Our new website is now live Visit us at https://alqurankarim.net/

Home Al-Quran Surah Al Baqarah Ayat 191 Urdu Translation Tafseer

رکوعاتہا 40
سورۃ ﷅ
اٰیاتہا 286

Tarteeb e Nuzool:(87) Tarteeb e Tilawat:(2) Mushtamil e Para:(1-2-3) Total Aayaat:(286)
Total Ruku:(40) Total Words:(6958) Total Letters:(25902)
191-192

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِۚ-وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِۚ-فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْؕ-كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ(191)فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(192)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور (دورانِ جہاد) کافروں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا اور فتنہ قتل سے زیادہ شدید ہوتا ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں اور اگر وہ تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو۔ کافروں کی یہی سزا ہے۔پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اقْتُلُوْهُمْ: اور انہیں قتل کرو۔} آیت مبارکہ میں اوپر بیان کئے گئے سِیاق و سِباق میں فرمایا گیا کہ چونکہ کافروں نے تمہیں مکہ مکرمہ سے بے دخل کیا تھا اور اب بھی تمہارے ساتھ آمادۂ قتال ہیں تو تمہیں دورانِ جہاد ان سے لڑنے ، انہیں قتل کرنے اور انہیں مکہ مکرمہ سے نکالنے کی اجازت ہے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول نہ کرنے والوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے قتل کا حکم ان کے جرم سے زیادہ بڑا نہیں کیونکہ وہ لوگ فتنہ برپا کرنے والے ہیں اور ان کا فتنہ شرک ہے یا مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکالنا(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ص۸۱)

            تو ان کا فتنہ ان کو قتل کرنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہاں یہ حکم نہیں دیا جارہا ہے کہ کافروں کو قتل کرنے میں لگے رہو، امن ہو یا جنگ، صلح ہو یا لڑائی ہر حال میں انہیں قتل کرو بلکہ یہاں صرف دورانِ جہاد قتل کرنے کا حکم ہے۔ بہت سے اسلام دشمن لوگ اس طرح کی آیات سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں کی مَکاریوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

{وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو۔} مسجد ِ حرام شریف کے ارد گرد کئی کلومیٹر کا علاقہ حرم کہلاتا ہے۔ حرم کی حدود میں مسلمانوں کو لڑنے سے منع کردیا گیاکیونکہ یہ حرم کی حرمت کے خلاف ہے لیکن اگر کفار ہی وہاں مسلمانوں سے جنگ کی ابتداء کریں تو انہیں جواب دینے کیلئے وہاں پر بھی ان سے لڑنے اور انہیں قتل کرنے کی اجازت ہے ۔البتہ اگر وہ کفر سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں معاف فرمادے گا کہ اسلام تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links