Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 24

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَالِیْ اَرَاکُمْ رَافِعِیْ اَیْدِیَکُمْ کَأَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شَمْسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلوٰۃِ ۔رَوَاہٗ مُسْلِمٌ (الصحیح لمسلم۱ /۱۸۱ ،ابو داود۱ /۱۴۳۔)

عن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوۃ ۔رواہ مسلم (الصحیح لمسلم۱ /۱۸۱ ،ابو داود۱ /۱۴۳۔)

حدیث ترجمہ

حضرت جابر بن سمرہرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہا انہوں نے نکلے ہم پر رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّماور فرمایا کیا ہے مجھے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتا ہوا دیکھتا ہوں گویا کہ سرکش گھوڑوں کی دم ہیں ۔ نماز میں آرام کیا کرو ۔اس کو مسلم نے روایت کیا۔

شرح حدیث

اس حدیث میں ظاہر ہے کہ حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حضراتِ صحابہرضی اﷲ عنہمکو نماز میں رفع یدین کرتے(دونوں ہاتھوں اٹھاتے) ہوئے دیکھا اور منع فرمایا ۔ جس سے ثابت ہوا کہ رفع یدین سنت نہیں بلکہ منسوخ( 1)ہے ۔ یہ جو بعض کہتے ہیں کہ اس حدیث میں بوقت سلام رفع یدین کرنے کی ممانعت ہے صحیح نہیں ۔ وہ حدیث جس میں بوقت سلام اشارہ کرنے کی ممانعت ہے دوسری ہے ۔ ان دونوں حدیثوںمیں فرق ہے ۔ اس حدیث میں رفع یدین کا ذکر ہے دوسری میں رفع یدین کا ذکر نہیں ۔بلکہاِیْمَاءٌ بِالْیَدَیْنِکا ذکر ہے ۔ کسی روایت میںتؤمونہے کسی میںتشیرون۔ نیز اس حدیث میںاُسْکُنُوْا فِی الصَّلوٰۃِ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رفع یدین نماز میں تھا جس کی ممانعت ہوئی اور سکون کا حکم فرمایا ۔دوسری حدیث میں یہ لفظ ہی نہیں کیونکہ سلام نماز کا مظروف نہیں(۱)۔ تو اشارہ بالیدین بوقت سلام بھی مظروف نماز نہیں۔ اور اس حدیث میں حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ساتھ نمازپڑھنے کا ذکر نہیں اور دوسری حدیث میں حضورعَلَیْہِ السَّلامکے ساتھ نماز پڑھنے کا ذکر ہے ۔ معلوم ہوا کہ یہ دونوں حدیثیں الگ الگ ہیں۔ یہ حدیث رفع یدین کی ممانعت میں ہے۔ دوسری بوقت سلام اشارہ بالیدین کی ممانعت میں۔ان دونوں حدیثوں کو ایک سمجھنا باوجود اس اختلاف کے جو ہم نے ذکر کیا ہے خوش فہمی ہے۔
اعتراض :
عیدین اور وتروں کے لئے کچھ ایسی خصوصیات ہیں جو کہ دو سری نمازوں میں نہیں ۔ مثلاً عیدین کے لئے شہر کا شرط ہونا۔ اور شہر سے باہر نکل کر عید پڑھنا خطبہ نماز عید کے بعد پڑھنا۔ وتر کا طاق ہونا۔ دعا قنوت پڑھنا ۔ تو اسی طرح رفع یدین جو عیدین یا وتروں میں کیا جاتا ہے ۔ وہ بھی ان دونوں نمازوں کی خصوصیات سے ہے ۔
علاوہ اس کے جس نماز کو حضور
صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے دیکھ کر صحابہرضی اﷲعنہمکو رفع یدین سے منع فرمایا وہ نماز عید نہ تھی اگر عید ہوتی تو حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمخود امام ہوتے اور نماز وتر بھی نہ تھی۔ کیونکہ وتروں میں جماعت اور ان کا مسجد میں ادا کرنا آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی اور صحابہ کرامرضی اﷲ عنہمکی عادات مستمرہ (ایسی عادات کہ جو ہمیشہ سے ہو ں)سے نہ تھا۔ بلکہ گھروں میں اکیلے اکیلے پڑھنے کی عادت تھی۔ تو معلوم ہوا کہ وہ بھیرَفْعُ یَدَیْنِ عِنْدَ الرُّکُوْعِ والرَّفْعِ عَنْہُ(رکوع میں جاتے وقت اور اُٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں کا اُٹھانا)تھا جو حضور کے اس فرمان مبارک کے بعد منسوخ ہوا۔
------------------
∞(1).. جب شریعت کوئی نیا حکم دےاور وہ پچھلےحکم کو ختم کردےتو اس نئےحکم کو ناسخ اور پچھلےختم ہونے والے حکم کو منسوخ کہتے ہیں۔لہذا اس حدیث نے رفع یدین والی حدیث کے حکم کو منسوخ کردیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 24