Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 2

حدیث مبارکہ

عَنْ مَعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أنَّ رَسُوْلَ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَہٗ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآءٌ ؟ قَالَ أَقْضِيْ بِکِتَابِ اﷲ ِ قَالَ فَإنْ لَّمْ تَجِدْ فِيْ کِتَابِ اﷲ ِ ؟قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإنْ لَّم تَجِدْ فِيْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَھِدُ رَأیِيْ وَلا اٰلُوْا قَالَ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ صَدْرِہٖ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲ ِ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اﷲ ِ ۔رَوَاہُ الْتِّرْمِذِیُ وَ أَبُوْ دَاؤُدَ وَالْدَّارَمِيُّ ..(جَامِعُ الْتِرْمِذِیْ ۳/۶۱۶‘ سُنَنِ اَبِیْ دَاؤد ۳/۳۰۳‘ الدارمی ۱/۷۲‘ )

عن معاذ بن جبل أن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لما بعثہ إلی الیمن قال کیف تقضي إذا عرض لک قضآء ؟ قال أقضي بکتاب اﷲ قال فإن لم تجد في کتاب اﷲ ؟قال فبسنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فإن لم تجد في سنۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال أجتھد رأیي ولا الوا قال فضرب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم في صدرہ قال الحمد للہ الذي وفق رسول رسول اﷲ لما یرضی بہ رسول اﷲ ۔رواہ الترمذی و أبو داؤد والدارمي ..(جامع الترمذی ۳/۶۱۶‘ سنن ابی داؤد ۳/۳۰۳‘ الدارمی ۱/۷۲‘ )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا معاذ بن جبلرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ جب ان کورسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہنے عرض کیا کہ میںاﷲ عزوجلکی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا اگراﷲ عزوجلکی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا اگر تو رسولعلیہِ السّلامکی سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا ؟ انہوں نے عرض کی کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔ حضرت سیّدنا معاذرضی اﷲ عنہکہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایاالحمد ﷲ عزوجلکہاﷲ تعالیٰنے اپنے رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے ساتھاﷲ تعالیٰ عزوجلکا رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمراضی ہے۔

