- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 3
حدیث مبارکہ
عَنْ رَافِعِ بْنِ خُدَیْج قَالَ :سَمِعْتُ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ فَإِنَّہ‘ أَعْظَمُ لِلْأجْرِ ۔ رَوَاہٗ التِّرْمِذِیُّ وَ قَالَ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَ اَبُوْ دَاؤُدَ وَ الدَّارِمِیُّ. (جَامِعُ الْتِرْمِذِیِّ بَابُ مَا جَاءَ بِالْاِسْفَارِ بِالْفَجْرِ۱/۴۰ ‘ اَلْسُنَنْ لِاَبِیْ داؤدَ ۱/۶۱، اَلْدَّارَمِیُّ ۱/۳۰۰۔ )
عن رافع بن خدیج قال :سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول أسفروا بالفجر فإنہ‘ اعظم للأجر ۔ رواہ الترمذی و قال حسن صحیح و ابو داود و الدارمی. (جامع الترمذی باب ما جاء بالاسفار بالفجر۱/۴۰ ‘ السنن لابی داؤد ۱/۶۱، الدارمی ۱/۳۰۰۔ )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا رافع بن خدیجرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ سنا میں نے رسول کریم رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمفرماتے تھے کہ نماز فجر میں اسفار کرو یعنی روشنی میں ادا کرو۔کیونکہ اس کا روشنی میں ادا کرنااجر میں بہت بڑا ہے ۔
شرح حدیث
ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فجر کو اچھی روشنی میں پڑھنا بہت ثواب ہے ۔اور یہی مذہب امام اعظمرضی اﷲ عنہکا ہے ۔
شیخ عبد الحق محدّث دہلوی علیہ الرحمۃ’’اَشِعَۃُ اللَّمْعَاتِ‘‘ص ۰ ۳۲ میں فرماتے ہیں کہ اسفار کی حد ہمارے مذہب کے مشائخ سے اس طرح منقول ہے کہ چالیس آیت یا ساٹھ یا اس سے زیادہ سو آیت تک بطریق ترتیل قراءت(ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) پڑھ کرنماز ادا کرے ۔اگر بالفرض بعد فراغتِ نماز کوئی سہو اس کی طہارت میں ظاہر ہو یا کسی وجہ سے نماز کو دہرانا پڑے تو طلوع آفتاب سے پہلے پہلے اسی طرح قراء ت مسنون کے ساتھ اس کا اعادہ (لوٹانا) ممکن ہو ۔بخاری شریف میں حضرت سیدنا عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہسے ایک روایت آئی ہے جو اس حدیث کی تائید کرتی ہے ۔عَنْ عَبْدِ اﷲ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ مَا رَأَیْتُ الْنَّبِيَّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلّٰی صَلٰوۃً لِغَیْرِ مِیْقَاتِھَا إِلَّا صَلٰوتَیْنِ جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمعٍ وَصَلَّی الْفَجْرَ قَبْلَ مِیْقَاتِھَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِيْ وَمُسْلِمُ قَبْلَ وَقْتِھَا بِغَلْسٍ( 1)
حضرت سیدنا عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو کبھی نہیں دیکھا کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز کے غیر وقت میں نماز پڑھی ہو یعنی ہمیشہ حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنماز کو اس کے وقت میں ادا فرمایا کرتے تھے سوائے د و نمازوں کے کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں جمع کیا اور فجر کو اس کے وقت سے پہلے پڑھا۔ صحیح مسلم میں’’قَبْلَ وَقْتِہِ‘‘ کے آگے ’’بِغَلْسٍ‘‘کا لفظ بھی آیا ہے ۔یعنی نمازِفجر کو اس کے وقت سے پہلے غلس (2 ) میں پڑھا۔شارح صحیح مسلم امام نوویرحمۃُ اﷲ علیہاس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ وقت سے پہلے تو اجماعًا نماز جائز نہیں ۔تو اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے وقت معتاد(وہ وقت جس میں حضور عادۃً نماز فجر پڑھتے تھے۔ وقتِ مقررہ)سے پہلے پڑھی یعنی مزدلفہ میں فجر اندھیرے میں پڑھی۔ اگرچہ بعد طلوع فجر پڑھی لیکن اندھیرے میں فجر پڑھنا چونکہ آپصلّی اﷲعلیہ واٰلہٖ وسلّمکی عادت نہ تھی اس لئے اس روز آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نمازِ فجر روز مرّہ کے وقت معتاد سے پہلے پڑھی۔ بخاری و مسلم کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روزمرہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی عادت مبارکہ فجر نماز میں اسفار کرنا تھا۔ بعض نے اسفار کا معنی ظہور فجر کیا ہے او ر یہ باطل ہے اس لئے کہ قبل ظہور تو نماز فجر جائز ہی نہیں ۔تو ثابت ہوا کہ اسفار سے مراد تنویر ہے یعنی خوب روشنی کرنا اور غلس کے بعد ہے یعنی زوال ظلمت کے بعد اور حضورنبی کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکا ’’فإِنَّہ‘أعْظَمُ لِلْأَجْرِ‘‘ فرمانا اس بات پر دلیل ہے کہ نماز غلس میں بھی ہو جاتی ہے اور اس کا اجر ہے مگر اسفار میں زیادہ اجر ہے ۔تو اگر اسفار سے مراد وضو حِ فجر ہو تو اس سے پہلے تو نماز ہی جائز نہیں ۔ پھر وُضُوْحِ فجر میں زیادہ اجر کیسے ہوا؟
اس مضمون کی بہت حدیثیں آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی نماز اچھی روشنی میں پڑھنا مستحب ہے اور زیادہ اجر کا باعث ہے ۔سنن نسائی میں محمود بن لبید اپنی قوم کے چند انصار بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا ’’مَا أَسْفَرْتُمْ بِالصُّبْحِ فَإِنَّہ‘أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ‘‘کہ صبح کا جس قدر اسفار کروگے وہ اجر میں بڑا ہوگا ( 3) ۔ اس حدیث کو حافظ زیلعی نے صحیح کہا تو اس حدیث سے اسفار کے معنی بھی معلوم ہوگئے کہ خوب روشنی کرنا ہے اور مخالفین کی تاویلات کی بھی تردید ہوگئی ۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حضرت سیدنا بلالرضی اﷲ عنہکو فرمایا:
’’یَا بِلاَلُ نَوِّرْ بِصَلٰوۃِ الصُّبْحِ حتّٰی یَبْصُرَ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِھِمْ مِنَ الْاَسْفَارِ‘‘۔ترجمہ:اے بلالرضی اﷲ عنہ!صبح کی نماز میں اتنی روشنی کیا کرو کہ لوگ اسفار کی وجہ سے اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ لیا کریں۔ اس حدیث کو ابوداؤد و طیالسی اور ابن ابی شیبہ واسحٰق بن راہو یہ و طبرانی نے معجم میں روایت کیا۔ (صحیح بہاری جلد ۲ ص ۲۵۶) آثار السنن میں اس کی سند کو حسن کہا ہے ۔اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ فجر میں اسفار مستحب ہے ۔تیروں کے گرنے کی جگہ اسی وقت نظر آسکتی ہے جب کہ اچھی روشنی ہو ۔ ایک حدیث میں آیا ہے ۔’’مَنْ نَوَّرَ الْفَجْرَ نَوَّرَ اﷲ فِیْ قَبْرِہٖ وَقَلْبِہٖ وقُبِلَ صَلٰوتُہ‘رَوَاہٗ الدَّیْلِمِیْ‘‘رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا جو شخص فجر کو روشنی میں پڑھےاﷲ تعالیٰاس کی قبر اور اس کے دل کو روشن کرتا ہے اور اس کی نماز مقبول ہوجاتی ہے (صحیح بہاری )۔ (4 )
ایک شبہ ۔
