Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 22

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِیْنَ فَقُوْلُوْا آمِیْن فَاِنَّہٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ رَوَاہٗ الْبُخَارِیْ (صحیح البخاری کتاب التفسیر ۴/۱۶۲۳۔)

عن ابی ھریرۃ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم قال اذا قال الامام غیرالمغضوب علیھم ولاالضآلین فقولوا آمین فانہ من وافق قول الملئکۃ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔ رواہ البخاری (صحیح البخاری کتاب التفسیر ۴/۱۶۲۳۔)

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول کریم ، رؤف رّحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا جب امامغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْنَکہے تو تم آمین کہو ۔ کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ موافق ہوگئی اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے۔اس کو بخاری نے روایت کیا۔

شرح حدیث

اس روایت سے معلوم ہوا کہ آمین اخفا(پست آواز )کے ساتھ کہنی چاہیئے ۔کیونکہ اگروہ جہر(اُونچی آواز)ہوتی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنہ فرماتے جب امام ’’وَ لاَ الضَّآلِّیْنَ‘‘کہے تم آمین کہو بلکہ یوں فرماتے کہ جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو ۔اس کا جواب یہ ہے کہ جمہور محدثین نے ’’اِذَا اَمَّنَ‘‘کے معنی ’’اِذَا اَرَادَ التَّأمِیْنَ‘‘ کئے ہیں ۔ یعنی جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم آمین کہو ۔ اور وہ ارادہ’’وَلاَ الضَّآلِّیْنَ‘‘ ختم کرنا ہے ۔جمہور نے یہ معنی جمع بین الحدیثَین(دو حدیثوں کا جمع کرنا) کیلئے کئے ہیں ۔تو جب اس حدیث کے معنیإذا أراد التامینہوئے تو اس سے جہر آمین ثابت نہیں ہوتا۔ علاوہ اسکے ایک دوسری حدیث میں جس کوامام احمدنسائی دارمی( 1)نے روایت کیا ہے آیا ہےفَاِنَّ الْاِمَامَ یَقُوْلُ آمِیْنْکہ امام بھی آمین کہتا ہے ، اس سے بھی معلوم ہوا کہ آمین بالجہر نہ تھی۔ اگر جہر ہوتی تو امام کے فعل کے اظہار کی ضرورت نہ پڑتی۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مقتدی فاتحہ نہ پڑھے ۔کیونکہ اگرمقتدی پر فاتحہ لازم ہوتا تو آپ
صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمفرماتے جب تم’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْنَ‘‘پڑھو تو آمین کہو۔ بلکہ یوں فرمایا کہ جب اماموَلاَ الضَّآلِّیْنَکہے تو تم آمین کہو ۔ معلوم ہواکہ فاتحہ کاپڑھناامام پرہی لازم تھا۔دوسری حدیث میں اور بھی تصریح فرمادی کہاِذَا اَمَّنَ الْقَارِئ فَاَمِّنُوْا۔جب قراء ت پڑھنے والا آمین کا ارادہ کرے تو تم بھی آمین کہو ۔پس اگر مقتدی بھی قاری ہوتا توآپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمصرف امام کو قاری نہ فرماتے ۔
--------------
∞(1).. النسائی ۲/۱۴۳۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 22