- ہوم
- کتابیں
- منتخب حدیثیں
- حدیث نمبر 5
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان۔۔۔الخ، الحدیث:۱۳،ج۱،ص۱۶)
عن انس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا یومن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ۔ ( صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان۔۔۔الخ، الحدیث:۱۳،ج۱،ص۱۶)
حدیث ترجمہ
حضرت انَسرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہسے روایت ہے،حضور نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ تم میں سے کوئی مومن (کامل) نہیں ہوگاجب تک کہ اپنے بھائی (مومن) کے لئے وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنی ذات کے لئے پسند کرتاہے۔
شرح حدیث
حضرت انس بن مالک:اس حدیث کے راوی حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہبہت ہی جلیل القدر اور صاحب ِ فضیلت صحابی ہیں ، ان کی کنیت ’’ابو حمزہ‘‘ ہے اور یہ مدینہ منورہ کے باشندہ انصاری ہیں ۔دس برس کی عمر سے بارگاہِ نبوت میں خادمِ خاص کی حیثیت سے رہے اور دس برس تک مسلسل سفرو حضر میں رحمت عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت کاشرف حاصل کیا ۔حضورعلیہ الصلوۃ والسلا منے خوش ہوکر ان کے لئے عمر، مال، اولاد میں برکت کی دعا فرمائی۔اسی کا مبارک اثر تھا کہ ان کا باغ سال میں دو مرتبہ پھلتا تھا اور باغ کے تمام پھلوں میں مشک کی خوشبو آتی تھی ۔چند بیویوں اور باندیوں کے شکم سے ان کے ایک سو بیٹے ہوئے ۔سو برس کی عمر پائی ۔ ۹۳ھ میں ’’بصرہ‘‘ کے اندرآپ کی وفات ہوئی ۔مشہور باکرامت محدث حضرت محمد بن سِیرینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے آپ کو غسل دیا اوربصرہ میں حَجّاج بن یوسف گورنر کے محل کے قریب میں آپ مدفون ہوئے۔
آپ سے بکثرت حدیثیں مروی ہیں ۔صرف ’’صحاح ستہ ‘‘میں دوہزار دو سو چھیاسی حدیثیں آپ کی روایت کی ہوئی مذکور ہیں اور بخاری شریف میں آپ کی مَروِیَّات کی تعداد دو سو اکیاون ہے ۔(فیوض الباری،ج۱،ص۱۲۴) مگر علامہ قسطلانی نے تحریر فرمایا ہے کہ بخاری شریف میں حضرت انس بن مالکرضی اللّٰہ تعالیٰ عنہکی روایت کی ہوئی دوسو اڑسٹھ حدیثیں ہیں ۔ (1) (ارشاد الساری،ج۱،ص۲۱۸)واللّٰہ تعالیٰ اعلم۔
شرحِ حدیث: یہ حدیث در حقیقت اس سے پہلے والی حدیث کا تَتِمَّہ اورتَکْمِلہ ہے اور سلسلۂ حقوق ُا لعِباد کی دوسری کڑی ہے ۔پہلی کڑی تو یہ تھی کہ ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کا یہ دستور بنالے کہ میری ذات سے کسی مسلمان کو کسی طرح کوئی ایذا نہ پہنچے اور دوسری کڑی یہ ہے کہ مسلمان اس زریں اصول کو اپنا ضابطہ حیات بنالے کہ جو کچھ اور جیسے سلوک ومعاملات کو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی دوسرے مسلمان کے لئے بھی پسند کرے ۔مثلًا ہر شخص اپنی ذات کے لئے یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی مجھ کو نقصان نہ پہنچائے، کوئی میری بے آبروئی نہ کرے، کوئی میرے ساتھ بدسلوکی اور بد معاملگی نہ کرے، کوئی مجھے دھوکہ اور فریب نہ دے، کوئی مجھ کو اور میرے رشتہ داروں اور محبت والوں کو نہ ستائے، یوں ہی ہر شخص اپنے لئے یہ پسند کرتا ہے کہ مجھے عزت و آبرو ،مال و دولت اور تَنْدُرُستی وسلامتی ملے، میری ہر چیز اچھی ہو، میری زندگی اچھی گزرے، مجھے ہر طرح کا آرام و راحت ملے وغیرہ وغیرہ۔