شرح حدیث

۱۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ استخراج احکام میں قرآن مقدم ہے پھر حدیث ۔
۲۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کو کھینچ تان کر حدیث کے تابع نہیں کرنا چاہیئے بلکہ حدیث کو قرآن کے تابع کرنا چاہیئے ۔چنانچہ مسئلہ فاتحہ خلف الامام میں جوکہ مقلدین (ائمہ شریعت کے پیروکار) اور غیرمقلدین(تقلید کا انکار کرنے والے) کا متنازعہ فیہ (باہمی جھگڑا)مسئلہ ہے اس میں پہلے قرآن دیکھنا چاہیئے ۔
اﷲ تعالیٰ عزوجلقرآن شریف میں فرماتا ہے:وَ إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَأَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ o
ترجمۂ کنز الایمان
:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُسے کان لگاکر سُنو اور
خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔(اعراف ۹/ ۲۰۴)
اور حدیث (1 )میں آیا ہے اس کی نماز نہیں جو الحمد نہ پڑھے۔ اب ہمیں حدیث کو تابع قرآن سمجھنا چاہیئے کہ یہ حدیث امام اور منفرد کے لئے ہے مقتدی کیلئے نہیں ۔اس طرح آیت اور حدیث میں تطبیق بھی ہوگئی اور مطلب بھی صاف ہوگیا ۔ لیکن اگر ہم آیت کو کھینچ تان کر یہ مطلب لیں کہ یہ آیت کافروں کے بارے میں ہے حالانکہ کسی حدیث میں اس کا نزول کفار کے بارے میں نہیں آیا ۔یا یہ کہیں کہ قرآن سے مراد آیت میں الحمد کے آگے سورت ہے ۔ یا یہ کہیں کہ استماع (کان لگا کر سننا)و انصات(خاموش رہنا)کے یہ معنی ہیں کہ اونچی نہ پڑھو وغیرہ وغیرہ ۔تو اس صورت میں قرآن کو حدیث کے تابع کرنا ہے ۔ جو حدیث مذکور کے خلاف ہے۔
آمین بالجہر (اونچی آواز سے آمین کہنا):
۳۔ اسی طرح مسئلہ آمین بالجہر میں ہم پہلے قرآن کو دیکھتے ہیں ۔
اﷲ تعالیٰفرماتا ہے :اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً۔ (الاعراف۸؍∞۵۵)ترجمۂ کنز الایمان: اپنے رب سے دُعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ ۔
اور ظاہر ہے کہ آمین دعا ہے ۔اصل دعا میں اخفا (آوازپست یعنی ہلکی کرنا)ہے ۔تو اس آیت کو مقدّم سمجھ کر اصل آمین میں اخفاسمجھنا چاہیئے ۔اور اگر کسی حدیث میں رسول کریم
صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکا آمین کہنا ذرا آواز کھینچ کر بھی آیا ہو تو اسے تعلیم پر حمل کرنا چاہیئے ۔نہ یہ کہ حدیث کو تو کچھ نہ کیا جائے اور آیت کا کوئی او ر مطلب گھڑا جائے۔
تقلید : ( 2)
۴۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تقلید صحابہ
رضی اﷲعنہمکے زمانے میں پائی جاتی تھی بلکہرسول اﷲصلّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے تقلید کا ارشاد فرمایا کیونکہ حدیث میں جب کسی مسئلہ کا قرآن و حدیث سے فیصلہ نہ ہوتوحضرت سیدنامعاذ بن جبلرضی اﷲعنہنے اپنے اجتہاد اور رائے کے ساتھ فیصلہ کرنا کہا اور حضورصلّی اﷲعلیہ واٰلہٖ وسلّمنے پسند فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲعنہاجتہاد سے فیصلہ کریں اور دوسرے مسلمان اس فیصلہ کو تسلیم کریں ۔کیونکہ حضرت معاذرضی اﷲعنہکو حضورصلّی اﷲعلیہ واٰلہٖ وسلّمنے قاضی بنا کر بھیجا۔ تو اگر لوگ ان کے فیصلہ کو قبول نہ کریں تو وہ قاضی کیسے ہوئے ؟ او ر کسی کے اجتہاد کو بلا معرفت دلیل قبول کرنا بھی تقلید ہے ۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سرور عالمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حضرت سیدنا معاذرضی اﷲعنہکو یہ نہیں فرمایا کہ اگرکوئی مسئلہ قرآن یا حدیث سے نہ ملے تو مجھ سے دریافت کرلینا، کسی کو بھیج کر مجھ سے فیصلہ دریافت کرلینا ۔ بلکہ ان کے اجتہاد کو پسند فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ مجتہد، اگرقرآن و حدیث میں صریح (واضح طور پر)مسئلہ نہ پائے تو اجتہاد اور قیاس سے جو حکم کرے اس کا حکم ماننا غیر مجتہد پر لازم ہے اور یہی تقلید ہے جو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے زمانہ میں آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی اجازت سے لوگ کیا کرتے تھے ۔
شیخ عبدالحق
علیہ الرحمۃاشعۃ اللمعات میں اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔ دریں حدیث دلیل است برشریعت قیاس و اجتہاد بر خلاف اصحاب ظواہر کہ منکر قیاس اند (ترجمہ: قیاس اور اجتہاد کے شرعی ہونے پر اس حدیث میں دلیل ہے برخلاف اہل ظواہر کے کہ وہ قیاس کا انکار کرتے ہیں)۔
ایک شبہ :
بعض لوگ شبہ کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ
رضی اﷲ عنہکی حدیث صحیح نہیں۔علاّمہ ابن القیّم اعلام الموقعین ص ۷۳ میں اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث کوسب اہل علم نے نقل کیا ہے اور اس کے ساتھ حجت پکڑی ہے ۔ نیز اس کی ایک سند متصل بھی ہے جس کے رجال(راوی) مؤثق(قابل اعتماد) ہیں ۔ پھر بحوالہ خطیب نقل کرتے ہیں :قَالَ اَبُوْ بَکْرِ الْخَطِیْبُ وَ قَدْ قِیْلَ اَنَّ عِبَادَۃَ بْنِ نَسی رَوَاہٗ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنَمِ بْنِ مُعَاذٍ وَ ھٰذَا اِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ وَ رِجَالُہٗ مَعْرُوْفُوْنَ بِالثِّقَۃِ ۔اِنْتَھٰی۔(3 )--------------------------
(1 )..الصحیح لمسلم ۱/۱۶۹‘ ۔
(2 )..لغوی معنی ہیں کہ گلے میں ہار یا پٹہ ڈالنا اور اصطلاح میں کسی کے قول و فعل کو لازم جاننا یعنی اس کی پیروی کرنا۔تقلید کی بحث جاء الحق میں ص ۲۳ پر ملاحظہ فرمائیں۔
(3 )..ترجمہ:ابو بکر خطیب نے کہا ’’اور کہا گیا ہے کہ عبادہ بن نسی نے عبد الرحمن بن غنم بن معاذ سے اس حدیث کو روایت کیا اور اس کی اسناد متصل ہیں اور اس کے رجال معروف بالثقہ ہیں‘‘ ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 2