- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 37
حدیث مبارکہ
عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ قَالَ إِنَّ رَجُلاً أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِیْ الْقِبْلَۃِ وَ رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یَنْظُرُ فَقَالَ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لِقَوْمِہٖ حِیْنَ فََرَغ لَا یُصَلِّیْ لَکُمْ فَأَرَادَ بَعْدَ ذٰلِکَ أَنْ یُصَلِّیَ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ فَأَخْبَرُوْہُ بِقُوْلِ رسول اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ ﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ نَعَمْ وَحَسِبْتُ أَنَّہ‘ قَالَ إِنَّکَ قَدْ اٰذَیتَ اﷲَ وَرَسُوْلَہ۔(المشکوٰۃ،۶۳)
عن السائب بن خلاد قال إن رجلا أم قوما فبصق فی القبلۃ و رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم ینظر فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم لقومہ حین فرغ لا یصلی لکم فأراد بعد ذلک أن یصلی لھم فمنعوہ فأخبروہ بقول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فذکر ذلک لرسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فقال نعم وحسبت أنہ‘ قال إنک قد اذیت اﷲ ورسولہ۔(المشکوۃ،۶۳)
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا سائب بن خلادرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک قوم کی اِمامت کی اور قبلہ کی طرف منہ کرکے تھوکا رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدیکھ رہے تھےحضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی قوم کو فرمایا جب وہ فارغ ہوا کہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے پھر جب وہ نماز پڑھانے لگا تو لوگوں نے اسے منع کیا اور رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی اسے خبر دی تو اس نے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ذکر کیا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہاں ( میں نے منع کیا ہے ) راوی کہتے ہیں میں گمان کرتا ہوں کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی فرمایا کہ تو نےاﷲ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایذا دی۔
شرح حدیث
دیکھو قبلہ شریف کی طرف منہ کرکے تھوکنے کے سبب حضورعَلَیْہِ السَّلامنے نماز کی امامت سے روک دیا۔ تو جو لوگ سر سے پاؤں تک بے ادب ہیں ان کے پیچھے نماز کیسے جائز ہے، پس وہابی مرزائی ،رافضی ،خارجی(۱)، اہل قرآن کسی کے پیچھے نماز پڑھنا دُرست نہیں ہے ۔
-----------------
∞(1).. یہ بھی گمراہ فرقہ ہے اس کے بارے میں منقول ہے کہ حضرت ابنِ عمر ص خارجیوں کو مخلوقِ خدا کا بدترین طبقہ تصور کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ آیات نکال لیتے ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہوئیں اور انہیں مومنوں پر چسپاں کرتے ہیں (صحیحالبخاری ۲/ ۱۰۲۴ αبَابُ قِتَالِ الْخَوَارِجِ وَ الْمُلْحِدِیْنَ
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 37