اب اس حدیث کی روشنی میں ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذات کے لئے جو کچھ اور جن جن چیزوں کو پسند کرتا ہے وہی ہر مسلمان کے لئے بھی پسند کرے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی مسلمان اس طرزِ فکر اور اس طریقہ کو اپنی زندگی کا دَستورِ حیات بنالے گاتو پھر وہ کسی مسلمان کی کبھی بھی کوئی حق تلفی نہیں کرے گا اور وہ حرص و حسد، بغض و کینہ، نِفاق و شِقاق، جنگ وجِدال،ُ کشت وقتال وغیرہ تمام اخلاقِ رَذِیلہ سے آئینہ کی طرح صاف شفاف ہوجائے گا اور مسلم معاشرہ آرام و راحت اور امن و چین کی ایک جنت بن کر ساری دنیا کے لئے باعث کشش اور تمام اقوام عالم کے لئے جاذبِ نظر بن جائے گا اور امن کی متلاشی اور سکون و اطمینان کی بھو کی پیاسی دنیا کو اسلامی معاشرہ کے دامن رحمت میں پناہ ملے گی اور پھر ہم مسلمان اس منزل میں ہوں گے کہ علی الاعلان ساری دنیا میں یہ اعلان نشر کرسکیں گے کہ؎∞
کہہ دو یہ ایٹم و سائنس کے متوالوں سے تھام لو دامنِ حق،اب بھی سنبھل جائوگے
گر کیا تم نے محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت سے گریز اپنی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل جائوگے
فوائد و مسائل :{۱}اس حدیث کو اما م مسلم،ترمذی،نسائی نے اپنی اپنی کتابوں کے کتاب الایمان میں نقل فرمایا ہے۔{۲}اس حدیث میں ’’لَا یُؤْمِنُ‘‘کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک کوئی مومن ہوگا ہی نہیں جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسندکرتا ہے مگر اس بات پر تمام شارحین ِحدیث کا اِتِّفاق ہے کہ اس حدیث میں لفظ’’ کاملًا‘‘یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ پوشیدہ ہے اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی کامل و مکمل مسلمان نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے وہی سب کچھ نہ پسند کرے جو اپنی ذات کے لئے پسند کرتا ہے ۔
اس حدیث میں لفظ ’’ کاملًا‘‘ پوشیدہ ماننا ضروری ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مسلمان میں یہ وصف نہ پایا جائے تو ہرگز ہرگز وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوسکتااس خوبی کے نہ رہنے کی صورت میں بھی اگر کوئی شخص تمام ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہے تو وہ مسلمان ہی کہلائے گا یہ اور بات ہے کہ اس کے اسلام کی خوبیوں میں کچھ نقصان رہے گا اور وہ حسن ِاسلام کے کمال سے محروم رہے گا لہٰذا کامل و مکمل درجے کا مسلمان نہیں کہلائے گا۔
ایک ضروری اِنتباہ: یہاں ایک بات خصوصاً حدیث پڑھنے اور پڑھانے والوں کےلئے بہت ہی خاص طور پر قابل توجہ ہے ۔وہ یہ ہے کہ اکثر حدیثوں میں کسی ایک کام کو اسلام کا نشان قراردے دیا گیا ہے مثلًا ایک حدیث میں آیا ہے کہ ’’مسلمان وہ ہے کہ تمام مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں ‘‘اور ایک حدیث میں یہ وارد ہوا کہ’’ بہترین اسلام اس شخص کا ہے جو کھانا کھلائے اور سلام عام کرے۔ ‘‘تو ان حدیثوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس مسلمان میں ایذا سے بچنے یا کھانا کھلا نے یا سلام کرنے کی صفت پائی گئی وہ صرف ایک صفت کی و جہ سے مسلمان کامل ہوگیا اگرچہ وہ دوسرے اعمال و ارکانِ اسلام کی پابندی نہ کرتا ہو ۔اسی طرح ان حدیثوں کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بس یہی ایک اسلامی کام ضروری ہے اور باقی دوسرے اعمال اسلام غیر ضروری ہیںمعاذ اللّٰہ! ان حدیثوں کا ہرگزہرگز یہ مطلب نہیں ہے۔
