جبریل جائ یعلم الناس دینھم۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب سوال جبریل۔۔۔الخ،الحدیث:۵۰،ج۱،ص۳۱)

حدیث ترجمہ

حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں سے ملاقات کے لئے مکان سے باہر تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ایمان کیا ہے ؟ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہاللّٰہکو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی ملاقات کو اور اس کے رسولوں کو اور موت کے بعد اُٹھنے کو تو دل سے مان لے ۔اس نے کہا: اسلام کیا ہے ؟ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو خاصاللّٰہ تعالیٰہی کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے کہاکہ احسان کیا ہے ؟تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تواللّٰہکی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تواللّٰہ تعالیٰکو دیکھ رہا ہے پس اگر تو اس کو نہیں دیکھتاتو (اس طرح عبادت کرکہ ) وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ہاں میں ابھی تجھ کو قیامت کی کچھ نشانیاں بتاتاہوں (جو یہ ہیں ) جبکہ باندی اپنے مولیٰ کو جنے گی اور اونٹوں کے چرواہے کالے کالے رنگ والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر و گھمنڈ کرنے لگیں گے۔ یہ (علم ِقیامت ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کوخدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِنَّ اللّٰہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ( ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللّٰہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔(پ۲۱،لقمٰن:۳۴)کی آیت تلاوت فرمائی (جس میں قیامت وغیرہ پانچ چیزوں کا ذکر ہے ) پھر وہ (سائل) واپس چلا گیا۔ اس کے بعد حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اس کو واپس بلالاؤ ۔ تو لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ یہ حضرت جبریل تھے جو لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے تھے ۔

شرح حدیث

حضرت ابوہریرہ:اس حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت ہی عبادت گزار ، انتہائی متواضع اور پرہیز گار صحابی ہیں ۔ ابو سعید کا بیان ہے کہ یہ روزانہ بارہ ہزار رکعت نماز نفل پڑھتے تھے ۔ آپ یمن کے قبیلہ دوس سے تعلق رکھتے تھے ۔ زمانۂ جاہلیت میں آپ کا نام ’’عبد شمس‘‘ تھا ۔ ۷ھ؁ میں جنگ خیبر کے بعد مسلمان ہوئے ۔ اسلام لانے کے بعد آپ کا نام عبدالرحمن یا عبداللّٰہرکھا گیا ۔ ان کو بلّیوں سے بڑی محبت تھی ایک دن حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی آستین میں ایک بلّی کو دیکھا تو ان کویَا اَبَاہُرَیْرَۃَ(اے بلی کے باپ) کہہ کر پکارا ،اس دن سے آپ کا یہ لقب اس قدر مشہور ہوگیا کہ لوگ آپ کا اصلی نام ہی بھول گئے اسی لئے آپ کے نام میں بڑا اختلاف ہے ۔ آپ اصحابِ صُفَّہ میں سے ہیں ۔آپ نے ایک دن حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شکایت کی کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں آپ کی حدیثوں کو بھول جاتاہوں تو حضور نے حکم دیا کہ تم اپنی چادر کو زمین پر پھیلادو ۔ چنانچہ انہوں نے اپنی چادر پھیلادی پھر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ حدیثیں بیان فرمائیں اور ان سے ارشاد فرمایاکہ اس چادر کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگا لو ۔ اس کے بعد حضرت ابو ہریرہرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا حافظہ اتنا قوی ہوگیا کہ جو کچھ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا اس کو عمر بھر فراموش نہیں کرسکے۔ آٹھ سو صحابہ اور تابعین حدیث میں آپ کے شاگرد ہیں ۔ آپ نے پانچ ہزار تین سو چوہتر حدیثیں روایت فرمائیں ہیں ۔ جن میں سے چار سو چھیالیس حدیثیں بخاری شریف میں ہیں ۵۹ھ؁ میں اٹھترسال کی عمر پاکر مدینہ منورہ میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مَدْفون ہوئے ۔(1) (اکمال ،قسطلانی، ج ۱ ،ص ۱۲ ۲،عینی ،ج۱ ،ص ۱۲۶)
اس حدیث کی شان:
