Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَاَبْرِدُوْا بِالصَّلٰوۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ. (صحیح البخاری ۱/ ۱۹۸، الصحیح لمسلم ۱/۴۳۰۔ )

عن ابي ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال :قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اشتد الحر فابردوا بالصلوۃ فإن شدۃ الحر من فیح جھنم ۔ متفق علیہ. (صحیح البخاری ۱/ ۱۹۸، الصحیح لمسلم ۱/۴۳۰۔ )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ فرمایارسولا کرمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہوتی ہے ۔

شرح حدیث

اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا: ایک دوسری حدیث (1 ) میں تصریح ہے کہ ظہر کو ٹھنڈا کرو جس کو امام بخاری نے ابو سعید خدریرضی اﷲ عنہسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔معلوم ہوا کہ نماز کو گرمیوں میں ٹھنڈا کرکے پڑھنا مستحب ہے ۔
یہی مذہب امام ابو حنیفہ
علیہ الرحمۃو جمہو ر صحابہ کرامرضی اﷲ عنہمکا ہے ۔ رہی یہ بات کہ "اِبْرَاد"( ٹھنڈا کرنا ۔ یعنی گرمی کے جوش میں جب کچھ کمی آجائے تو اُس وقت ظہرادا کرنا) کی حد کیا ہے احادیث میں اس کی حد بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایک مثل کے بعد پڑھے ۔چنانچہ حدیث چہارم میں مفصل گزرا۔تو گرمیوں میں ظہر کو مثل سے پہلے پڑھنا اس حدیث کے خلاف ہے ۔نماز جمعہ کا بھی یہی حکم ہے کہ گرمیوں میں دیر سے اور سردیوں میں سویرے (جلدی) پڑھنا مستحب ہے۔---------------------------
(1 )..صحیح البخاری۳/۱۱۹۰،۱/۱۹۹۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 5