DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ash Shuara Ayat 198 Translation Tafseer

رکوعاتہا 11
سورۃ ﳖ
اٰیاتہا 227

Tarteeb e Nuzool:(47) Tarteeb e Tilawat:(26) Mushtamil e Para:(19) Total Aayaat:(227)
Total Ruku:(11) Total Words:(1463) Total Letters:(5553)
198-200

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ(۱۹۸)فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ(۱۹۹)كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ(۲۰۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے۔ پھر وہ ان کے سامنے قرآن کو پڑھتا جب بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہ تھے۔ یونہی ہم نے مجرموں کے دلوں میں اس قرآن کے جھٹلانے کو داخل کردیا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ: اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کے معنی یہ ہیں  کہ ہم نے یہ قرآن کریم ایک فصیح، بلیغ اورعربی نبی پر اُتارا جس کی فصاحت سب اہلِ عرب مانتے ہیں  اور وہ جانتے ہیں  کہ قرآن کریم عاجز کر دینے والا کلام ہے اور اس کی مثل ایک سورت بنانے سے بھی پوری دنیا عاجز ہے۔ علاوہ بریں  اہلِ کتاب کے علماء کا اتفاق ہے کہ قرآن پاک کے نزول سے پہلے اس کے نازل ہونے کی بشارت اور اس نبی کی صفت اُن کی کتابوں  میں  انہیں  مل چکی ہے، اس سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ نبی اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے ہیں  اور یہ کتاب اس کی نازل فرمائی ہوئی ہے اور کفارجو طرح طرح کی بے ہودہ باتیں  اس کتاب کے متعلق کہتے ہیں  سب باطل ہیں  اور خود کفار بھی حیران ہیں  کہ اس کے خلاف کیا بات کہیں ، اس لئے کبھی اس کو پہلوں  کی داستانیں  کہتے ہیں ، کبھی شعر، کبھی جادو اور کبھی یہ کہ مَعَاذَاللہ اس کو خود رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بنالیا ہے اور اللہ تعالٰی کی طرف اس کی غلط نسبت کردی ہے۔ اس طرح کے بے ہودہ اعتراض عناد رکھنے والا ہر حال میں  کرسکتا ہے حتّٰی کہ اگر بالفرض یہ قرآن کسی غیر عربی شخص پر نازل کیا جاتا جو عربی کی مہارت نہ رکھتا اور اس کے باوجود وہ ایسا عاجز کر دینے والا قرآن پڑھ کر سنا تا جب بھی لوگ اسی طرح کفر کرتے جس طرح انہوں  نے اب کفر و انکار کیا کیونکہ اُن کے کفر و انکار کا باعث عناد ہے۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۸-۱۹۹، ص۸۳۲)

حق بات قبول کرنے میں  ایک رکاوٹ:

            اس سے معلوم ہو اکہ عناد حق بات کو قبول کرنے کی راہ میں  بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ جس شخص کے دل میں  کسی کے بارے میں  عناد بھرا ہوا ہو وہ اس کے اعتراضات کے جتنے بھی تسلی بخش جوابات دے لے اور حق بات پر جتنے بھی ایک سے ایک دلائل پیش کر دے عناد رکھنے والے کے حق میں  سب بے سود ہوتے ہیں  اور عناد رکھنے والاان سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ ہی ان کی وجہ سے حق بات کو قبول کرتا ہے۔ یہی چیز ہمارے معاشرے میں  بھی پائی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ جس شخص کے بارے میں  دشمنی دل میں  بیٹھ جائے تو ا س پر طرح طرح کے بیہودہ اعتراضات شروع کر دئیے جاتے ہیں  اور وہ اپنی صداقت و صفائی پر جتنے چاہے دلائل پیش کرے اسے ماننے پر تیار نہیں  ہوتے۔ اللہ تعالٰی ایسے لوگوں  کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطافرمائے،اٰمین۔

{ كَذٰلِكَ: یونہی۔} یعنی ہم نے اسی طرح ان کافروں  کے دلوں  میں  اس قرآن کے جھٹلانے کو داخل کردیا ہے جن کا کفر اختیار کرنا اور اس پر مُصِر رہنا ہمارے علم میں  ہے، تو اُن کے لئے ہدایت کا کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے کسی حال میں  وہ کفر سے پلٹنے والے نہیں ۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۰، ص۸۳۲)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links