{۱}اس حدیث کو امام بخاریعلیہ الرحمۃنے کتاب التفسیر اور کتاب الزکوٰۃ میں بھی ذکر کیا ہے اور امام مسلم اور امام نسائی نے کتاب الایمان میں ، امام ابن ما جہ نے سنن و فتن میں ، امام ابوداؤد نے ’’سنت‘‘ میں متعدد سندوں اور مختلف لفظوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اسی طرح امام ترمذی وامام احمد وغیرہ محدثین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اس حدیث کو درج فرمایا ہے ۔ امام بغوی نے اپنی دونوں کتابوں ’’مصابیح‘‘ اور’’شرح ُالسُّنَّۃ‘‘ کا آغاز اسی مضمون کی حدیث سے کیاہے اور حضرت علامہ قاضی عیاضعلیہ الرحمۃنے فرمایا ہے کہ یہ حدیث تمام وظائف اور ظاہری وباطنی عبادتوں کی جامع ہے۔ (2) (فیوض الباری، ج۱،ص۱۸۷){۲}حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویعلیہ الرحمۃنے اس حدیث کے بارے میں فرمایا کہ اس حدیث کو علماء محدثین ’’حدیث ِجبریل‘‘یا’’حدیث ِاُمُّ الاحادیث‘‘یا ’’اُمُّ الجَوامع‘‘ کہتے ہیں ۔ اس کا نام ’’حدیث ِ جبریل‘‘ اس لئے ہے کہ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے ایک آدمی کی شکل میں آکر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال و جواب کیا اور اس کا لقب ’’اُمّ الاحادیث‘‘ اس طرح ہوگیا کہ جس طرح قرآن کی سورۂ فاتحہ کا نام’’ام القرآن‘‘ رکھ دیا گیا۔ ’’امّ‘‘ اصل اور جڑ کوکہتے ہیں ، جس طرح سورۂ فاتحہ اجمالی طور پر تمام قرآنی مضامین کی جامع اور جڑ ہونے کی و جہ سے ’’اُمُّ القرآن ‘‘ یعنی قرآن کی اصل اور جڑ کہلاتی ہے اسی طرح یہ حدیث چونکہ تمام احادیث ِ نبویہ کے مضامین کو اجمالی طور پر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اس لئے یہ ’’امّ الاحادیث ‘‘ یا ’’امّ الجوامع‘‘ کہلاتی ہے۔ یعنی یہ تمام حدیثوں کی اصل اور جڑ ہے ۔(3)
توضیح الفاظ: اس حدیث میں مندرجہ ذیل دو الفاظ کی توضیح و تشریح بہت اہم اور ضروری ہے جو حسب ِ ذیل ہے: عبادت:پَرَسْتِش کرنا ، پوجنا یعنی انسان کسی کو اپنا خدا مان کر اس کی انتہائی تعظیم کرے اور اس کے سامنے اپنے کو انتہائی ذلت اور پستی میں سمجھے اور اس کے حضور اس قدر ذلیل اور پست بن جائے کہ جس کے بعد ذلت اور پستی کا کوئی درجہ ہی نہ ہو۔
واضح رہے کہ عبادت کے مفہوم میں یہ بات داخل ہے کہ جس کی عبادت کی جائے اس کے معبود (خدا) ہونے کا اعتقاد بھی ہو ۔ عبادت کرنے والے کو ’’عابد‘‘اور جس کی عبادت کی جائے اس کو ’’معبود‘‘کہتے ہیں ۔
تعظیم و عبادت میں فرق:تعظیم و عبادت میں یہی فرق ہے کہ ’’عبادت ‘‘میں تعظیم کے ساتھ اس ذات کی اُلوہِیَّت اور واجبُ الوجود اور مستحقِ عبادت ہونے کا اعتقاد بھی ہو اور تعظیم میں یہ اعتقاد نہیں ہوتا ۔لہٰذا خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ہرعبادت تعظیم ہے مگرہر تعظیم عبادت نہیں ہے اور غیر
اللّٰہکی عبادت تو شرک ہے مگر غیراللّٰہکی تعظیم ہرگز ہرگز شرک نہیں بلکہ بعض غیراللّٰہکی تعظیم تو فرضِ عین ہے ۔جیسے کعبہ معظمہ اور حضرات انبیاءعلیہم السلاموغیرہ یہ سب غیراللّٰہہیں بلاشبہ ان کی عبادت کرنا تو کھلا ہوا شرک ہے مگر ان کی تعظیم لازمُ الایمان اورفرضِ عین ہے ۔
جو لو گ عبادت اور تعظیم کے اس فرق سے ناواقف ہیں وہ کسی غیر
اللّٰہکی تعظیم کرتے ہوئے دیکھ کر جھٹ ’’شرک‘‘کا فتویٰ لگادیتے ہیں ۔ہمیشہ یاد رکھئے کہ غیراللّٰہکی تعظیم شرک اور عبادت اسی وقت قرار دی جائے گی جب کسی کو خدا سمجھ کر اس کی تعظیم کی جائے۔ اس کے علاوہ غیراللّٰہکی تعظیم کی جتنی بھی صورتیں ہیں وہ کوئی بھی ہرگز ہرگز ’’شرک‘‘ نہیں کہی جاسکتی ہیں ۔
شرک:شرک کے معنی یہ ہیں کہ
اللّٰہکے سوا کسی دوسرے کو خدا ماننا یاعبادت کے لائق سمجھنا یا خدا کی صفاتِ خاصَّہ میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی
قدس سِرُّہنے اشعۃ اللمعات ،ج۱، ص۶۱ پر تحریر فرمایا کہ شرک تین طرح کا ہوتا ہے:
ایک یہ کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرح کسی کو واجب الوجود مانے،
دوسرے یہ کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کسی کو خالق مانے،
تیسرے یہ کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرے۔ (4)
(تعظیم وعبادت اور شرک کی مزید تفصیل ہماری کتاب ’’عرفانی تقریریں ‘‘ میں پڑھ لیجئے)
شرحِ حدیث: یہ مختصر حدیث ہے، یہی حدیث دوسری سندوں کے ساتھ مُفَصَّل بھی آئی ہے جن میں آسمانی کتابوں،تقدیر،نیزحج کا بھی ذکر آیا ہے۔ بہر حال اس حدیث میں جن چیزوں کا ذکر آیا ہے ہم ان پر قدرے تفصیل کے ساتھ کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔
حدیث کا مطلب بالکل واضح اور ظاہر ہے کہ ایک دن حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں سے ملاقات کی غرض سے بجائے مکان کے میدان کی کھلی فضا میں تشریف فرما تھے یعنی حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دربار عام تھا اور صحابہ بارگاہ ِ رسالت میں حاضر تھے کہ اتنے میں حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامایک آدمی کی شکل وصورت میں رونق افروز ہوگئے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ سوال کیا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟تو حضور نے جواب میں ارشادفرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تماللّٰہاور اس کے فرشتوں اور اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں کو صدق دل سے مان لو اور مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت قائم ہونے پر بھی سچے دل سے یقین رکھو ۔
