- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 22
حدیث مبارکہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ اَخْطَبَ الْاَ نْصَارِیِّ قَالَ: صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا الْفَجْرَ وَصَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الظُّھْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتّٰی حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَاَخْبَرَنَا بِمَا ھُوَ کَائِنٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ قَالَ: فَاَعْلَمُنَا اَحْفَظُنَا ( مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب فی المعجزات، الحدیث:۵۹۳۶، ج۲،ص۳۹۷)
عن عمرو بن اخطب الا نصاری قال: صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوما الفجر وصعد علی المنبر فخطبنا حتی حضرت الظھر فنزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر حتی غربت الشمس فاخبرنا بما ھو کائن الی یوم القیمۃ قال: فاعلمنا احفظنا ( مشکاۃ المصابیح،کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق،باب فی المعجزات، الحدیث:۵۹۳۶، ج۲،ص۳۹۷)
حدیث ترجمہ
حضرت عَمْرو بن اَخْطَب اَنصاریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک دن ہم لوگوں کو رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر چڑھ گئے اور ظہر کی نماز تک خطبہ پڑھتے رہے پھر اُترے اور نماز پڑھ کر پھرمنبر پر چڑھ گئے اور خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اُترے اور نماز پڑھی پھرمنبر پر چڑھ گئے اور سورج ڈوبنے تک خطبہ پڑھتے رہے تو (اس دن بھر کے خطبہ میں ) ہم لوگوں کو حضور نے تمام ان چیزوں اور باتوں کی خبر دے دی جو قیامت تک ہونے والی ہیں تو ہم صحابہ میں سب سے بڑا عالم وہی ہے جس نے سب سے زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھاہے۔
شرح حدیث
حضرت عَمْرو بن اَخْطَب:اِس حدیث کے راوی حضرت عَمْرو بن اَخْطَبرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہہیں ۔یہ اَنصاری ہیں اور ان کی کنیت ’’اَبو زید‘‘ہے اور محدثین کے نزدیک ان کی کنیت ان کے نام سے زیادہ مشہور ہے ۔
یہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ِجہاد رہے۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مرتبہ محبت اور پیار سے ان کے سر پر ہاتھ پھیر دیااور ان کی خوبصورتی کے لیے دعا فرمائی ۔جس کا یہ اثر ہوا کہ ان کی سو برس کی عمر ہوگئی تھی مگر سر اور داڑھی کے چند ہی بال سفید ہوئے تھے اور آخری عمر تک چہرے کا حسن و جمال باقی رہا۔ (1) (اکمال)
شرحِ حدیث:{۱}یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز فجر سے غروب آفتاب تک بجز ظہر و عصر پڑھنے کے برابر دن بھر خطبہ ہی میں مشغول رہے اور سامعین سُنتے رہے اور اس خطبہ میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قیامت تک کے ہونے والے تمام واقعات تمام چیزوں اور تمام باتوں کی سامعین کو خبر دے دی اور صحابہ میں سے جس نے جس قدر زیادہ اس خطبہ کو یاد رکھا اتنا ہی بڑا وہ عالم شمار کیا جاتا تھا۔(2){۲}یہ حدیث حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزات میں سے ہے کہ قیامت تک کے کروڑوں واقعات کو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف دن بھر کے خطبہ میں بیان فرما دیا۔صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ حضرت داودعَلَیْہِ السَّلَامکو خداوند ِعالَم نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ گھوڑے پر زِین کسنے کا حکم دیتے تھے اور سائیس گھوڑے کی زین باندھ کر درست کر تا تھا اتنی دیر میں آپ ایک ختم ’’زبور شریف ‘‘کی تلاوت کرلیتے تھے(3) تو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنبی آخرالزمان جو تمام انبیاءعلیہم السلامکے معجزات کے جامع ہیں اگر دن بھر میں قیامت تک کے تمام احوال و واقعات کو بیان فرمادیں تو اس میں کونسا تعجب کا مقام ہے۔
مسائل ِحدیث:اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل پر روشنی پڑتی ہے :{۱}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خدا وند ِعالِم ُا لْغَیْب و ا لشَّہادَۃ نے جس طرح بہت سے معجزانہ کمالات سے نوازااور تمام انبیاء اور رسولوں میں آپ کو ممتاز فرماکر’’سید الانبیاء‘‘ اور ’’افضل الرسل‘‘بنایا اسی طرح علمی کمالات کا بھی آپ کو وہ کمال بخشا کہ’’مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘ یعنی روز ازل سے قیامت تک کے تمام علوم کا خزانہ آپ کے سینہ نبوت میں بھر دیا چنانچہ اس مضمون کی بہت سی آیات و احادیث ہم نے اپنی کتاب’’قرآنی تقریریں ‘‘ میں تحریر کردیں ہیں یہاں بھی دو حدیثوں کا ترجمہ پڑھ لیجئے۔مشکوۃ شریف کی حدیث ہے کہ{۱}حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ میں نے اپنے ربعَزَّوَجَلَّکو بہترین صورت میں دیکھا تو اس نے مجھ سے فرمایا کہ اوپر والی جماعت کس چیز میں بحث کر رہی ہے؟ تو میں نے عرض کیا کہ یااللّٰہ!عَزَّوَجَلَّتو ہی اس کو زیادہ جاننے والا ہے پھر خدا وند ِعالَم نے اپنی (قدرت کی)ہتھیلی کو میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا تو میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان میں پایا اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے سب کو میں نے جان لیا ۔(4) (مشکوٰۃ،باب المساجد،ص۷۰){۲}اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے لیے دُنیا کو اٹھا کر اسطرح میرے سامنے پیش فرمادیا کہ میں تمام دنیاکو اور اس میں قیامت تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے ان سب کو اسطرح دیکھ رہا ہوں جس طرح میں اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ۔(5)
(زرقانی علی المواہب، جلد۷، ص۲۳۴){۳}جس طرح حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم’’اَفضل الْخَلق ‘‘ہیں اسی طرح آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم’’اَعلم ُالْخَلق ‘‘ بھی ہیں کہ تمام جن و انس اور ملائکہ کے علوم سے بڑھ کر آپکا علم ہے یہاں تک کہ حضرت علامہ بوصیریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے قصیدۂ بُردَہ میں فرمایا کہفَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَاوَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ(6)
یعنی یارسولاللّٰہ!صلی اللّٰہ تعالیٰ علیک وسلمدنیا اور اسکی سوکن (یعنی آخرت) یہ دونوں آپکی سخاوت کے ثمرات میں سے ہیں اور ’’لوح و قلم کا علم ‘‘آپکے علوم کا ایک جزو ہے۔واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال، حرف العین، فصل فی الصحابۃ، ص۶۰۷[2] صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب اخبارالنبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔الخ، الحدیث:۲۸۹۲،ص۱۵۴۶[3] صحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیاء،باب قولاللّٰہتعالی۔۔۔الخ، الحدیث:۳۴۱۷، ج۲،ص۴۴۷[4] مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث:۷۲۵، ج۱،ص۱۵۲[5] شرح الزرقانی علی المواہب، المقصد الثامن، الفصل الثالث، ج۱۰، ص۱۲۳
وحلیۃ الاولیاء، حدیر بن کریب، الحدیث۷۹۷۹، ج۶،ص۱۰۷[6] القصیدۃ البردۃ، الفصل العاشر فی المناجات وعرض الحال
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 22