- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 9
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ قَتَادَۃَ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَمَا اَنَّہ ‘لَیْسَ فِيْ النَّوْمِ تَفْرِیْطٌ اِنّمَا التَّفْرِیْطُ عَلَی مَنْ لَّمْ یُصَلِّ حَتَّی یَجِیْئَ وَقْتُ صَلوٰۃِ الْاُخْرٰی۔ رَوَاہٗ مُسْلِمٌ. (الصحیح لِمُسلم ۱/۴۷۳،اَلْسُّنَنْ لِبَیْھَقِیْ اَلْکُبْریٰ ۱/۳۷۶، السنن لابی داؤد ۱/۶۴ )
عن ابي قتادۃ قال :قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم اما انہ ‘لیس في النوم تفریط انما التفریط علی من لم یصل حتی یجیئ وقت صلوۃ الاخری۔ رواہ مسلم. (الصحیح لمسلم ۱/۴۷۳،السنن لبیھقی الکبری ۱/۳۷۶، السنن لابی داؤد ۱/۶۴ )
حدیث ترجمہ
سرور دوعالمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ سوجانے میں تفریط نہیں (1 )۔تفریط (یعنی جرم ) اس پر ہے جو نہ نماز پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ۔--------------------------------
(1 ).. حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعلیہ الرحمۃفرماتے ہیں ’’ اگر نماز کے وقت اتفاقا آنکھ نہ کھلے اور نماز قضا ہو جائے تو گناہ نہیں، گناہ تو اس میں ہے کہ انسان جاگتا رہے اور دانستہ نماز قضا کر دے خیال رہے کہ وقت پر آنکھ نہ کھلنا اگر اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو، گناہ ہے، جیسے رات کو بلا وجہ دیر سے سونا جس سے دن چڑھے آنکھ کھلے یقینا جرم ہے۔ (مراۃ المناجیح، ۱/۳۶۳)
شرح حدیث
یہ حدیث قولی اس امر پرنص قاطع(واضح حکم) ہے کہ جوشخص نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آجائے وہ مفرط ہے یعنی قصور کرنے والاہے ۔ معلوم ہوا کہ جو شخص ایک وقت میں دو نمازیں جمع کرے وہ مفرط ہے کیونکہ اس نے نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آگیا۔ پھر اس نے دونوں کو جمع کیا تو بموجب اس حدیث کے وہ مجرم ٹھہرا۔ اسی مضمون کی حدیث ابن عباسرضی اﷲ عنہماسے بھی آئی ہے جس کو امام طحاویرحمہ اﷲنے روایت کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی نماز اس وقت تک فوت نہیں ہوتی جب تک دوسری نماز کا وقت نہ آجائے ۔
اسی طرح حضرت ابو ہریرہرضی اﷲ عنہنے فرمایا کہ نماز میں کوتاہی کرنا یہ ہے کہ تم اس میں اتنی دیر کرو کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔یہ دونوں حدیثیں امام طحاویرحمہ اﷲنے روایت کی ہیں ۔آثار السنن میں دونوں کو صحیح لکھا ہے۔
قرآن شریف میںاﷲعَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:إِنَّ الصَّلوٰۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًاترجمۂ کنز الایمان:بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے ۔ (النساء/∞۱۰۳)
یعنی نہ وقت کے پہلے صحیح نہ وقت کے بعد تاخیر روا۔ بلکہ ہر نماز فرض ہے کہ اپنے وقت پر ادا ہو ۔ نیز آیت :حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوٰۃِ الْوُسْطیٰ ۔
ترجمۂ کنزالایمان: نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی۔(البقرۃ۲/∞۲۳۸)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر نماز کی محافظت کا حکم ہے ۔خصوصاً نماز وسطیٰ (1 )کا کہ کوئی نماز وقت سے اِدھر اُدھر نہ ہو۔ بیضاوی اور مدارک میں ایسا ہی لکھا ہے۔ اور آیت :وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَوَاتِھمْ یُحَافِظُوْنَ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔ (المومنون۱۸/∞۹) میں انہی لوگوں کو جنت کے سچے وارث فرمایا ہے جو نماز کو وقت سے بے وقت نہیں ہونے دیتے ۔حضرت سیدنا عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہآیت:فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِھِم خَلْفٌ اَضَاعُوْا الصَّلوٰۃَ ۔ترجمۂ کنزالایمان:تو اُن کے بعد اُنکی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں۔( مریم ، ۱۶/۵۹) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :أَخَّرُوْھَا عَنْ مَوَاقِیْتِھَا وَصَلَّوْھَا لِغَیْرِ وَقْتِھَایہ لوگ جن کی مذمت اس آیت میں ہے وہ ہیں جو نمازوں کو ان کے وقت سے ہٹاتے ہیں اور غیر وقت میں پڑھتے ہیں ۔