DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Maidah Ayat 63 Translation Tafseer

رکوعاتہا 16
سورۃ ﷰ
اٰیاتہا 120

Tarteeb e Nuzool:(112) Tarteeb e Tilawat:(5) Mushtamil e Para:(06-07) Total Aayaat:(120)
Total Ruku:(16) Total Words:(3166) Total Letters:(12028)
63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ(۶۳)
ترجمہ: کنزالعرفان
ان کے درویش اور علماء انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں منع کرتے ۔ بیشک یہ بہت ہی برے کام کررہے ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ: انہیں کیوں نہ روکاان کے پادریوں نے؟} حضرت حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : اس آیت میں ’’اَلرَّبّٰنِیُّوْنَ ‘‘سے عیسائیوں کے علماء مراد ہیں اور’’اَلْاَحْبَارُ‘‘سے یہودیوں کے علماء مراد ہیں ،اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ یہودیوں کے بارے میں ہیں کیونکہ یہ آیات یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔(تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴ / ۳۹۳)

             اورایک لفظ سے یہودیوں کے درویش مراد ہیں اور دوسرے لفظ سے یہودیوں کے علماء مراد ہیں۔

علماء پر برائی سے منع کرنا ضروری ہے:

            یہاں یہودی درویشوں اور علماء کے متعلق فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہ روکا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عالمِ دین کی اس بات پر بھی پکڑ ہوگی کہ وہ گناہ ہوتے ہوئے دیکھیں اور قدرت کے باوجود منع نہ کریں کیونکہ ایسا عالم گناہ کرنے والے کی طرح ہے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’گناہ روحانی مرض ہے اور ا س کا علاج اللہ تعالیٰ کی، اس کی صفات کی اور ا س کے احکام کی معرفت ہے اور یہ علم حاصل ہونے کے باوجود گناہ ختم نہ ہوں تو یہ اس مرض کی طرح ہے جو کسی شخص کو ہو اور دوائی کھانے کے باوجود وہ مرض ختم نہ ہو اور عالم کا گناہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا یہ قلبی مرض انتہائی شدید ہے۔  (تفسیر کبیر، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴ / ۳۹۳)

            عالم پر واجب ہے کہ خود بھی سنبھلے اور دوسروں کو بھی سنبھالے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : قرآنِ پاک میں (علماء کے لئے) اس آیت سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ والی کوئی آیت نہیں۔(خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۱ / ۵۰۹)

            اور فرماتے ہیں : قرآنِ پاک میں یہ آیت (علماء کے بارے میں ) بہت سخت ہے کیونکہ اللہ  تعالیٰ نے برائی سے منع کرنا چھوڑ دینے والے کو برائی کرنے والے کی وعید میں داخل فرمایا ہے۔  (مدارک، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ص۲۹۲-۲۹۳)

            امام ضحاک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرے نزدیک اس آیت سے زیادہ خوف دلانے والی قرآنِ پاک میں کوئی آیت نہیں ، افسوس کہ ہم برائیوں سے نہیں روکتے ۔ (تفسیر طبری، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۶۳، ۴ / ۶۳۸)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links