DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Ash Shuara Ayat 22 Translation Tafseer

رکوعاتہا 11
سورۃ ﳖ
اٰیاتہا 227

Tarteeb e Nuzool:(47) Tarteeb e Tilawat:(26) Mushtamil e Para:(19) Total Aayaat:(227)
Total Ruku:(11) Total Words:(1463) Total Letters:(5553)
22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ(۲۲)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور یہ کون سی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر رکھا۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ تِلْكَ: اور یہ۔} فرعون نے جو احسان جتایا تھا ا س کے جواب میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اس میں  تیرا کیا احسان ہے کہ تم نے میری تربیت کی اور بچپن میں  مجھے اپنے پاس رکھا، کھلایا اور پہنایا کیونکہ میرا تجھ تک پہنچنے کا سبب تو یہی ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنایا اور اُن کی اولادوں  کو قتل کیا،تیرے اس عظیم ظلم کی وجہ سے میرے والدین میری پرورش نہ کرسکے اور مجھے دریا میں  ڈالنے پر مجبور ہوئے، اگرتو ایسا نہ کرتا تو میں  اپنے والدین کے پاس ہی رہتا، اس لئے یہ بات کیا اس قابل ہے کہ اس کا احسان جتایا جائے۔ (روح البیان ،الشعراء،تحت الآیہ:۶،۲۲ / ۲۶۸،ملخصاً) اسے دوسرے الفاظ میں  یوں  سمجھ لیں  کہ کوئی شخص کسی بچے کے باپ کو قتل کرکے بچہ گود میں  لے اور اس کی پرورش کرے پھر بڑا ہونے پر اسے احسان جتلائے کہ بیٹا تو یتیم و لاوارث تھا میں  نے تجھ پر احسان کیا اور تجھے پال پوس کر بڑا کیا۔ تو اس کے جواب میں  وہ بچہ کیا کہے گا۔ وہ یہی کہے گا کہ اپنا احسان اپنے پاس سنبھال کر رکھ۔ مجھے پالنا تو تجھے یاد ہے لیکن یہ تو بتا کہ مجھے یتیم و لاوارث بنایا کس نے تھا؟

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links