بیٹیوں کو صفائی ستھرائی کی تربیت دیں

بیٹیوں کو صفائی ستھرائی کی تربیت دیں


دینِ اسلام نے جہاں انسان کو کفر و شِرْک کی گندگی سے پاک کرکے عزّت و بلندی عطا کی وہیں ظاہر و باطن کی پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعے انسانیت کا وقار بلند کیا، بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی سُتھرائی، ظاہری شکل وصُورت کی خوبی ہو یا طور طریقے کی اچھائی،مکان اور ساز و سامان کی صفائی ہو یا سُواری کی دیکھ بھال  الغرض ہر چیز کو صاف ستھرا رکھنے کی دینِ اسلام میں تعلیم اور ترغیب دی گئی ہے۔

 رسولُ اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو ہمیشہ صفائی ستھرائی کا حکم دیتے اور اس کی تاکید فرماتے تھے، حدیث شریف میں ہے کہ اﷲتعالیٰ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔(ترمذی،4/365،حدیث:2808) ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے بدن، استعمال کی چیزیں، اپنے گھر اور اس کے اطراف  وغیرہ ہر ہر چیز کی پاکی اور صفائی ستھرائی کا ہر وقت دھیان رکھے۔

انسان کی اپنی ذات اور اس کے گرد و پیش کی صفائی ستھرائی، جسمانی و ذہنی تندرستی کی ضامن ہے۔ جب جسم توانا اور فکر صحت مند ہو، تو انسان دین اور دنیا کے تمام امور بہترین طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔ پاکیزگی نہ صرف عبادت میں حلاوت اور خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے، بلکہ ظاہر کی صفائی انسان کے باطن کو بھی جلا بخشتی ہے، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس نے اپنے باطن کی اصلاح کر لی تو اللہ پاک اس کے ظاہر کو درست کر دے گا۔(جامع صغیر، ص508، حدیث: 8339)

صفائی ستھرائی کو زندگی کا حصّہ بنانے کے لیے والدین (بالخصوص والدہ) کا بہت اہم کردار ہے، کیونکہ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں جیسا ان کو کرتا دیکھتے ہیں ویسا ہی خود بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ماں  میں  صفائی ستھرائی کی عادت ہوگی، وہ ہر چیز اپنی جگہ سے سلیقے کے ساتھ اٹھاتی اور رکھتی ہوگی، کچن کو صاف رکھتی ہوگی، گھر میں چیزیں بکھری ہوئی نہیں ہوں گی تو بیٹی دیکھ کر خود بخود سیکھنا شروع کردے گی کیونکہ مشاہدہ ہے کہ سننے کے مقابلے میں دیکھی جانے والی چیز کو دماغ جلدی قبول کرلیتا ہے۔بیٹی کے مزاج میں صفائی ستھرائی پیدا کروانے کے لیے ماں کا کردار بہت اہم ہے۔عمر کے لحاظ سے بتدریج بچیوں کو صفائی ستھرائی اور سلیقہ مندی کی پریکٹس کروائیں اور انہیں اس کا عادی بنائیں کہ وہ اپنے جسم، بال، کپڑوں، کمرے وغیرہ کو صاف ستھرا رکھنے کی عادی بن جائیں۔ اپنی روٹین اس طرح بھی بنائی جاسکتی ہے کہ گھر کے ہر کام کے لیے ٹائم ٹیبل بنالیں کہ کون سا کام کس دن کرنا ہے مثلاً:

*فرنیچر کی صفائی اور ڈسٹنگ کو اپنا روزانہ کا معمول بنائیں۔ اگرچہ روزانہ ڈیپ کلیننگ (Deep Cleaning) ممکن نہ ہو، پھر بھی ہلکی پھلکی صفائی کی عادت ضرور ڈالیں۔ کام کو آسان بنانے کے لیے ایک جدول (Schedule) بنا لیں، مثلاً یہ طے کر لیں کہ کس دن کس کمرے کی چھتیں صاف کرنی ہیں اور دیواروں کی صفائی کتنے عرصے بعد کرنی ہے۔ اس طرح صفائی کا نظام بھی بہتر رہے گا اور آپ پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

*کپڑے کس دن دھونے ہیں، اس دوران بیٹی کو پاس بیٹھا کر کپڑے دھونے کا طریقہ بھی سکھائیں کہ کون سا کپڑا کس طرح سے صاف ہوگا، ناپاک کپڑے کیسے پاک کرنے ہیں(اس کےمسائل جاننے کے لیے مکتبۃ المدینہ کا شائع کردہ رسالہ”کپڑے پاک کرنے کا طریقہ“ کا مطالعہ مفید ہوگا) کپڑے کتنی دیر تک دھوپ میں خشک کرنے ہیں، کچھ نمی رہ جائے تو صاف کپڑوں میں سے بھی بو آنے لگتی ہے اور ضرورت سے زیادہ دھوپ لگ جائے تو کپڑا خراب ہوتا ہے، اَلگنی(Clothesline)پر کئی کئی دن تک دھلے کپڑے نہ پڑے رہیں بلکہ خشک ہوجانے پر سمیٹ لیے جائیں اور پھر جنہیں استری کرنا ہو انہیں استری کرکے رکھنا اور باقی کپڑے تہہ کرکے ترتیب سے الماریوں کے اندر رکھنا، اسی طرح بکھری الماریوں کو ترتیب دینا۔ اس کے لیے بھی دن مختص کیا جائے۔