بعض احادیث میں آیا ہے کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمفجر کی نماز غلس یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ عورتیں نماز فجر میں حاضر ہوتی تھیں ۔جب فارغ ہو کر گھروں میں جاتی تھیں تو بسبب اندھیرے کے پہچانی نہیں جاتی تھیں ۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اندھیرا مسجد کے اندرونی حصہ میں ہوتا تھا نہ یہ کہ صحن میں بھی اندھیرا ہوتا تھا۔ اسفار کے وقت بھی مسجد کے اندرونی حصہ میں اندھیرا ہوا کرتا ہے ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اتنا زیادہ اسفار نہ کرتے تھے کہ آفتاب کا طلوع قریب ہو جائے ۔کیونکہ حدیث میں آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکا اسفار میں نماز فجر پڑھنا ثابت ہے۔چنانچہ حضرت سیدنا بیانرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ میں نے حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہسے عرض کیا کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی نماز کے اوقات بیان فرمائیے تو انہوں نے کہا کہ ظہر کی نماز زوال آفتاب کے بعد اور عصر کی نماز تمہارے ظہر و عصر کے درمیان پڑھا کرتے تھے ۔اور مغرب کی نماز غروب آفتا ب کے وقت اور عشاء کی نماز غروب شفق(5 )کے وقت ’’وَ یُصَلِّي الْغَدَاۃَ عِنْدَ طُلُوْعِ الْفَجْرِ حِیْنَ یَفْسَحُ الْبَصَرُ‘‘اور فجر کی نماز طلوع صبح کے بعد پڑھتے تھے جب کہ نگاہ کھلنے لگے یعنی دور دور کی چیزیں نظر آنے لگیں ۔اس حدیث کو ابو یعلیٰ نے روایت کیا ۔ اس کی سند حسن ہے (مجمع الزوائد)۔اسی طرح ایک دوسری حدیث میں حضرت بیانرضی اﷲ عنہہی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہاسَمِعْتُ أَنَسًا یَقُوْلُ کَانَ رسول صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یُصَلِّي الْصُّبْحَ حِیْنَ یَفْسَحُ الْبَصَرُ رَوَاہُ الْاِمَامُ اَبُو مُحَمَّدِنِ الْقَاسِمِ بْنِ ثَابِتِ السَّرْخَسِیْ فِیْ کِتَابٍ غَرِیْبِ الْحَدِیْثِ۔ (6 )
ترجمہ:حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمایسے وقت میں نماز پڑھتے تھے کہ نگاہ دور تک پہنچ سکے ۔(ف)ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنماز صبح اسفار میں پڑھتے تھے ۔
طبرانی میں مجاہد سے راویت ہے وہ قیس بن سائبرضی اﷲ عنہسے روایت کرتے ہیں :کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یُصَلِّیْ الْفَجْرَ حَتّٰی یَتَغَشَّی النُّوْرُ السَّمَاءَ۔ ( 7)
قیس کہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّماس وقت فجر پڑھتے تھے جبکہ آسمان میں روشنی پھیل جاتی تھی۔ اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ فجر کی نماز حضورعلیہِ السّلاماسفار میں پڑھتے تھے ۔پس یا تو احادیث فعلیہ( 8) میں تطبیق(مطابقت ، دو متعارض رواتیوںمیں مطابقت) کی جائیگی کہ اندھیرے سے مراد اندرونی حصہِ مسجد کا اندھیرا ہے یا یہ کہ اسفار اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا کہ آفتاب کا نکلنا قریب ہو جائےکمامر۔ یا غلس میں نماز پڑھنا بیان جواز کے لئے تھا یا احادیث فعلیہ میں بسبب متعارض ہونے کے کسی فریق کے لئے حجت نہ رہی اور احادیث قولیہ (9 ) بلا معارض باقی رہیں۔ تو لامحالہ احادیث قولیہ پر عمل ہوگا۔ علاوہ اس کے قول اور فعل میں جب تعارض ہو تو قول مقدم ہوتا ہے ۔کَذَا قَالَ الشَّیْخُ عَبْدُ الْحَقُّ فِي اَشِعَۃِ الَّمْعَاتِتو اس مسئلہ میں بھی احادیث قولیہ’’اَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ‘‘اور ’’نَوِّرْ یَا بِلاَلُ‘‘حدیث عکس پر جوکہ فعلی ہے مقدم ہوں گی۔
حضرات ِصحابہ کرامرضی اﷲ عنہم:
