- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 4
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ:قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللّٰہ اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ قَالَ:مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب ایّ الاسلام افضل؟،الحدیث:۱۱،ج۱،ص۱۶)
عن ابی موسی الاشعری قال:قالوا:یارسول اللہ ای الاسلام افضل قال:من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب ای الاسلام افضل؟،الحدیث:۱۱،ج۱،ص۱۶)
حدیث ترجمہ
: حضرت ابو موسٰی اَشْعَریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسولاللّٰہ!عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکون سا اسلام افضل ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں ۔
شرح حدیث
حضرت ابو موسیٰ:اس حدیث کے راوی حضرت ابو موسٰی اَشْعَریرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت ہی نامْور صحابی ہیں ۔یمن کے قبیلہ اَشْعَرسے آپ کا تعلق ہے اس لئے اَشْعَری کہلاتے ہیں ۔آپ نے مکہ مکرمہ میں اسلام قبول کیا اور پہلے مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے پھر حبشہ سے ہجرت کرکے مدینے آئے۔حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کو ’’زُبَید‘‘ و ’’عَدَن‘‘ساحل ِیمن کا حاکم مقرر فرمایا تھا ۔حضرت امیر المؤمنین عمر فاروقرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہنے اپنے دور خلافت میں ان کو کوفہ و بصریٰ کا گورنر بنایا ۔آپ سے کل تین سو ساٹھ حدیثیں مروی ہیں ۔صحابہ اور تابعین کی بہت بڑی تعداد آپ کے شاگردوں کی فہرست میں ہے ،خاص کر آپ کے صاحبزادگان ابو بردہ،ابو بکر،ابراہیم،موسی نے آپ سے حدیثیں روایت کی ہیں ،بخاری شریف میں آپ کی روایتوں کی تعداد چَوَّن ہے۔(فیوض الباری،ص۱۱۵) (1) مگر علامہ قسطلانی کا بیان ہے کہ بخاری شریف میں ستاون حدیثیں آپ سے مروی ہیں۔(ارشاد الساری،ج۱،ص۲۱۶)
علامہ قسطلانی فرماتے ہیں کہ آپ نے ۴۱ھ یا ۴۴ھ یا ۴۵ھ میں بمقام کوفہ وفات پائی۔ (2) مگر اِکمال فی اَسمائِ الرِّجال میں تحریر ہے کہ ۵۲ھ میں مکہ مکرمہ کے اندر آپ کی رِحلت ہوئی۔([3])واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
شرحِ حدیث:اس حدیث کو مسلم اور نسائی نےکتاب الایمانمیں اور ترمذی نےکتاب الزُہدمیں ذکر کیا ہے۔مسلم شریف میں اسی مضمون کی جو دوسری روایت درج ہے اس میں ’’اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ‘‘کی جگہ’’اَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ اَفْضَلُ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ بہر حال اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں افضل وہ مسلمان ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں ، نہ وہ کسی مسلمان کو اپنی زبان سے کوئی ایذا پہنچائے نہ اپنے ہاتھ سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف دے۔
فوائد و مسائل:ایذا اور تکلیف تو زبان اور ہاتھ کے علاوہ دوسرے اعضاء سے بھی پہنچائی جاسکتی ہے اور کسی بھی عضو سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچانا حرام ہے مگر اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ زبان اور ہاتھ کا ذکر اس لئے ہے کہ انسان کے زیادہ تر اعمال و افعال زبان اور ہاتھ ہی سے انجام پاتے ہیں اور حدیث میں ان دونوں اعضاء میں سے زبان کا ذکر پہلے اور ہاتھ کا ذکر بعد میں اس لئے کیا گیا کہ ایذا پہنچانے کے معاملہ میں زبان کا نمبر ہاتھ سے بھی آگے ہے کیونکہ اوّلًا تو زبان سے تکلیف پہنچانا بہت ہی کثیر الو قوع اور آسان ہے۔