Home Al-Quran Surah Al Baqarah Ayat 213 Urdu Translation Tafseer

رکوعاتہا 40
سورۃ ﷅ
اٰیاتہا 286

Tarteeb e Nuzool:(87) Tarteeb e Tilawat:(2) Mushtamil e Para:(1-2-3) Total Aayaat:(286)
Total Ruku:(40) Total Words:(6958) Total Letters:(25902)
213

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً- فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۪-وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِؕ-وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْۚ-فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖؕ-وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۱۳)
ترجمہ: کنزالایمان
لوگ ایک دین پر تھے پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے اور ڈر سناتے اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف انہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے آپس کی سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے


تفسیر: ‎صراط الجنان

{كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً:تمام لوگ ایک دین پر تھے۔} حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے عہد تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے، پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمایا ،یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۱۳، ۱ / ۱۵۰)

            رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سلسلہ شروع ہوا ۔ نیز لوگوں کی ہدایت کیلئے بہت سے انبیاء اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتابیں اور صحیفے عطا کئے گئے جیسے حضرت آدم ،حضرت شیث اور حضرت ادریس عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر صحیفے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر توریت ،حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر زبور، حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر انجیل اور خاتَم الانبیاء محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر قرآن نازل فرمایا۔انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ہدایات آجانے کے بعد بھی لوگوں نے اختلاف کیا جیسے یہودونصاریٰ نے اپنی کتابوں میں اختلاف کیا اور آپس کے حسد کی وجہ سے کتاب اللہ کو بھی مشقِ ستم بنانے سے باز نہ آئے۔یہاں تک کہ اللہ  تعالیٰ نے مسلمانوں کو حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذریعے حق کی ہدایت فرمائی چنانچہ یہودو نصاریٰ کو جن باتوں میں اختلاف تھا ان میں جو حق تھا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ سمجھادیا۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links