اس کے بعد حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَامنے دوسرا سوال کیا کہ اسلام کیا ہے ؟ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تماللّٰہکی عبادت کرو اور شرک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور رمضان کا روزہ رکھو۔
پھر حضرت جبریل علیہ السلا م نے تیسرا سوال کیا کہ احسان کیا ہے ؟ تو حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ جواب دیا کہ عبادت میں احسان یعنی اچھائی یہ ہے کہ تم خداعَزَّوَجَلَّکی عبادت اس طرح توجہ اوراخلاص کے ساتھ کرو کہ گویا تم خداعَزَّوَجَلَّکو دیکھ رہے ہو اور اگر اتنی توجہ اور حضور قلب تم کو حاصل نہ ہوسکے تو کم سے کم یہی دِھیان رکھو کہ خداعَزَّوَجَلَّتم کو دیکھ رہا ہے ۔
پھر حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَامنے چوتھا سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی؟ تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب میں یہ فرمایا کہ اس بات کو میں تم سے زیادہ نہیں جانتابلکہ اس کے بارے میں جتنا تم کو علم ہے اتنا ہی مجھ کو بھی علم ہے ۔
پھر حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت جبریل کے سامنے قیامت کی نشانیوں میں سے دو نشانیوں کا ذکر فرمایا۔ اوّل یہ کہ لونڈی اپنے مولیٰ کو جنے گی ،دوم یہ کہ کالے کلوٹے اونٹوں کے چرواہے اونچی اونچی بلڈنگوں اور محلوں میں فخر و تکبر کریں گے پھر آپ نے فرمایا کہ قیامت کا علم ان پانچ علموں میں سے ہے جن کو خدا کے سوا کوئی شخص اپنی عقل و دِرایت یا فہم و فِراست سے نہیں جان سکتا۔ (ہاں اگر خدا کسی کو بتادے تو وہ خدا کے بتانے سے ضرور جان لے گا)
پھر بطورِ ثُبوت کے حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ لقمان کی آخری آیت تلاوت فرمائی کہاِنَّ اللّٰہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَج وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًاط وَمَا تَدْرِیْ نَفَسٌ مبِـاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُطاِنَّ اللّٰہ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(5)o
یعنی
اللّٰہہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہی بچہ دانیوں میں جو کچھ ہے اس کو جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گابیشکاللّٰہ تعالیٰجاننے والا اور خبر دینے والاہے۔
اس کے بعد حضرت جبریل مجلس سے اٹھ کر چلے گئے ۔پھر حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکو حکم دیا کہ اس آدمی کو واپس بلاکر لائو، مگر جب صحابہ اس کی تلاش میں نکلے تو انہیں دور دور تک کوئی آدمی نظر نہیں آیا ۔اس کے بعد حضورعلیہ الصلوۃ و السلامنے صحابہ سے فرمایا کہ یہ آدمی حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامتھے اس لئے آئے تھے کہ تم کو تمہارے دین کی باتیں تعلیم فرمائیں ۔
حدیث ِمذکور میں خاص طور پر چار چیزوں کا ذکر ہے:ایمان،اسلام، احسان، قیامت۔اب ان چاروں کے بارے میں ہم کچھ تفصیل کے ساتھ عرض کرتے ہیں :
ایمان:ایمان کے معنی تصدیق کرنایعنی سچے دل سے مان لیناہے ۔اس حدیث میں پانچ چیزوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے:
{۱} اللّٰہپر{۲}فرشتوں پر{۳} اللّٰہکی ملاقات پر{۴}رسولوں پر{۵}موت کے بعداٹھنے پر۔
اب ذرا اِن پانچوں کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔
اللّٰہپر ایمان:اللّٰہپر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہاللّٰہ تعالیٰکو موجود،واجب ا لوُجود، واحد حقیقی،وحدہٗ لاشریک لہٗ، خالق ِکائنات مانتے ہوئے اس کی تمام صفات مثلًا حیات، علم،قدرت،ارادہ،کلام،سمع،بصر،تکوین کوصدق دل سے مان کر اس پر یقین کامل رکھا جائے اور اس کو ہر عیب و نقص سے پاک مانتے ہوئے اس کو ہر صفت کمال کے ساتھ مانا جائے ۔
فرشتوں پر ایمان:فرشتوں پر ایمان لانے سے یہ مراد ہے کہ صدق دل سے یہ مان لیا جائے کہ فرشتے