*اسی طرح فریج کے اندر کا سارا سامان نکال کر صاف کرنا، کچن کے کیبنٹ، مصالحوں کے ڈبے وغیرہ کی صفائی کرنا، اس کا دن بھی متعین کر دیں۔

اسی طرح گھر کے باقی مزید کاموں کی بھی تقسیم کاری ہو اور ہر روز کچھ نہ کچھ کام ایڈجسٹ ہو جائیں تو پورے ماہ گھر چمکتا رہے گا اور اس طرح تھوڑا تھوڑا کرنے سے بوجھ بھی نہیں پڑتا، زیادہ تھکان بھی نہیں ہوتی اور بہت سارے کام بھی ہو جاتے ہیں ۔ جب بیٹی کچھ بڑی ہونے لگے تو بیٹی کو بھی اس صفائی مہم میں شامل کریں اس طرح بیٹی بھی سیکھتی رہے گی۔

چھوٹی بچیوں کو کھلونوں کے ذریعے تربیت دینا اچھی تدبیر ہوسکتی ہے، بچیوں کو کچن والے کھلونے دیں، چھوٹے برتن میں پانی ڈال کر ان سے برتن دھلوائیں، خشک کروائیں ترتیب سے لگوائیں، ان برتنوں میں کھانا بنوائیں کہ کھانا بناتے وقت کس طرح صفائی رکھنی ہے، بچوں کے ذاتی کام ان کے اپنے ہاتھ سے کروائیں جیسا کہ اسکول جاتے وقت یونیفارم بدلنا، شوز پہننا، کاپیاں کتابیں بیگ میں چیک کرنا اپنی تیاری کا مکمل جائزہ لینا، (بچے اسکول میں بھی اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں ڈیسک وغیرہ صاف کرنے کے لیے ایکسٹرا کپڑا پاس ہو، شوز پر دھول لگ گئی اسے فوراً صاف کرنا وغیرہ) اسکول سے واپسی پر شوز، بیگ یونیفارم اپنی جگہ پر درست انداز سے رکھنا، آتے ہی لنچ باکس نکال کر دُھلنے کے لیے رکھنا، ہاتھ منہ اچھی طرح دھو کر کھانا کھانا، منظم انداز میں نفاست کے ساتھ کھانا، کھانے کے بعد ہاتھ منہ اچھی طرح صاف کرنا، نہانا وغیرہ ایسےہی پاکی ناپاکی کی احتیاطیں سکھانا۔ یاد رہے بچے کھیل کھیل میں بہتر انداز میں سیکھ پاتے ہیں اس کے برعکس زبردستی ڈانٹ ڈپٹ کر ان سے کچھ کروایا جائے یا سکھایا جائے تو بچہ وقتی طور پر تو وہ کام آپ کے خوف سے کرلے گا لیکن اپنے مزاج میں وہ کام شامل نہیں کرے گا۔ ایسے ہی اگر مائیں گھر کے کام کرتے وقت شور شرابا کرتی ہوں، برتن پٹختی ہوں کہ میں ہی سب کام کروں وغیرہ وغیرہ تو بیٹیوں کے دل میں بھی گھریلو کاموں سے بیزاری پیدا ہوگی، گھر کا کام بوجھ لگے گا۔ ایسا انداز رکھیں کہ گھر کا کام بوجھ نہ ہو،بلکہ شوق ہو۔ یاد رہے کہ ”ظاہری صفائی“ انسان کے وجود سے پتا چل جاتی ہے لیکن ”باطنی صفائی“ انسان کے کلام سے پتا چلتی ہے لہٰذا ”ظاہری صفائی“، اللہ پاک کے بندوں کے لیے، ”گھر کی صفائی“، مہمانوں کے لیے اور ”دل کی صفائی“ اللہ پاک کے لیے کی جائے۔

اگر آپ اپنی بیٹیوں کو دینی اخلاق و اقدار کے ساتھ پروان چڑھتا دیکھنا چاہتی ہیں تو اپنی بیٹیوں کو دارُالمدینہ اسلامک اسکول/ مدرسۃُ المدینہ/جامعۃُ المدینہ میں داخلہ دلوائیں جہاں ان کو دینی و دنیاوی امور کے ساتھ ساتھ اپنا جسم، لباس اور سامان وغیرہ صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن


Share

Articles

Comments


Security Code