Main Icon

منتخب حدیثیں - حدیث نمبر: 18

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الخُدْرِیِّ اَنَّہٗ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِھَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَ مَوَاقِعَ القَطْرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرار من الفتن، الحدیث:۱۹،ج۱،ص۱۸)

عن ابی سعید الخدری انہ قال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوشک ان یکون خیر مال المسلم غنم یتبع بھا شعف الجبال و مواقع القطر یفر بدینہ من الفتن۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرار من الفتن، الحدیث:۱۹،ج۱،ص۱۸)

حدیث ترجمہ

حضرت اَبو سعید خُدْریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسولاللّٰہ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا ہے کہ عنقریب وہ زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کے پیچھے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر بھاگتا ہوا چلا جائے گاتاکہ وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچالے۔

شرح حدیث

حضرت اَبو سعیدخُدْری:اِس حدیث کے راوی ابو سعید خُدْریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہصحابی ہیں ۔ اِن کا نام سعد بن مالک ہے اور یہ اَنصار کے قبیلہ ’’ خَزْرَج‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اِن کے مورث اعلیٰ کا نام ’’خُدْرہ‘‘تھااس لیے ’’خُدْری ‘‘کہلاتے ہیں ۔ ۷۴ھ؁ میں چوراسی برس کی عمر پاکر انتقال فرمایا اور جنتُ الْبَقِیْع میں مدفون ہوئے۔ (1) (اکمال)
تیرہ غزوات میں حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک ِجہاد رہے۔ ایک سو ستّر حدیثیں آپ سے مروی ہیں اور بخاری شریف میں باسٹھ حدیثیں آپ کی روایت کی ہوئی مذکور ہیں ۔ (2) (فیوض الباری،ج۱،ص۱۶۴) مگر قسطلانی نے لکھا ہے کہ بخاری شریف میں آپ کی روایت سے چھیاسٹھ حدیثیں ہیں ۔(3) (ارشاد الساری،ج۱،ص۲۲۷)
توضیح ِاَلفاظ:اِس حدیث کے چند اَلفاظ کی توضیح حسب ِذیل ہے:
’’غَنَم‘‘بکری کو کہتے ہیں ، اسم مؤنث ہے، نر ومادہ دونوں کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔’’شَعَفْ‘‘پہاڑ کی چوٹی کو کہتے ہیں اس کی جمع ’’شِعاف ‘‘ہے۔ (4)
’’ فِتَنْ‘‘ فتنہ کی جمع ہے اس کے مندرجہ ذیل معانی آتے ہیں :
آزمائش ،گمراہی،شرک ،رسوائی،رنج،دیوانگی،عبرت،عذاب،مرض،مال واولاد،اختلاف،جنگ وجِدال۔(5) (المنجد وغیرہ)
مگر اس حدیث میں اور عام طور پر ’’کتاب الْفِتَن ‘‘کی حدیثوں میں فتنہ سے مُراد ’’اختلاف ِاُمَّت‘‘اور وہ فسادات ہیں جو دین میں خرابی پڑجانے کا باعث ہیں ۔(نووی وغیرہ)
شرحِ حدیث:حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس حدیث میں غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ میرے بعد عنقریب میری اُمّت میں بہت سے فتنے پیدا ہوجائیں گے ۔اُس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہونگی کہ مسلمان ان کو اپنے ساتھ لے کر اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پرجاکر گوشہ نشین ہوجائے گا۔ بکریوں کادودھ پیتا رہے گااورخدا کی عبادت کرتا رہے گا۔اس زمانے میں روپیہ پیسہ مومن کا بہترین مال نہیں رہے گا۔کیونکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر روپیہ پیسہ کچھ کام نہیں آئے گا اور شہروں میں جہاں روپیوں پیسوں سے کام چلتا ہے اس قدر فتنے ہوں گے کہ ایک مومن کے لیے آبادیوں میں اپنے دین کو فتنوں سے بچانا بہت دشوار ہوجائے گا۔
اس حدیث میں خاص طور پر پہاڑوں کی چوٹیوں پر مومن کے جانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ایسے مقامات عمومًا فتنہ و فساد سے محفوظ رہتے ہیں اور مویشیوں میں سے خصوصیت کے ساتھ بکریوں کا تذکرہ اس لیے فرمایا کہ اونٹوں ، گایوں ، بھینسوں کی نسبت بکریوں کو لے کر پہاڑ کی چوٹیوں پر جانا اور وہاں ان کی نگہداشت بہت آسان ہے کیونکہ بکری بہت ہی مسکین صِفَت جانور ہے۔اس میں بدک کر بھاگنے اور سرکشی و اِیذا رَسانی کی صِفَت نہیں ہے۔اس کا دودھ بھی بے ضرر ہے اور یہ بہت ہی بابرکت جانور بھی ہے کیونکہ خدا کے ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں اس لیے بکریوں کو چرانا سُنّت بھی ہے ورنہ فتنوں سے بچنے کے لیے گوشہ نشینی کے واسطے بکری ہی لے کر جانا ضروری نہیں ہے۔چنانچہ حضرت ابو بَکْرہ
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی روایت میں آیا ہے کہ جس کے پاس اُونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چراگاہ میں چلا جائے اور جس کے پاس بکریا ں ہوں وہ اپنی بکریوں کے ریوڑ میں چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین پرچلا جائے۔(6) (مسلم شریف،کتاب الْفِتَن،ج۲،ص۳۸۹)