اللّٰہکی ایک نوری مخلوق اور اس کے محترم بندے ہیں جن میں گناہوں کا مادہ ہی نہیں ۔ وہ ہر چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم اور پاک ہیں ، نہ وہ عورت ہیں نہ مرد، نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ،بس خدا کی بندگی ان کی زندگی ہے۔قرآن میںاللّٰہ تعالیٰنے فرشتوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہلَا یَعْصُوْنَ اللّٰہ مَآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَo (6)یعنی وہ کبھی بھی اور کسی کام میں بھی اور کسی حال میںاللّٰہکی کوئی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ خداوند تعالیٰ جو کچھ انہیں حکم دیتا ہے وہی کرتے ہیں
کوئی وحی لاتا ہے،کوئی پانی برساتا ہے،کوئی انسانوں کے اعمال کی نگہبانی اوران کی حفاظت کرتا ہے، کوئی مومنین کے لئے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتا ہے۔ غرض جس کو خدا نے جس کام میں لگادیا وہی کرتا ہے اور سب خدا کی عبادت واطاعت میں مصروف عمل ہیں ۔واضح رہے کہ فرشتوں کے وجود کا انکار کرنا یا ان پر کوئی عیب لگانا یا ان کی توہین کرنا کفر ہے ۔
لِقاءِ الٰہی پر ایمان : خدا کی ملاقات پر ایمان کا یہ مطلب ہے کہ مرنے کے بعد حشر و نشر اور قیامت میں
اللّٰہ تعالیٰکے حضور حاضری اور اپنے اعمال کی پیشی اور جواب دہی اور جنت و دوزخ وغیرہ پر دل سے اعتقاد رکھنا ۔
رسولو ں پر ایمان : رسولوں پر اس طرح ایمان لانا ضروری ہے کہ جتنے انبیاء و مرسلین
علیہم الصلوٰۃ والسلامدنیا میں تشریف لائے وہ سباللّٰہکے مقدس بندے اور اس کے برگزیدہ پیغمبر ہیں وہ سب سچے اور وہ جو کچھاللّٰہ تعالیٰکی طرف سے لائے وہ سب حق ہے اور ان سب نبیوں اور رسولوں نے اپنے فرائض نبوت کو کماحقہ ادا فرمایا ۔
نوٹ: واضح رہے کہ کسی نبی یا رسول کا انکار کرنایا کسی نبی و رسول کی ادنیٰ سی توہین و تَنْقِیْص یا ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی یا ان کی کتابوں کا انکار یا ان کی شریعتوں کے کسی ایک حکم کا انکار یا ان کی کسی ایک سنت کی تَحْقِیر کرنا کفر ہے ۔اسی طرح غیر نبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے ۔حضرت آدم
عَلَیْہِ السَّلَامسے حضورخاتم النبیینصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک ہر نبی و رسول کی تعظیم و تکریم فرض عین اور واجبُ الایمان ہے بلکہ تمام فرائض کی اصل اور جان ہے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں خاتم النبیین ہونے کا عقیدہ بھی ضروریات ایمان میں سے ہے ۔جو حضور خاتم النبیینصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد کسی نبی کا وُجود مانے یا کسی نبی کا آنا جائز و ممکن ٹھہرائے وہ کافر ہے۔
اسلا م کے معنی:اسلام کے معنی لغت میں ’’فرماں بردار ہوجانا‘‘ ہے۔ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لائے ہوئے دین ِبرحق کو اسلام اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جو اس دین کو قبول کرتا ہے وہ اپنے کو بالکلاللّٰہ تعالیٰکا فرماں بردار بنالیتا ہے چنانچہ اس حدیث میں جن اعمالِ اسلام کا ذکرہے، یعنی عبادت، نماز، زکوٰۃ ،روزہ اور مُفَصَّل حدیث میں کلمہ شہادت اور نمازوروزہ اور حج و زکوٰۃ ،یہ سب اعمال خدا کی فرماں برداری کے خاص الخاص نشان ہیں ۔اسی لئے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو ’’ارکانِ اسلام ‘‘قرار دیا اور فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے{۱}کلمۂ شہادت{۲}نماز{۳}روزہ{۴}زکوٰۃ{۵}حج ۔ان پانچ چیزوں کو ہر مسلمان اچھی طرح جانتا ہے ،تھوڑی تفصیل ہم بھی یہاں تحریر کردیتے ہیں ۔
کلمۂ شہادت:کلمہء شہادت کا مفہوم اور مطلب یہ ہے کہ صدقِ دل سے
اللّٰہکے ایک ہونے اور معبود ہونے اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رسول ہونے کی گواہی دینا اور دل سے مانتے ہوئے زبان سےاَشْہَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗکہنا۔ اس میں تمام ضروری عقائد ِاسلام داخل ہیں کیونکہ جس نے حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دل سےاللّٰہکا رسول مان کر ان کی رسالت کی گواہی دے دی ہر اس چیز کی تصدیق کردی جس کو حضورعلیہ الصلوۃ و السلامخدا کی طرف سے لائے ۔
نماز:ظہور نبوت کے بارہویں سال شب معراج میں نماز فرض ہوئی ۔نابالغ ،مجنون، حیض و نفاس والی عورت کے سوا ہر مسلمان پر نماز فرض عین ہے اور کسی حالت میں بھی معاف نہیں ، کھڑے ہوکر نماز پڑ ھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھے،بیٹھنے کی بھی قدرت نہ ہو تو لیٹ کر سر کے اشارہ سے پڑھے ،اس پر بھی قادر نہ ہو تو نماز مُؤخَّر کی جائے گی معاف اس حالت میں بھی نہیں ہوگی۔
نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہے اور جو قصداً ترک کرے اگرچہ ایک ہی وقت کی ہو وہ فاسق ہے۔حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکا فتویٰ ہے کہ نماز چھوڑنے والے کو بادشاہ اسلام قید کردے یہاں تک کہ وہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے اور حضرت امام مالک اور امام شافعیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماکا فتویٰ ہے کہ تارکِ نماز کو بادشاہ ِاسلام قتل کرادے۔
زکوۃ و روزہ : ۲ھ؁ میں مدینہ منورہ کے اندر ان دونوں کی فرضیت کا حکم نازل ہوا ۔نماز کی طرح زکوۃ و روزہ کا انکار کرنے والا بھی کافر ہے اور ان دونوں کو ترک کرنے والا فاسق اور قتل کا مستحق ہے اور زکوۃ اداکرنے میں دیر لگانے والا گنہگار اور مَردودُ ا لشَّہادۃ ہے ۔
حج: ۹ھ ؁میں حج فرض ہوا ۔صاحب ِ استطاعت پر عمر بھر میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے نماز اور روزہ و زکوۃ کی طرح حج کی فرضیت بھی قطعی و یقینی ہے لہٰذا جو حج کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے اور باوجود طاقت کے اس کا تارک فاسق ہے اور بِلاعُذْر حج میں تاخیر کرنے والا گناہگار اور مَردودُ ا لشَّہادۃ ہے۔
احسان کی حقیقت:لغت میں احسان کے معنی ’’اچھائی ‘‘ہیں ،چنانچہ اچھا کام احسان کہلاتا ہے اور کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو بھی احسان کہا جاتا ہے اور قرآن و حدیث میں لفظ احسان اس معنی میں بکثرت استعمال بھی ہواہے مگر اس حدیث میں جو ’’احسان ‘‘آیا ہے یہ احسان در حقیقت ایمان و اسلام کی طرح دین کا ایک اصطلاحی لفظ ہے جس کے معنی کوخود حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زبان نبوت سے ارشاد فرمایاکہ
’’خدا کی عبادت اس طرح کی جائے کہ گویا عبادت کرنے والا خدا کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
اس معنی میں احسان کا تعلق صرف نماز و روزہ اور زکوۃ و حج ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مومن کے ہر عمل میں اس کی روح کارفرما ہونی چاہئے یعنی ہر عمل کےوقت بندہ اس طرح حضورِ قلب اور اخلاصِ دل کے ساتھ عمل میں مشغول ہو کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اس تصور سے عمل کرنے والے بندے کے دل میں خوف و خشیت ربانی اور امید و رجاء رحمانی کا ایسا نور پیدا ہوجائے گا کہ اس کا عمل انوار مقبولیت کی روشنی سے پُر نوراور بندہ سراپا نور بلکہ نور علیٰ نور ہوجائے گااور رحمتِ کردگار و فضل ِپروردگار کا دونوں جہان میں مستحق و حق دار بن جائے گا۔
قیامت کی نشانیاں : قیامت کی بہت سی نشانیاں حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیان فرما چکے ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور حدیثوں میں ان کا مُفَصَّل ذکر ہے، جن میں سے بہت سی نشانیاں ظاہر بھی ہو چکی ہیں اور جو باقی ہیں وہ بھی یقیناًظاہر ہو کر رہیں گی۔مثلًا{۱}دجال کا فتنہ{۲}امام مہدی کا ظہور{۳}حضرت عیسیعَلَیْہِ السَّلَامکا آسمان سے اترنا{۴}یاجوج ماجوج کا نکلنا{۵}دا بَّۃُ الارض کا خُروج{۶}حضرت عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکی وفات کے کچھ دنوں کے بعد جب قیامت کے آنے میں صرف چالیس برس رہ جائیں گے تو ایک خوشبو دار ٹھنڈی ہوا چلے گی اور وہ لوگوں کی بغلوں کے نیچے سے گزرے گی، اس ہوا کے لگتے ہی تمام ایمان والوں کی وفات ہو جائے گی اور روئے زمین پر صرف کفار ہی کفار رہ جائیں گے اورانہی اَشرار پرقیامت قائم ہوگی وغیرہ وغیرہ یہ سب قیامت کی وہ نشانیاں ہیں جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی ہیں مگر ان سب کا ظہور اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے ۔کیونکہ حضورمُخْبِرصادقصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سب علامات قیامت کے ظاہر ہونے کی خبر دی ہے کیوں اس لئے کہ؎∞
ہزار فلسفیوں کی چناں چنیں بدلی نبی کی بات بدلنی نہ تھی نہیں بدلی اس حدیث میں قیامت کی صرف دو نشانیوں کا ذکر ہے :
اول: لونڈی اپنے آقا کو جنے گی ۔
دوم :اونٹوں کے سیا ہ فام چرواہے اونچے اونچے محلوں میں فخر کریں گے۔
قیامت کی یہ دو نشانیاں اُن نشانیوں میں سے ہیں جو اس زمانے میں ظاہر ہوچکی ہیں اور جن کو ہر شخص آج اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے ۔پہلی نشانی کہ’’ لونڈی اپنے آقا کو جنے گی‘‘شارحین ِحدیث نے اس کے بہت معانی بیان فرمائے ہیں مگر فقیر راقم الحروف کے نزدیک اس حدیث کا سب سے زیادہ راجح اور واضح مطلب یہی ہے کہ اولاد نافرمان پیدا ہونے لگے گی یعنی لڑکے اپنی مائوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں گے جیسا سلوک مولیٰ اپنی لونڈی کے ساتھ کیا کرتا ہے توگویا ماں نے اپنے لڑکے کو نہیں جنا بلکہ اس کے پیٹ سے اس کا مولیٰ پیدا ہوا چنانچہ آج کل کی اولاد ماں باپ کے ساتھ جوسلوک کرتی ہے وہ بالکل ظاہرہے۔
