DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Baqarah Ayat 30 Translation Tafseer

رکوعاتہا 40
سورۃ ﷅ
اٰیاتہا 286

Tarteeb e Nuzool:(87) Tarteeb e Tilawat:(2) Mushtamil e Para:(1-2-3) Total Aayaat:(286)
Total Ruku:(40) Total Words:(6958) Total Letters:(25902)
30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ۔ فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ:اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔}حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں کے واقعات پر ضمنی تبصرے سے پہلے ایک مرتبہ آیات کی روشنی میں واقعہ ذہن نشین کرلیں۔واقعے کا خلاصہ: اللہتعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق سے پہلے فرشتوں سے فرمایاکہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس پر فرشتوں نے عرض کی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو زمین میں اس کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم ہر وقت تیری تسبیح و تحمید کرتے ہیں (یعنی تیری خلافت کے مستحق ہم ہیں۔ )اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کے بعد انہیں تمام چیزوں کے نام سکھادیے اورپھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ تم ہی خلافت کے مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے یہ سن کر عرض کی: اے اللہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا،ساری علم و حکمت تو تیرے پاس ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا: اے آدم!تم انہیں اِن تمام اشیاء کے نام بتادو ۔ جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تواللہ تعالیٰ نے فرمایا :اے فرشتو!کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں تمہاری ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔  

{اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً :میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔} خلیفہ اُسے کہتے ہیں جو احکامات جاری کرنے اور دیگر اختیارات میں اصل کا نائب ہوتا ہے ۔اگرچہ تمام انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے خلیفہ ہیں لیکن یہاں خلیفہ سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممراد ہیں اور فرشتوں کو حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خلافت کی خبر اس لیے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کریں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے پہلے ہی خلیفہ کا لقب عطا کردیا گیا ہے اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی۔

فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب:

یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کو کسی سے مشورہ کی حاجت ہو،البتہ یہاں خلیفہ بنانے کی خبر فرشتوں کوظاہری طور پرمشورے کے انداز میں دی گئی ۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے اپنے ما تحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ ا س کام سے متعلق ان کے ذہن میں کوئی خلش ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے مشورہ کرنے کا حکم دیا،جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِ ‘‘اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔(اٰل عمران: ۱۵۹)

اور انصار صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ‘‘ اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے۔(شورٰی: ۳۸)

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگااور جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہیں ہوگا اور جس نے میانہ روی کی وہ کنگال نہیں ہوگا۔(معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵ / ۷۷، الحدیث: ۶۶۲۷)

{ اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا:کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا ۔}اس کلام سے  فرشتوں کا مقصد اعتراض کرنا نہ تھا بلکہ ا س سے اپنے تعجب کا اظہار اور خلیفہ بنانے کی حکمت دریافت کرنا تھا اور انسانوں کی طرف فسادپھیلانے کی جو انہوں نے نسبت کی تو اس فساد کا علم انہیں یا توصراحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا یا انہوں نے لوح محفوظ سے پڑھا تھا اوریا انہوں نے جِنّات پر قیاس کیا تھا کیونکہ وہ زمین پر آباد تھے اور وہاں فسادات کرتے تھے ۔ (بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱ / ۲۸۲، ملتقطاً)

فرشتے کیا ہیں ؟

فرشتے نوری مخلوق ہیں ،گناہوں سے معصوم ہیں ، اللہ تعالیٰ کے معززومکرم بندے ہیں ، کھانے پینے اور مرد یا عورت ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے بہار شریعت جلدنمبر 1 کے صفحہ90سے ’’ملائکہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔

{ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ:بیشک میں زیادہ جانتاہوں۔} فرشتوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے کیونکہ خلیفہ بنانے میں میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں۔ بات یہ ہے کہ انہی انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے، اولیاء بھی اور علماء بھی اوریہ حضرات علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links