DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Baqarah Ayat 246 Translation Tafseer

رکوعاتہا 40
سورۃ ﷅ
اٰیاتہا 286

Tarteeb e Nuzool:(87) Tarteeb e Tilawat:(2) Mushtamil e Para:(1-2-3) Total Aayaat:(286)
Total Ruku:(40) Total Words:(6958) Total Letters:(25902)
246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰىۘ-اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْاؕ-قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآىٕنَاؕ-فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ(۲۴۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے حبیب! کیا تم نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو نہ دیکھا جو موسیٰ کے بعد ہوا ،جب انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں ، اس نبی نے فرمایا: کیا ایسا تو نہیں ہوگا کہ اگر تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر تم جہاد نہ کرو؟ انہوں نے کہا: ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہمیں ہمارے وطن اور ہماری اولاد سے نکال دیا گیا ہے تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ (بقیہ) نے منہ پھیر لیا اور اللہ ظالموں کوخوب جانتا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ: اے حبیب!کیا تم نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو نہ دیکھا ۔} جہاد کا حکم دینے کے بعد اب جہاد کا ہمت و حوصلہ پیدا کرنے والا ایک واقعہ بہت سی دلچسپ تفصیلات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد جب بنی اسرائیل کی اعتقادی اور عملی حالت نہایت خراب ہوگئی اور انہوں نے عہد ِا لٰہی کو فراموش کردیا، بت پرستی میں مبتلا ہوگئے اور سرکشی اور بد افعالی انتہا کو پہنچ گئی تو ان پر قومِ جالوت مسلّط کردی گئی جس کو عَمالِقہ کہتے ہیں۔جالوت ایک نہایت جابر بادشاہ تھا، اس کی قوم کے لوگ مصراور فلسطین کے درمیان بحر روم کے ساحل پر رہتے تھے ،انہوں نے بنی اسرائیل کے شہر چھین لیے ، ان کے لوگ گرفتار کرلئے اوران پر طرح طرح کی سختیاں کیں۔ اس زمانہ میں بنی اسرائیل میں کوئی نبی موجود نہ تھے، خاندانِ نبوت میں صرف ایک بی بی باقی رہی تھیں جو حاملہ تھیں ،ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جن کا نام شمویل رکھاگیا، جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں توریت کا علم حاصل کرنے کیلئے بیت المقدس میں ایک بزرگ عالم کے سپرد کیا گیا۔ وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ بڑی شفقت کرتے اور آپ کواپنا بیٹا کہتے۔ جب حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبلوغت کی عمر کو پہنچے تو ایک رات آپ اُس عالم کے قریب آرام فرما رہے تھے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اُسی عالم کی آواز میں ’’ یا شمویل‘‘ کہہ کر پکارا ، آپ عالم کے پاس گئے اور فرمایا کہ آپ نے مجھے پکارا ہے۔ عالم نے اس خیال سے کہ انکار کرنے سے کہیں آپ ڈر نہ جائیں یہ کہہ دیا کہ بیٹا! تم سوجاؤ ،پھر دوبارہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے اسی طرح پکارا اور حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عالم کے پاس گئے۔ عالم نے کہا کہ بیٹا! اب اگر میں تمہیں پھر پکاروں تو تم جواب نہ دینا۔ چنانچہ تیسری مرتبہ میں حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام ظاہر ہوگئے اور انہوں نے بشارت دی کہ اللہ  تعالیٰ نے آپ کو نبوت کا منصب عطا فرمایا ہے، لہٰذا آپ اپنی قوم کی طرف جائیے اور اپنے رب تعالیٰ کے احکام پہنچائیے۔ جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قوم کی طرف تشریف لائے توانہوں نےآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نبی ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اتنی جلدی کیسے نبی بن گئے ،اچھا اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں تو ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کریں۔  (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۶، ۱ / ۱۸۶)

 جب قوم کی اعتقادی اور عملی حالت خراب ہو تو کیا ہوتا ہے؟

            اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب قوم کی اعتقادی اور عملی حالت خراب ہوجاتی ہے تو ان پر ظالم و جابر قوموں کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ اس آیت کو سامنے رکھ کر پوری دنیا کے مسلم ممالک کی اعتقادی و عملی حالت کو دیکھا جائے تو اوپر کا نقشہ بڑا واضح طور پر نظر آئے گا۔قرآن کے اس طرح کے واقعات بیان کرنے کا مقصد صرف تاریخی واقعات بتانا نہیں بلکہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی طرف لانا ہے۔

{اِبْعَثْ لَنَا مَلِكًا: ہمارے لئے بادشاہ مقرر کردیجئے۔}  جب بنی اسرائیل نے حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ ہمارے لئے بادشاہ مقرر کردیجئے تاکہ ہم راہِ خدا میں جہاد کریں تو حضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر بادشاہ مقرر کیا جائے تو تم جہاد کرنے سے انکار کردو اور منہ پھیرو ۔ اس پر قوم نے جذبات میں آکر کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم جہاد سے منہ پھیریں جبکہ قومِ جالوت نے ہماری قوم کے لوگوں کو ان کے وطن سے نکالا ہے، ان کی اولاد کو قتل کیا ہے، ان کی نسلوں کو تباہ کیا ہے۔ یہ سن کرحضرت شمویل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی اور اللہ  تعالیٰ نے ان کی درخواست قبول فرماتے ہوئے ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیا اور انہیں جہاد کا حکم دیا لیکن بعد میں وہی ہوا جس کا اندیشہ اللہ  تعالیٰ کے نبی نے ظاہر فرمایا تھا یعنی بنی اسرائیل کی ایک بہت معمولی تعداد یعنی اہلِ بدر کے برابر صرف تین سو تیرہ افراد جہاد کیلئے تیار رہے اور بقیہ سب نے منہ پھیر لیا۔  (جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ:  ۲۴۶، ۱ / ۳۰۱-۳۰۲)

 بزدل قوموں کا وطیرہ:

            یاد رکھیں کہ نعرے مارنے میں آگے آگے ہونا اور عملی میدان میں پیٹھ دکھا دینا بزدل قوموں کا وطیرہ ہے اور کامل لوگ گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی ہوتے ہیں۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links