دوسری نشانی کہ’’سیا ہ فام اونٹوں کے چرواہے محلوں میں فخر کریں گے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیر و ذلیل پست اقوام کے لوگ جن کو کبھی پھونس کی چھپَّر بھی میسر نہیں تھی وہ اونچی اونچی کوٹھیوں اور شاندار بنگلوں میں فخر کریں گے۔
یہ منظر آپ عرب میں بھی دیکھیں گے کہ کالے کالے تکرونی عرب بدوی جو اونٹوں کے چرواہے تھے آج اپنی اپنی کوٹھیوں میں کس ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ متکبرانہ زندگی بسر کر تے ہیں اور اپنے ملک میں بھی چرواہے بلکہ ان سے بھی کہیں بدتر لوگ آج اپنے اپنے بنگلوں میں فرعون بنے بیٹھے ہیں اور صورت ایسی ہے جیسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابھی ابھی کوئلو ں کی بوری ،ڈامر کے پیپے میں سے نکلے ہیں ۔
حکومت کی کرسیوں پر براجمان ہونے والے ان نااہلوں کو دیکھ کر مجھے اکثر یہ حدیث یاد آجاتی ہے کہ حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایک صحابی نے عرض کیا کہ یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیامت کب آئے گی ؟تو حضور نے فرمایا کہ جب امانت ضائع کی جانے لگے تو تم قیامت کا انتظار کرو ،صحابی نے دریافت کیا کہ امانت سے کیا مراد ہے ؟اور اس کی بربادی کیسے ہوگی؟تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ ’’اِذَاوُسِّدَ الْاَمْرُ اِلٰی غَیْرِ اَھْلِہٖ‘‘یعنی جب حکومت اور عہدے نااہلوں کے سپرد ہونے لگیں تو تم قیامت کا انتظار کرو ۔ (7)
قیامت کا علم: حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علم غیب کا انکار کرنے والے اس حدیث سے بڑے طَنْطنے کے ساتھ دلیل لاتے ہیں کہ دیکھ لو حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامنے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے قیامت کا وقت دریافت کیا تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ جواب دیا کہ ’’میں سائل سے زیادہ نہیں جانتا‘‘ پھر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ لقمان کی آیت تلاوت فرما کر صاف طور سے بتادیا کہ پانچ چیزوں کا علم خدا کی ذات کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے۔
خدا گواہ ہے کہ مجھے ان فاضلوں کے اس استدلال کو سن کر انتہائی تعجب ہوتا ہے۔
اللّٰہاکبر !کتنا بڑا ستم ہے کہ جس حدیث سے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے قیامت کا علم ثابت ہوتا ہے اسی حدیث کو یہ لوگ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے علم قیامت کی نفی پر بطورِ دلیل کے پیش کرتے ہیں ۔
سیدھی سی بات ہے کہ اگر واقعی حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلامکو یہی بتانا تھا کہ مجھے قیامت کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے تو اس مفہوم و معنی کو ادا کرنے کے لئے بہت سے الفاظ ہو سکتے تھے ۔مثلًا: ’’لَا اَعْلَمُھَا‘‘میں اس کو نہیں جانتایا’’لَسْتُ بِعَالِمِھَا‘‘میں اس کا جاننے والا نہیں ہوں یا ’’مَا لِیْ بِذَالِکَ مِنْ عِلْمٍ‘‘مجھے اس چیز کا کوئی علم نہیں ۔ یا’’لَیْسَ عِلْمُھَا عِنْدِیْ‘‘ میرے پاس اس کا علم نہیں ہے یا ان کے ہم معنی کوئی دوسرا جملہ حضور ارشاد فرمادیتے مگر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان جملوں میں سے کوئی یا اس قسم کا کوئی جملہ ارشاد نہیں فرمایابلکہ سائل کے جواب میں یہ فرمایاکہ’’مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ‘‘ یعنی جس سے قیامت کے بارے میں سوال کیا جارہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔
اس عبارت کا کھلا ہوااور صاف صاف مطلب یہی ہوا کہ اے جبریل ! میں قیامت کے بارے میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔
عالم تو خیر عالم ہے کسی عربی خواں طالب علم سے بھی اگر آپ اس جملہ کا ترجمہ کرائیں گے تو یقینا وہ بھی یہی ترجمہ کرے گاجو میں نے لکھا ۔اب آپ ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور ایمان سے کہیے کہ حضور کے ارشاد:’’میں جبریل سے زیادہ قیامت کو نہیں جانتا‘‘ اس کا کیا مطلب ہوا !یہ مطلب ہوا کہ’’ قیامت کے بارے میں مجھ کواور جبریل دونوں کو علم ہے اور میرا علم اس معاملہ میں جبریل سے زیادہ نہیں ‘‘یا یہ مطلب ہوا کہ ’’میں اور جبریل قیامت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ۔‘‘
