- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 36
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ، قَالَ رسول صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِجْعَلُوْا أَئِمَّتَکُمْ خِیَارَکُمْ فَإِنَّھُمْ وَفْدُکُمْ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ۔ رَوَاہٗ الدَّارقُطْنِیْ ( الدار قطنی ۱؍۱۹۷۔ )
عن ابن عباس قال ، قال رسول صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم إجعلوا ائمتکم خیارکم فإنھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم۔ رواہ الدارقطنی ( الدار قطنی ۱؍۱۹۷۔ )
حدیث ترجمہ
فرمایا حضور نبی کریم رؤ ف الرحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کہ اپنے امام برگزیدہ لوگوں کو بناؤ کہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان تمہارے ایلچی(سفیر) ہیں۔ اس کو دارقطنی نے روایت کیا۔
شرح حدیث
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام برگزیدہ ہونا چاہیئے۔اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا عقیدہ صحیح نہیں وہابی( 1)ہویا
مرزائی (2 )شیعہ(3 )ہو یا اَہل قرآن( 4)وہ ہرگز برگُزیدہ نہیں ہوسکتے ۔لہذا ان میں سے کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنا چاہئے ۔
--------------
∞(1).. یہ فرقہ ۱۲۰۹ ھ میں پیدا ہوا۔ اس مذہب کا بانی محمد بن عبد الوھّاب نجدی تھا۔ جس نے تمام عرب خصوصاً حرمین شریفین میں بہت شدید فتنے پھیلائے۔ علماء کو قتل کیا ،صحابہ کرام وآئمہ و علماء و شہداء ث کی قبریں کھود ڈالیں ۔ روضۂ انور کا نام معاذ اﷲ صنم اکبر رکھا تھا یعنی بڑا بُت ۔ اور طرح طرح کے ظلم کئے جیسا کہ بخاری شریف کی صحیح حدیث جلد ۲ ص ۱۰۵۱ میں حضورا نے خبر دی تھی کہ نجد سے فتنے اُٹھیں گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا وہ گروہ بارہ سو سال بعد ظاہر ہوا۔ علامہ شامی αعلیہ الرحمۃنے ردالمحتار ۶ ص ۴۰۰میں اسے خارجی بتایا۔ اس عبدالوھاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’ کتاب التوحید‘‘ رکھا۔ اس کا ترجمہ ہندوستان میں اسماعیل دہلوی نے کیا جس کا نام ’’تقویۃ الایمان‘ ‘ رکھا اور ہندوستان میں وھّابیت اُسی نے پھیلائی ۔ ان کا ایک بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو اِن کے مذہب پر نہ ہو وہ کا فر مشرک ہے (بہارِ شریعت جلد اول حصہ اول ص ۳۳ )(2)..مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار ۔ اس شخص نے اپنی نُبُوّت کا دعوی کیا اور انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بے باکی کے ساتھ گستاخیاں کیں ۔ اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے خاتم النّبیّن ہونے کا انکار کیا (ملخّص ازبہارشریعت ، ۱ / ۵۶)۔(3).. ان کے مذہب کی تفصیل’’ تحفہ اثنا عشریہ ‘‘میں دیکھئے۔ یہ لوگ رافضی بھی کہلاتے ہیں ۔یہ صحابہ کرام ث کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ۔ یہ حضراتِ خلفائے ثلثہ ث کی خلافت راشدہ کو خلافتِ غاصبہ کہتے ہیں ۔(4).. یہ لوگ بھی حدیث کے منکر ہیں ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 36