کون نہیں جانتا کہ انسان اپنی گالیوں ، افترا پردازیوں ، بدگوئیوں ،غیبتوں ،چغلیوں سے اور زبان سے ظلم اورناانصافی کے احکام دے کر ایک منٹ میں سینکڑوں ایذائیں اور تکلیفیں پہنچادیتا ہے۔پھر ایک و جہ یہ بھی ہے کہ زبان کی ایذائیں اور تکلیفیں ہاتھ اور دوسرے اعضاء کی تکلیفوں سے بدرجہا بڑھ کر دکھ دینے والی ہوا کرتی ہیں ۔کسی عربی شاعر نے اس بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ؎∞جَرَاحَاتُ السِّنَانِِ لَھَا التِّیَامُوَلَا یَلْتَامُ مَا جَرَحَ اللِّسَانُیعنی برچھیوں اور بھالَوں کے زخم تو بھر کر اچھے ہوجایا کرتے ہیں مگرزبان کے لگائے ہوئے زخم کبھی نہیں بھراکرتے بلکہ وہ ہمیشہ تازہ ہی رہتے ہیں ۔
پھر زبان کی ایذا اور تکلیف ایسی ہے کہ دوروالے اور نزدیک والے سب کو پہنچائی جاسکتی ہے برخلاف ہاتھ پائوں وغیرہ اعضاء کے کہ ان سے صرف اسی کو تکلیف پہنچائی جاسکتی ہے جو قریب ہو۔بہر کیف ارشاد نبوی کا مقصد یہ ہے کہ جو مسلمان کسی طرح کسی مسلمان کو تکلیف اور ایذا نہ پہنچائے اس مسلمان کا اسلام ان مسلمانوں سے افضل و اعلی ہے جو ایذا پہنچاتے اور دکھ دیتے رہتے ہیں ۔{۲}یہ حدیث ’’جَوَامِعُ الْکَلِم‘‘میں سے ہے یعنی اس کے مختصر الفاظ میں معانی و مضامین اور احکام و فرامین کا ایک سمندر موجیں مار رہا ہے ۔اگر مسلمان صرف اس ایک حدیث پرصحیح معنوں میں عمل کرلیں تو پھر حقوق العباد کے تمام جزئیات پر عمل کی سعادت نصیب ہو جائے گی ۔آج کل ہر طرف ظلم،خیانت،چوری،ڈاکہ زنی، بدکاری، چور بازاری، سودخواری، بدعہدی، بددیانتی، غیبت، چغلی، تہمت، گالیاں ، قتل وخونریزی وغیرہ ہزاروں خرابیاں مسلم معاشرہ میں داخل ہو کر پوری قومِ مسلم کی ایذا رسانی کا باعث بنی ہوئی ہیں جس سے ملت اسلامیہ کا نظام عمل اس طرح تہس نہس ہو کر تباہ و برباد ہوگیا ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے جو مسلمانوں ہی سے دکھ اور تکلیف نہ پارہا ہو اور کوئی مسلمان ایسانہیں ہے جو حقوق العباد کے مواخذوں میں گرفتار نہ ہو ۔اگر اس فرمان مصطفیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مسلمان اپنے لئے حرز جان اور اپنے اعمال و افعال کا رہنما نشان بنالیں تو بخدا یہ ایک ہی حدیث پوری ملت اسلامیہ کے امن و چین کی ضامن ہے۔ کیونکہ جب ہر مسلمان اپنی زندگی کا یہ دستور بنا لے گا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ میری کسی حرکت سے کسی مسلمان کو کوئی نقصان اور دکھ درد نہ پہنچے تو ظاہر ہے کہ مسلم معاشرہ امن و امان اور راحت و عافیت کا گہوارہ بن جائے گا،نہ تھانہ پولیس کی ضرورت رہے گی نہ کچہریوں میں داد رسی اور فریاد رسی کی کوئی حاجت باقی رہے گی۔ مگر کس قدر افسوسناک سانحہ ہے کہ مسلمان اپنی قومی بیماریوں کا علاج حکومت کے ایوانوں اور کفار و مشرکین کے قوانین،سیاسی پارٹیوں کے دفتروں یا کَمْیونِزم و سوشَلِزْم کے دارُ الامراض میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور مدینہ والے ’’دار الشفائ‘‘ کے ان تیر بہدف نسخوں اور تریاقوں کو ایسے بھولے بیٹھے ہیں کہ کبھی بھول کر بھی ان کو یاد نہیں کرتے حالانکہ خدا کی قسم رحمتِ عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی وہ ذات گرامی ہے جس کے بارے میں پورے عزم و یقین اور وثوق و اعتماد کے ساتھ بہ بانگ ِ دُہُل یہ کہا جاسکتا ہے کہ؎∞
وہ حاذق جس کا تنہا نسخہ تنزیل فرقانی دوائے جملہ علتہائے جسمانی و روحانی
∞ [1] فیوض الباری، پارہ اوّل،کتاب الایمان، باب ایّ الاسلام افضل، ج۱،ص۱۷۹[2] ا رشاد الساری،کتاب الایمان،باب ایّ الاسلام افضل؟،تحت الحدیث:۱۱،ج۱،ص۱۶۰[3] اکمال فی اسماء الرجال،حرف المیم، فصل فی الصحابۃ،ص۶۱۸
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 4