Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 19

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَأَبَابَکْرٍ وَ عُمَرَ کَانُوْا یَفْتَتِحُوْنَ الصَّلوٰۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ رَوَاہٗ الشَّیْخَانِ ( صحیح البخاری،کتاب الاذان ۱/۱۰۳،الصحیح لمسلم۱/۱۷۲)

عن أنس أن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم وأبابکر و عمر کانوا یفتتحون الصلوۃ بالحمد للہ رب العلمین۔ رواہ الشیخان ( صحیح البخاری،کتاب الاذان ۱/۱۰۳،الصحیح لمسلم۱/۱۷۲)

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّماور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمربن خطابرضی اﷲ عنہمانمازاَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَکے ساتھ شروع کرتے تھے۔

شرح حدیث

اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہبسم اﷲنہیں پڑھتے تھے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہبِسْمِ اﷲ بالجہرنہیں پڑھتے تھے۔ چنانچہ صحیح مسلم کی دوسری روایت(1) میں اس کی تشریح ہے ۔کہا اَنَسرضی اﷲ عنہنےفَلَمْ اَسْمَعْ اَحَدًا مِّنْھُمْ یَقْرَءُ بِسْمِ اﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِیعنی میں نے کسی کو نہیں سنا کہ وہبِسْمِ اﷲپڑھتا ہو ۔پھر دوسری حدیث میں اس کی صاف تصریح ہے۔جس کو نسائی(2) نے روایت کیا۔فَلَمْ اَسْمَعْ اَحَدًا مِّنْھُمْ یَجْھَرُ بِسْمِ اﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِکہ میں نے ان میں سے کسی کو نہیں سنا کہبِسْمِ اﷲجہر سے پڑھتے ہوں ۔ تو معلوم ہوا کہبِسْمِ اﷲپڑھنے کی نفی نہیں ۔بلکہ اونچی پڑھنے کی نفی ہے۔
------------------------
∞(1).. ایضًا ۱/۱۷۲۔
(2)..النسائی ۱/۱۰۵۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 19