عمدۃ القاری و معالم و بغوی ہم تیسری حدیث کے ضمن میں عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہکی متفق علیہ حدیث لکھ آئے ہیں جس میں عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو کبھی نہیں دیکھا کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز کے غیر وقت میں نماز پڑھی ہو ۔سوائے دو نمازوں کے کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے مغرب اور عشاء کو غیر وقت میں جمع کیا۔ اور فجر کو اس کے وقت سے پہلے پڑھا۔نسائی میں اس طرح آیا ہے کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنماز کو اس کے وقت میں پڑھا کرتے تھے مگر مُزدلفہ اور عرفات میں ۔ اس کی سند صحیح ہے ۔ معلوم ہوا کہ جن حدیثوں میںجَمَعَ بَیْنَ الصَّلٰوتَیْنِآیا ہے ان سے مراد جمع صوری(2 )ہے کہ صورتاً جمع ہیں اور حقیقتاً اپنے اپنے وقت میں ادا کی گئیں ۔ احادیث میں اس کی صراحت (وضاحت)بھی موجود ہے ۔امام محمدرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مؤطا میں لکھا ہے کہ حضرت سیدنا عمر فاروقرضی اﷲ عنہنے تمام آفاق(تمام شہروں ) میں فرمان نافذ فرمایا کہ کوئی شخص دو نمازیں جمع کرنے نہ پائے اور فرمایا کہ ایک وقت میں دو نمازیں جمع کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
الحاصل جمع دو قسم ہے ۔ جمع تقدیم ۔مثلاً ظہر کے ساتھ عصر یا مغرب کے ساتھ عشاء پڑھ لے ۔اس کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں ۔دوسری جمع تاخیر یعنی ظہر یا مغرب کو قصداً یہاں تک تاخیر کرنا کہ وقت نکل جائے پھر عصر یا عشاء کے وقت دونوں نمازوں کا پڑھنا۔ اس بارے میں جو احادیث آئی ہیں یا تو ان میں صراحتاً جمع صوری مذکور ہے یا مجمل ہے محتمل ۔جو اسی صریح مفصل پر محمول ہے ۔البتہ عرفہ میں جمع تقدیم اور مزدلفہ میں جمع تاخیر بوجہ نسک (قربانی)باتفاق امت جائز ہے اور کسی موقع پر جائز نہیں ۔وَالْبَسْطُ فِی کِتَابِنَا تَائِیْدُ الْاِمَامِ فَلْیَنْتَظِرْ ثَمَّہٗ( مزید وضاحت ہماری کتاب تائید الامام (جو حافظ ابو بکر بن شیبہ کی تالیف الرد علی ابی حنیفۃ کا محققانہ رد ) میں ہے چاہو تو وہاں دیکھ لو)۔--------------------------------
(1 )..درمیانی نماز ۔ صلوۃ وُسطیٰ کے بارے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ نماز فجر ہے ،ایک قول یہ ہے کہ نماز ظہر ہے ،ایک قول یہ ہے کہ عصر ، مغرب ،یا عشاء ،ایک قول یہ ہے کہ وتر ،ایک قول یہ ہے کہ تہجد ،ایک قول یہ ہے کہ چاشت و اشراق اور ایک قول یہ ہے کہ عیدین مُراد ہے ۔(ملخص از تفسیر روح المعانی ۲؍ ۱۵۶) ، مگر راجح قول نماز ِ عصر کے متعلق ہے ۔ جیسا کہ امام عبد الرزاق ، امام ابن ابی شیبہ، امام احمد ، امام بخاری، امام مسلم ،امام ابوداؤد ، امام ترمذی ، امام نسائی ، امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں۔حضرت علی المرتضی سے نمازِ وُسطیٰ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا ہم یہ خیال کرتے تھے کہ صلوۃ وُسطیٰ فجر کی نماز ہے ۔ حتی کہ میں نے جنگِ خندق کے موقع پر رسول کریم α صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا اُن(کفار)کیساتھ مشغول رہنے کی وجہ سے ہم صلوۃ وسطیٰ العصر نہیں پڑھ سکے ، αاﷲ تعالیٰاُن کی قبروں کو اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ (الصحیح مسلم ،کتاب المساجد ا/۲۲۶)۔ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک موقع پر صلوۃ وُسطیٰ سے متعلق فرماتے ہیں ۔
مولیٰ علی αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
(2 )..اس سے مراد یہ ہے کہ واقع میں ہر نماز اپنے وقت میں واقع ہو ،مگر ادا میں مل جائیں جیسے ظہر اپنے آخر وقت میں پڑھی کہ اس کے ختم پروقت عصر آگیا۔ اَب فوراً عصر اول وقت پڑھ لی۔ فتاویٰ رضویّہ جدید ، ۵/۱۶۰۔اَب یہ دونوں دیکھنے میں ایک ساتھ نظر آرہی ہیں ۔تو اس لئے اسے جمع صوری کہتے ہیں۔ حقیقت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ادا کی گئیں ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 9