اب آپ انصاف کیجئے کہ اس حدیث سے کیا ثابت ہوتا ہے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور جبریلعَلَیْہِ السَّلَامدونوں کو قیامت کے بارے میں علم ہے یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلاماور جبریلعَلَیْہِ السَّلَامدونوں کو قیامت کا علم نہیں ہے۔واللّٰہ! اگر آپ میں ذرا بھی انصاف کا مادہ ہوگاتو آپ یہی کہیں گے کہ واقعی اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ ’’حضور اور جبریل دونوں کو قیامت کا علم ہے۔‘‘
افسوس ! ان لوگوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ حضور کے قول ’’
مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ‘‘ میں ’’اَعْلَمُ‘‘اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور اسم تفضیل کی نفی سے بالکل ہی فعل کی نفی لازم نہیں ہے، اگر آپ یہ کہیں کہ زید عَمْرو سے زیادہ حسین نہیں ہے۔ تو اس سے کب یہ لازم آتا ہے کہ زید میں بالکل ہی حُسن نہیں ہے ظاہر ہے کہ ’’بالکل ہی حسن والا نہ ہونا‘‘یہ اور بات ہے اور’’زیادہ حسن والا نہ ہونا ‘‘یہ اوربات ہے۔
بَہَرکَیْف اس حدیث سے ہرگز ہرگزیہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور
علیہ الصلوۃ والسلامکو قیامت کا بالکل ہی علم نہیں تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث سے حضور اور حضرت جبریل دونوں کے لئے قیامت کا علم ہونا ثابت ہوتا ہے۔
چنانچہ علامہ شیخ احمد صاوی
رحمۃاللّٰہ تعالیٰ علیہنے سورۂ احزاب کی آیتیَسْئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ اللّٰہ(8)کی تفسیر میں تحریر فرمایا:فَلَمْ یَخْرُجْ نَبِیُّنَا صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْیَا حَتَّی اطَّلَعَہُ اللّٰہ عَلٰی جَمِیْعِ الْمُغِیْبَاتِ وَمِنْ جُمْلَتِہَا السَّاعَۃُ لٰکِنْ اَمَرَ بِکَتْمِ ذٰلِکَ۔(9) (صاوی ،ج۳،ص۲۸۹)
یعنی حضور
علیہ الصلوۃ والسلامدنیا سے اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہاللّٰہ تعالیٰنے آپکوتمام غیوب کے علوم پر مُطَّلع فرمادیا اور انہیں میں سے ’’قیامت‘‘ کا علم بھی ہے لیکناللّٰہ تعالیٰنے آپ کویہ حکم دے دیا تھاکہ’’قیامت کب آئے گی‘‘اس علم کو آپ امت سے چھپائیں ۔اب رہ گیا یہ سوال کہ حضور نے سورۂ لقمان کی آیت تلاوت فرماکر یہ فرمادیا کہ ان پانچوں باتوں کا بجز خدا کے کسی کو علم نہیں اس کا کیا جواب ہے؟
تو اس کے جواب میں ہم یہی عرض کریں گے کہ اس سے بھی یہ لازم نہیں آتا کہ حضور اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان پانچوں چیزوں کا علم نہیں تھا کیونکہ اس آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ان پانچوں چیزوں کواللّٰہ تعالیٰہی جانتا ہے کوئی انسان یا جن یا فرشتہ اگر اپنی عقل و فہم سے ان پانچوں چیزوں کو جاننا چاہے تو ہرگز ہرگز نہیں جان سکتا لیکن اگر خدا و ند ِعالَم کسی کو بتادے تو یقینا وہ جان لے گا ۔اس آیت میں یہ کہاں ہے کہ خدا ہی جانتا ہے اور خدا کسی کو ان پانچوں چیزوں کا علم عطا نہیں کرے گا بلکہ اس آیت کے آخر میںاِنَّ اللّٰہ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌo(10) کا جملہ تو صاف صاف بتا رہا ہے کہاللّٰہ تعالیٰہی ان پانچوں چیزوں کو جانتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے ان پانچوں چیزوں کی خبر بھی دے دیتا ہے کیونکہ وہ صرف علیم(علم والا) ہی نہیں ہے بلکہ خبیر(خبردینے والا) بھی ہے۔
یہ صرف میری ناقص عقل کا ’’تیر تکہ‘‘ نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے علم تفسیر و حدیث کے ماہرین ِفن کی بھی یہی تحقیق ہے۔چنانچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مشکوٰۃ شریف کی شرح اشعۃ اللمعات، ج۱، ص ۴۴میں اس حدیث کی شرح فرماتے ہوئے یہ تحریر فرمایا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ان غیب کی چیزوں کو بغیراللّٰہکے بتائے ہوئے عقل کے اندازے سے کوئی نہیں جان سکتا مگروہ جس کواللّٰہ تعالیٰبذریعہ وحی یا اِلہام بتادے وہ جانتا ہے۔(11)
اسی طرح حضرت علامہ شیخ مُلاجیون (استاد عالمگیر بادشاہ) نے اسی آیت کی تفسیر میں تحریر فرمایاکہ اگرچہ ان پانچوں باتوں کو
اللّٰہکے سوا کوئی نہیں جانتا مگر یہ ہوسکتا ہے کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے محبوبوں اورولیوں میں سے جس کوچاہے بتادے کیونکہ لفظ ’’خبیر‘‘ ’’مُخْبِر‘‘ (خبر دینے والے) کے معنی میں ہے۔ (12) (تفسیرات احمدیہ)
