DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Baqarah Ayat 20 Urdu Translation Tafseer

رکوعاتہا 40
سورۃ ﷅ
اٰیاتہا 286

Tarteeb e Nuzool:(87) Tarteeb e Tilawat:(2) Mushtamil e Para:(1-2-3) Total Aayaat:(286)
Total Ruku:(40) Total Words:(6958) Total Letters:(25902)
19-20

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۱۹)یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۲۰)
ترجمہ: کنزالایمان
یا جیسے آسمان سے اُترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اُچک لے جائے گی جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا بےشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے


تفسیر: ‎صراط الجنان

{اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ:یا جیسے آسمان سے بارش۔} ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری مثال بیان کی گئی ہے اور یہ ان منافقین کا حال ہے جو دل سے اسلام قبول کرنے اور نہ کرنے میں متردد رہتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جس طرح اندھیری رات اور بادل و بارش کی تاریکیوں میں مسافر متحیر ہوتا ہے، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں اور یہی مقام اپنے اور بیگانے ،مخلص اور منافق کے پہچان کا ہوتا ہے۔منافقوں کی اسی طرح کی حالت سورۂ نور آیت نمبر48اور49میں بھی بیان کی گئی ہے۔

{عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ : اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔}شے اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ  تعالیٰ چاہے اور جو مشیت یعنی چاہنے کے تحت آسکے۔ ہر ممکن چیز شے میں داخل ہے اور ہر شے اللہ  تعالیٰ کی قدرت میں ہے اورجو ممکن نہیں بلکہ واجب یامحال ہے اس سے اللہ  تعالیٰ کے ارادہ اور قدرت کا تعلق ہی نہیں ہوتا جیسے اللہ  تعالیٰ کی ذات و صفات واجب ہیں اس لیے قدرت کے تحت داخل نہیں مثلا یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ  تعالیٰ چاہے تو اپنا علم ختم کرکے بے علم ہوجائے یا معاذاللہ جھوٹ بولے۔ یاد رہے کہ ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت نہ آنا اس کی قدرت میں نقص و کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ان چیزوں کا نقص ہے کہ ان میں یہ صلاحیت نہیں کہ اللہ  تعالیٰ کی قدرت سے متعلق ہوسکیں۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links