علاوہ اس کے صحابہ کرامرضی اﷲ عنہمسے بھی اسفار ثابت ہے ۔ چنانچہ امام طحاوی نے بسند ِصحیح ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے ۔انہوں نے کہامَا اجْتَمَعَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلیٰ شَیْئٍ مَّا اجْتَمَعُوْا عَلَی الْتَّنْوِیْرِیعنیرسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے اصحاب کسی بات پر اس قدر متفق نہ ہوئے جس قدر اسفار فجر پر متفق ہوئے (10 )۔
حضرت سیدنا ابو بکر صدیقرضی اﷲ عنہ:
حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہسے روایت ہے :قَالَ صَلّٰی بِنَا أَبُوْبَکْرٍ صَلوٰۃَ الْصُّبْحِ فَقَرَأَ اٰلَ عِمْرَانَ فَقَالُوْا کَادَتِ الْشَّمْسُ تَطْلَعُ قَالَ لَوْ طَلَعَتْ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِیْنَ رَوَاہُ الْبَیْھَقِيْ فِي السُّنَنِ الْکُبْرٰی( 11)۔ صحیح بہاری ص۲۵۶۔حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہکہتے ہیں سیدنا ابو بکر صدیقرضی اﷲ عنہنے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی تو سورہ آل عمران پڑھی لوگوں نے (بعد فراغتِ نماز)کہا کہ آفتاب نکلنے کے قریب ہے ۔ آپرضی اﷲ عنہنے فرمایا اگر آفتاب نکل آتا تو ہمیں غافل نہ پاتا یعنی ہمیں نماز میں دیکھتا ۔اس حدیث کو بيہقی نے سنن کبریٰ میں روایت کیا ہے ۔ معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیقرضی اﷲ عنہنماز ِفجر اسفار میں پڑھا کرتے تھے ۔
حضرت سیدنا عمر فاروقرضی اﷲ عنہ:عَنْ اَبِي عُثْمَانَ النَّھْدِي قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ صَلٰوۃَ الْفَجْرِ فَمَا سَلَّمَ حَتّٰی ظَنَّ الرِّجَالُ ذَوُو الْعَقُوْلِ أنَّ الْشَّمْسَ طَلَعَتْ فَلَمْ یُسَلِّمْ قَالُوْ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یَاأَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ کَادَتِ الْشَّمْسُ تَطْلَعُ قَالَ فَتَکَلَّمَ بِشَیْئٍ لَمْ اَفْھَمْہُفَقُلْتُ أَیَّ شَیْئٍ قَالَ فَقَالُوْا لَوْ طَلَعَتِ الْشَّمسُ لَمْ تَجِدْنَا غَافِلِیْنَ۔ رَوَاہُ الْبَیْھَقِي فِي السُّنَنِ الْکُبْرٰی۔ (12 )حضرت ابو عثمان نہدیرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا عمررضی اﷲ عنہکے پیچھے نماز فجر پڑھی آپ نے سلام نہ پھیرا یہاں تک کہ عقلمند لوگوں نے ظن(گمان) کیا کہ آفتاب طلوع ہو گیا اور آپ نے سلام نہ پھیرا ۔ لوگوں نے (بعد فراغت نماز ) عرض کی کہ اے امیر المومنینرضی اﷲ عنہآفتاب نکلنے کے قریب ہے ۔ حضرت ابو عثمانرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمررضی اﷲ عنہنے کچھ کلام کیا جو میں نہیں سمجھا تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آپرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ اگر آفتاب نکل آتا تو ہمیں غافل نہ پاتا۔ اس کو بیہقی نے سنن کبریٰ میں روایت کیا۔ صحیح بہاری
(ف):معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا عمررضی اﷲ عنہبھی اسفار میں نماز فجر پڑھا کرتے تھے ۔
