DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ash Shuara Ayat 51 Translation Tafseer

رکوعاتہا 11
سورۃ ﳖ
اٰیاتہا 227

Tarteeb e Nuzool:(47) Tarteeb e Tilawat:(26) Mushtamil e Para:(19) Total Aayaat:(227)
Total Ruku:(11) Total Words:(1463) Total Letters:(5553)
50-51

قَالُوْا لَا ضَیْرَ٘-اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ(۵۰)اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠(۵۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
جادوگروں نے کہا: کچھ نقصان نہیں ،بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں ۔ہم اس بات کی لالچ کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قَالُوْا: وہ بولے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کی دھمکی سن کر ان جادو گروں  نے کہا’’اللہ تعالٰی کی خاطر جان دینے میں  کچھ نقصان نہیں  خواہ دنیا میں  کچھ بھی پیش آئے کیونکہ ہم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ایمان کے ساتھ پلٹنے والے ہیں  اور ہمیں  اللہ تعالٰی سے رحمت کی امید ہے اور ہمیں  اس بات کا لالچ ہے کہ ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ اس بنا پر ہماری خطائیں  بخش دے کہ ہم فرعون کی رعایا میں  سے یا اس مجمع کے حاضرین میں  سے سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والے ہیں ۔( روح ا لبیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۵۲، ۶ / ۲۷۶ملخصًا)

             اس واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کئی سال تک وہاں  ٹھہرے رہے اور ان لوگوں  کو حق کی دعوت دیتے رہے، لیکن اُن کی سرکشی بڑھتی گئی۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links