فوائدومسائل:حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے علاوہ دوسری سینکڑوں حدیثوں میں اپنی امت کو ان فتنوں سے آگاہ فرمایا ہے جو زمانۂ نبوت کے بعد وقوع پذیر ہونے والے ہیں اور ان فتنوں سے پناہ مانگنے اور ان سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ سینکڑوں حدیثوں میں سے صرف دوحدیثیں پیش کرتا ہوں ۔{۱}عنقریب کچھ فتنے ایسے رونما ہوں گے کہ ان فتنوں کے وقت میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگااور جو فتنوں کا سامنا کرے گا فتنے اس پر غالب آجائیں گے لہٰذا جو شخص کوئی ٹھکانہ یا جائے پناہ پا جائے تو اُس کو چاہئے کہ وہ وہاں جاکر فتنوں سے بچ جائے۔ (7) (بخاری،ج۲،ص۱۰۴۸){۲}حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ ان فتنوں کے آنے سے پہلے ہی جلد ی جلدی اعمالِ صالحہ کرلوجو فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کے مثل ہوں گے۔ ان فتنوں میں آدمی صبح کو مومن اور شام تک کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن رہے گا اور صبح تک کافرہوجائے گا،دنیا کے حقیر سامانوں کے بدلے اپنا دین بیچ ڈالے گا۔ (8) (مسلم ومشکوٰۃ،کتاب الْفِتَن)
غرض فتنوں کے بارے میں اس قسم کی بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
حضور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے اس حدیث میں ایک تدبیر بتائی ہے کہ جب اس قسم کے فتنے نَمودار ہوں کہ بستیوں اور آبادیوں میں دین خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو مومن کو چاہئے کہ گوشہ نشینی اختیار کرلے تاکہ فتنوں سے مَحفوظ رہے۔
گوشہ نشینی:اِس مسئلہ میں اِختلاف ہے کہ فتنوں کے دور میں مومن کے لیے گوشہ نشینی بہتر ہے یا آبادیوں میں رہ کر فتنوں کا مقابلہ کرنا بہتر ہے حضرت امام شافعی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا کہ فتنوں کے وقت میں گوشہ نشینی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسا کرنے میں تعلیم و تَعلُّم کا دروازہ بند ہوجائے گااور آدمی جُمُعہ و جماعت کی فضیلتوں سے محروم ہوجائے گا۔
اور دوسرے علماء کا قول ہے کہ فتنوں کے دور میں گوشہ نشینی ہی بہتر ہے تاکہ آدمی فتنوں سے مَحفوظ رہے۔ مگر حق یہ ہے کہ اس مسئلہ کا دارومدار احوال و ماحول اور فتنوں کی نوعیت پر ہے اگر فتنے اس قدر شدید ہیں کہ یہ نہ ان کو دفع کرسکتا ہے نہ ان کا مقابلہ کرسکتا ہے بلکہ شدید خطرہ ہے کہ یہ خود فتنوں کے طوفان میں اپنا دین کھوبیٹھے گا تو ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں اس شخص کے لیے گوشہ نشینی ہی بہتر ہے اور اگر یہ شخص فتنوں کا مقابلہ کر کے فتنوں کو ختم کرسکتا ہے یا خود فتنوں سے بچ کر اُمتِ رسول کو بھی بچا سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس شخص کے لیے گوشہ نشینی ہر گز ہرگز جائز نہیں ہوسکتی بلکہ اس شخص پر واجب ہے کہ شہروں اور قصبوں میں رہ کر فتنوں کا مقابلہ کرے اور ان فتنوں کو دفع کرنے کی سعی بلیغ کرتا رہے۔ (9) اس حدیث میں بکریوں کو ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جانے کا جو ذکر ہے وہ اسی صورت میں ہے جب کہ مومن کو فتنوں کے مدافعت کی طاقت نہ ہو بلکہ خود فتنوں میں مبتلا ہونے کا یقین یا ظن ِغالب ہوچکا ہو۔چنانچہ اس سلسلے میں ترمذی اور ابن ما جہ کی ایک حدیث ہے جو اس مضمون پر شاہد عادل ہے۔
حضرت اَبو ثَعْلَبہ خُشَنِّی
رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے لوگوں نے اس آیت کے بارے میں سوال کیا کہعَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْج لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ(10)تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کیا تھا تو حضور نے فرمایا کہ تم لوگ ہمیشہ نیکی کا حکم دیتے رہو اور بدی سے منع کرتے رہو یہاں تک کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ ہر شخص بخل کا پیروکار بن گیا اور سب لوگ دنیا کو دین پر ترجیح دینے لگے اور ہر شخص اپنی ہی رائے کو سب سے بہتر سمجھنے لگا، او ر تم ایسے فتنوں کو دیکھ لو کہ ان سے بچنا دشوار ہوجائے تو پھر تم لوگ اپنی ہی ذات کو لازم پکڑلو اور عوام کے معاملہ کو بالکل چھوڑدو(یعنی گوشہ نشین ہوجاؤ)کیونکہ تمہارے بعد صبر کے دن آرہے ہیں جو اُن دنوں میں صبر کرلے گاگویا ہاتھ میں آگ کا انگارہ لے گا۔ اُن دنوں میں جو نیک اعمال کرے گا اس کو پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کرنے کا ثواب ملے گا۔صحابہ نے عرض کیا کہ یارسو لاللّٰہ! ان لوگوں میں سے پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کا اجر اس کو ملے گا یا ہم صحابہ کے پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کا ثواب اس کو ملے گا؟تو ارشاد فرمایاکہ تم (صحابہ) میں سے پچاس آدمیوں کے اعمالِ صالحہ کا ثواب اس کو ملے گا۔ (11) (مشکوٰۃ،باب الامربالمعروف)واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔

∞ [1] اکمال فی اسماء الرجال، حرف السین، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۸
[2] فیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب من الدین الفرارمن الفتن،ج۱،ص۲۰۱[3] ارشاد الساری،کتاب الایمان، باب من الدین الفرار من الفتن، تحت الحدیث:۱۹، ج۱،ص۱۷۳[4] عمدۃ القاری،کتاب الایمان، باب من الدین الفرار من الفتن، تحت الحدیث:۱۹، ج۱، ص۲۴۷[5] المنجد، حرف الفاء، ص۵۶۸[6] صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب نزول الفتن کمواقع القطر، الحدیث:۲۸۸۷،ص۱۵۴۲[7] صحیح البخاری،کتاب المناقب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، الحدیث:۳۶۰۱، ج۲،ص۵۰۰[8] مشکاۃ المصابیح،کتاب الفتن ،الفصل الاوّل، الحدیث:۵۳۸۳، ج۲، ص۲۷۹[9] ارشاد الساری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرا رمن الفتن،تحت الحدیث:۱۹،ج۱،ص۱۷۴
وعمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب من الدین الفرا رمن الفتن،تحت الحدیث:۱۹،ج۱،ص۲۴۸
[10] ترجمہء کنز الایمان:تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو ۔ (پ۷، المآئدۃ:۱۰۵)[11] مشکاۃ المصابیح،کتاب الآداب،باب الامربالمعروف،الحدیث:۵۱۴۴،ج۲،ص۲۳۹

ماخذ و مراجع

کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 18