خلاصۂ کلام:الغرض اس حدیث سے ہرگز ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قیامت کا علم نہیں تھا بلکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکے کلام کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اے جبریل !میں تم سے زیادہ نہیں جانتا یعنی مجھ کو بھی قیامت کی خبر ہے اور تم کو بھی لیکن مجمع ِعام میں اس راز کو ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے ۔کیونکہ علم قیامت میرے ان علوم میں سے ہے جن کا عوام سے چھپانااللّٰہ تعالیٰنے مجھ پر فرض فرمایاہے۔
بہر کیف حضرت جبریل کے سوال اور حضور
علیہ الصلوۃ و السلامکے جواب سے حاضرین کو صرف اتنا بتانا مقصود تھا کہ قیامت کا علم ذاتی صرفاللّٰہ تعالیٰہی کو ہے اور ایک مومن کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ قیامت پر ایمان رکھے لیکن قیامت کے آنے کا وقت معلوم کرنا مومن کے لئے نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی کسی مومن کو اس کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس کا علم بغیرخدا کے بتائے کسی کو حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔
(علم قیامت کی پوری بحث ہماری کتاب ’’قرآنی تقریریں ‘‘میں پڑھ لیجئے۔)
مسائل حدیث:اس حدیث ’’اُمُّ الاحادیث ‘‘سے بہت سے مسائل پر روشنی پڑتی ہے ان میں سے چند یہ ہیں :
{۱}فرشتے انسانی شکل و صورت میں آسکتے ہیں جیسا کہ آپ نے پڑ ھا کہ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامبارگا ہ نبوت میں ایک آدمی کی شکل میں تشریف لائے ۔{۲}کسی شخص سے کسی بات کے متعلق سوال کرنا یہ سائل کی لاعلمی کی دلیل نہیں ہے دیکھئے حضرت جبریل نے حضورعلیہ الصلوۃ و السلامسے چند باتوں کا سوال کیا حالانکہ حضرت جبریل ان باتوں کو خوب اچھی طرح جانتے تھے مگر جاننے کے باوجود حضور سے سو ال کیاتاکہ لوگ زبانِ رسالت سے اس کا جواب سن کر دین کا علم حاصل کریں ۔
علماء دیوبند کا بار بار یہ کہنا کہ اگر حضور
علیہ الصلوۃ والسلامکو فلاں بات کا علم ہوتا تو کیوں لوگوں سے دریافت کرتے یہ بہت بڑا دھوکہ ہے یاد رکھئے کہ سوال کے بہت سے مقاصد ہوتے ہیں یہ ضروری نہیں ہے کہ سوال صرف اُسی بات کاکیا جائے جو معلوم نہ ہو۔ آخر امتحان لینے والے بھی تو طالب علموں سے سوالات کرتے ہیں تو کون عقل مند یہ کہہ سکتا ہے اگرممتحن صاحب کو یہ باتیں معلوم ہوتیں تو وہ طلبہ سے کیوں پوچھتے۔{۳}اگر کسی سوال کا جواب ایسا ہو جو عام سامعین کی عقل و فہم سے بالاہو یا اس جواب کو عوام سے چھپانے میں کوئی مَصْلَحَت ہو توعالموں پر یہ ضروری نہیں ہے کہ مجمع عام میں اس کا جواب دیں دیکھ لیجئے! حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو قیامت کا علم تھا مگر چونکہ حضور پر منجانب ِاللّٰہفرض تھا کہ قیامت کا علم کسی پر ظاہر نہ فرمائیں اس لئے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت جبریل کو واضح طور پر اس سوال کا جواب نہیں دیا کیونکہ عوام اس علم کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے ظاہر ہے کہ جو شربت ہاتھی کے لئے تیار کیا گیا ہے وہ بھلا ایک چیونٹی کو کس طرح اور کیونکر پلایا جاسکتا ہے۔
ہر سخن نکتہ وہر نکتہ مقامے دارد
واللّٰہ تعالیٰ اعلمبالصواب۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال،حرف الھاء، فصل فی الصحابۃ، ص۶۲۲
وفیوض البا ری،پارہ اوّل،کتاب الایمان، باب امور الایمان،ج۱،ص۱۷۷
[2] فیوض الباری،پا رہ اوّل،کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی۔۔۔الخ،ج۱،ص۲۵۸ملخصاً[3] اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،الفصل الاوّل،ج۱،ص۴۱ملخصاً[4] اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،باب الکبائروعلامات النفاق،الفصل الاوّل،ج۱،ص۷۸[5] ترجمہء کنز الایمان:بیشکاللّٰہکے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں انتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشکاللّٰہجاننے والا بتانے والا ہے۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)[6] ترجمۂ کنز الایمان:اللّٰہکا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔ (پ۲۸،التحریم:۶)[7] صحیح البخاری،کتاب العلم،باب من سئل علماً۔۔۔الخ،الحدیث۵۹،ج۱،ص۳۶ملخصاً[8] ترجمۂ کنزالایمان:لوگ تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ اس کا علم تواللّٰہہی کے پاس ہے۔ (پ۲۲،الاحزاب:۶۳)[9] حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین،سورۃ الاحزاب،تحت الآیۃ: ۶۳،ج۵، ص۱۶۵۸[10] ترجمۂ کنز الایمان: بیشکاللّٰہجاننے والا بتانے والا ہے ۔ (پ۲۱،لقمان:۳۴)[11] اشعۃ اللمعات،کتاب الایمان،الفصل الاوّل،ج۱،ص۴۸[12] التفسیرات الاحمدیۃ،سورۃ لقمان تحت الآیۃ:۳۴، ص۶۰۸،۶۰۹

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 2