بلکہ واقعہ یہ ہے کہ کسی ایک کام کو خاص طور پر نشان اسلام اور علامت ایمان فرمادینے سے حضورعلیہ الصلوۃ والسلامکا یہ مقصد ہوتا ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس عمل کی کسی خاص اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت ظاہر فرمانا چاہتے ہیں مثلًا حضورعلیہ الصلوۃ والسلامنے ایک حدیث میں یہ فرمایا: ’’لَا صَلٰوۃَ اِلَّابِحُضُوْرِ الْقَلْبِ‘‘ نہیں ہے کوئی نماز مگر حضور ِ قلب سے، تو اس حدیث کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بس حضورِ قلب ہی نماز کے درست ہونے کیلئے سب کچھ ہے، شرائط اور ارکان نماز کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلامیہ بتانا چاہتے ہیں کہ نما ز میں حضور قلب کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور حالت نماز میں دل کی حضوری ایک بہت ہی اہم صفت ہے۔
اسی طرح وہ حدیثیں جن میں چند خاص خاص گناہوں کے متعلق یہ فرمایا گیاکہ جو اِن گناہوں کو کرے وہ مومن نہیں یا خاص خاص اعمال صالحہ کے بارے میں یہ ارشاد ہوا کہ جو شخص ان اعمال کو چھوڑدے وہ مومن نہیں ،توخوب سمجھ لیجئے کہ ان حدیثوں کا ہرگز ہرگز یہ منشا اور مقصد نہیں ہے کہ وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہو کر کافر ہوگیا بلکہ ان سب حدیثوں کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ان گناہوں کا کرنے والا اور ان اعمال صالحہ کاچھوڑنے والا کامل درجے کا مسلمان نہیں ہے اور ایک مومن کامل کے اعلیٰ درجات اور بلند مقام سے محروم ہے۔
یہ خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ ان حدیثوں کا مقصد قانون شرعی بیان کرنایا کفر کا فتوی دینا نہیں ہے بلکہ ان حدیثوں کا مقصد بُرے کاموں کی برائیوں کو بہت شدید بتا کر شدت کے ساتھ اس سے مسلمانوں کو روکنا اور اچھے کاموں کی اچھائی کو بہت زیادہ بتا کر اس کام پر مسلمانوں کو رغبت دلانا ہے۔
درحقیقت کلامِ نبوت کے طرز خطاب کی خصوصیات سے ناواقِفِیَّت اور ان حدیثوں کے اصل مفہوم سے بے خبری ہی کا نتیجہ ہے کہ فرقۂ مُعْتَزِلہ اور خَوارِج نے ان حدیثوں کے ظاہری معنی مراد لے کر گناہگار مسلمانوں کو دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا فتویٰ دے دیا اور خود گمراہی کے انتہائی گہرے غار میں گرپڑے ۔اسی طرح اس زمانے کے بعض جاہل مبلغ جو حدیثوں کا صرف ترجمہ پڑھ پڑھ کر تبلیغ کرنے لگے ہیں وہ بھی اپنی جہالت سے ان حدیثوں کا یہی مطلب بتاتے پھرتے ہیں مثلًا ’’تارک نماز مسلمان ہی نہیں ‘‘ ، ’’جس میں عہد و امانت کی پابندی نہ ہو وہ مسلمان ہی نہیں ‘‘ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب بالکل ہی غلط ہے کیونکہ تارک نماز یقینا مسلمان ہے ،یہ اور بات ہے کہ وہ کامل درجے کا مسلمان نہیں ۔اسی طرح عہد و امانت کی پابندی نہ کرنے والا اگرچہ گناہگار ہے مگر بِلاشبہ وہ مسلمان ہے۔
بہر کیف علماء اہلسنت کا فرض ہے کہ وہ جب اس قسم کی حدیثوں کو بیان فرمائیں تو ان کی حقیقی پوزیشن کو تفصیل کے ساتھ ضرور واضح کردیں تاکہ خالی ُالذہن عوام گمراہی کا شکار نہ ہوں اور عوام کا فرض ہے کہ وہ جاہل مبلغوں کو ہرگز ہرگز منبر رسول پر آنے نہ دیں اور کبھی بھی ان کا وعظ نہ سنیں ورنہ بہت بڑا خطرہ ہے کہ ان جاہلوں کی زبان سے حدیثوں کا غلط مطلب سن کر کہیں سامعین کا عقیدہ خرا ب اور ان کا ایمان برباد نہ ہوجائے۔والمولٰی تعالیٰ ھوالموفق!؎∞
من آنچہ شرط ابلاغ است باتومی گویم تو خواہ از سخنم پند گیر و خواہ ملال
∞ [1] ا رشادالساری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب۔۔۔الخ،تحت الحدیث:۱۳،ج۱،ص۱۶۲
وفیوض الباری،پارہ اوّل،کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب لاخیہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۸۷
وعمدۃ القاری،کتاب الایمان،باب من الایمان ان یحب۔۔۔الخ،تحت الحدیث۱۳،ج۱،ص۲۱۷
ماخذ و مراجع
کتاب: منتخب حدیثیں جلد: 1 , حدیث نمبر: 5