حضرت سیدنا علی المرتضیرضی اﷲ عنہ:عَنْ یَزِیْدِ الْاَوْدِيْ قَالَ کَانَ عَلِيُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ یُصَلِّيْ بِنَا الْفَجْرَ وَنَحْنُ نَتْرَاءُ الْشَّمْسَ مَخَافَۃَ اَنْ تَکُوْنَ قَدْ طَلَعَتْ رَوَاہُ الطَّحَاوِيْ(13 )۔یزید الاودی کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا علیرضی اﷲ عنہہمیں فجر کی نماز پڑھایا کرتے تھے اور ہم آفتاب کو دیکھتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں نکل نہ آیا ہو۔ معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا علیرضی اﷲ عنہبھی اچھی روشنی میں فجر پڑھا یا کرتے تھے۔عبدالرزاق ابن ابی شیبہ و طحاوی نے بسند صحیح روایت کیاہے کہ حضرت علیرضی اﷲ عنہاپنے مؤذن کو فرماتے تھےاَسْفِرْ اَسْفِرْ یَعْنِيْ بِصَلٰوۃِ الصُّبْحِ ۔کہ اسفار کرو اسفار کرو صبح کی نماز میں ۔ (14 )
حضرت سیدنا عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہ:
امام طحاوی عبد الرحمان بن یزید سے روایت کرتے ہیں ۔قَالَ کُنَّا نُصَلِّيْ مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فَکَانَ یُسْفِرُ بِصَلٰوۃِ الْصُّبْحِ۔ (15 )
عبدالرحمان کہتے ہیں کہ ہم ابن مسعودرضی اﷲ عنہکے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔ وہ نماز صبح میں اسفار کیا کرتے تھے۔طبرانی نے کبیر میں اس طرح روایت کیا ہے ۔کَانَ عَبدُ اﷲ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُسْفِرُ بِصَلٰوۃِ الْفَجْرِمجمع الزوائد میں اس کے سب راوی ثقہ لکھے ہیں۔ ( 16)
الحاصل مذہب امام اعظم کا کہ فجر میں اسفار مستحب ہے نہایت قوی ہے ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلویاشعۃ اللّمعاتمیں فرماتے ہیں کہ فجر کی تاخیر اخیر وقت تک اجماعًا بلا کراہت مباح ہے اور تقلیل جماعت بھی مکرو ہ۔ اور لوگوں کو مشقت میں ڈالنا بھی مکروہ یعنی غلس میں فجر پڑھنا ایک تو تقلیلِ جماعت کا باعث ہے جو مکروہ ہے او ر دوسرا لوگوں کو مشقت میں ڈالنا ہے اور وہ بھی مکروہ ہے ۔جیسے حضرت سیدنا معاویہرضی اﷲ عنہکو رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے طویل قرأت سے منع فرمایا ۔ اور اسفار میں نماز پڑھنا باعث کثرت جماعت اور آسانی ہے ۔ علاوہ اس کے فجر کی نماز کے بعد اسی جگہ آفتاب نکلنے تک بیٹھے رہنا مستحب ہے جو اسفار میں آسان ہے لیکن غلس میں آسان نہیں ۔وا ﷲ تعالیٰ اعلم۔--------------------------------
(1 )..صحیح البخاری۱/۲۲۸
(2 )..آخیر رات کی تاریکی کو کہتے ہیں(یعنی فجر کا ابتدائی وقت) نزہۃ القاری۱/۷۶۔
(3 )..النسائی کتاب الصلوۃ ۱ / ۶۵۔
(4 )..خلفیہ ٔ امام احمد رضا ، علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ αاﷲتعالیٰ علیہ کی تالیف ۔
(5 )..شفق اس روشنی کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے بعد آسمان کے غربی کنارے پر ظاہر ہوتی ہے اور یہ دو طرح کی ہے سرخ اور سفید پہلے سرخ آتی ہے پھر سفید جب سفید غروب ہوجائے تو نماز عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے ۔
(6 )..الدرایۃ فی تخریج الاحادیث۱/۱۰۶۔
(7 )..مجمع الزوائد ۱/۳۰۵‘۔
(8 )..ایسی احادیث کہ جس میں حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کسی کام کے کرنے کا ذکر ہو ،
(9 )..وہ احادیث کہ جس میں حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے کچھ فرمایا ہو۔
(10 )..شرح معانی الاثار باب وقت الفجر۱/۱۰۹۔
(11 )..السنن الکبری للبیھقی ۱/۳۷۹۔
(12 )..(۱)السنن الکبری للبیھقی ۱/۳۷۹۔
(13 )..شرح معانی الاثار للطحاوی ۱/۱۰۴ ۔
(14 )..مصنف عبدالرزاق ۱/۴۱۹، شرح معانی الاثار للطحاوی ۱/۲۳۲ ۔
(15 )..شرح معانی الاثار للطحاوی ۱/۲۳۵۔
(16 )..مجمع الزوائد کتاب الصلوٰۃ ۲/۶۵۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 3