Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ رَضِیَ ﷲُ عَنْہُ قَالَ کُنَّا مَعَ الْنَّبِي صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ ‘ اَبْرِدْ ثُمَّ اَرَادَ اَنْ یُّؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ ‘ اَبْرِدْ ثُمَّ اَرَادَ أنْ یُّؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ ‘ اَبْرِدْ حَتّٰی سَاوَی الْظِّلُّ التَّلُوْلَ فَقَال الْنَّبِيُّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ ۔رَوَاہٗ الْبُخَارِيُّ. (صحیح البخاری ۱/۸۷ باب الاذان‘الصحیح لمسلم باب استحباب الابراد بالظہر ۱/۴۳۰۔ )

عن أبي ذر رضی ﷲ عنہ قال کنا مع النبي صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم فأراد المؤذن أن یؤذن فقال لہ ‘ ابرد ثم اراد ان یؤذن فقال لہ ‘ ابرد ثم اراد أن یؤذن فقال لہ ‘ ابرد حتی ساوی الظل التلول فقال النبي صلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم إن شدۃ الحر من فیح جھنم ۔رواہ البخاري. (صحیح البخاری ۱/۸۷ باب الاذان‘الصحیح لمسلم باب استحباب الابراد بالظہر ۱/۴۳۰۔ )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ذر غفاریرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ہمراہ سفر میں تھے ۔مؤذن نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا ٹھنڈا کرو یعنی وقت ٹھنڈا ہونے د و ۔اس نے پھر تھوڑی دیر کے بعد اذان دینے کاارادہ کیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا ٹھنڈا ہونے د و۔ اس نے پھر تھوڑی دیر کے بعد اذان کا ارادہ کیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا اور ٹھنڈا ہونے دو ۔یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا۔پھر آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ گرمی کی شدت دوزخ کے جوش سے ہوتی ہے۔

شرح حدیث

اس کوامام بخاری نے روایت کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد بھی رہتا ہے ۔ کیونکہ یہ امر مشاہدہ سے معلوم ہے کہ ٹیلوں کا سایہ بہت دیر سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ٹیلے اشیا منبسطہ(پھیلی ہوئی اشیاء) میں سے ہیں۔ یعنی مٹی یا ریت کے اونچے ڈھیر کو ٹیلہ کہتے ہیں ۔ اس کا سایہ جب ایک مثل ہو جیسا کہ حدیث مذکور میں آیا ہے تو اشیا منتصبہ(نصب کی جانے والی اشیاء) لکڑی وغیرہ جو کھڑی کی جائے اس کا سایہ مثل سے زیادہ ہوتا ہے اور حدیثِ مذکور میں صاف تصریح ہے کہ ظہر کی اذان اس وقت ہوئی جب کہ ٹیلوں کا سایہ ان کے برابر ہوگیا۔ تو یہ اذان کھڑی چیزوں کے سایہ کے ایک مثل کے بعد میں ہوئی۔ تو ثابت ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد تک باقی رہتا ہے۔ علاوہ اس کے اذان تو ایک مثل کے بعد ہوئی اور اذان اور نماز میں ایک معتدبہ فصل(عادت کے مطابق وقفہ یا فاصلہ)ہوتا ہے ۔تو نماز کا ایک مثل کے بعد ہونا اور بھی ظاہر ہوگا۔ یہی مذہب ہے حضرت سیدنا اما م اعظم ابو حنیفہرحمۃُ اﷲ علیہکا کہ نمازِ ظہر کا وقت دو مثل تک باقی رہتا ہے ۔
اسی کی تائید میں وہ حدیث ہے جو کہ امام بخاری
علیہ الرحمۃنے عبداﷲبن عمررضی اﷲ عنہماسے روایت کی ہے۔ انہوں نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے سنا فرماتے تھے کہ تمہاری عمر، ان لوگوں کی عمر کے مقابلہ میں جو تم سے پہلے تھے ایسی ہے جیسے کہ عصر کی نماز سے غروب شمس تک۔ اہل تورات کو تورات شریف ملی۔ انہوں نے کام کیا جب آدھا دن ہو گیا تو وہ عاجز آگئے یعنی تھک گئے تو ان کو ایک ایک قیراط (1 ) دیا گیا۔پھر اہل انجیل کو انجیل شریف ملی تو انہوں نے عصر تک کام کیا پھر عاجز ہو کر رہ گئے تو ان کو بھی ایک ایک قیراط ملا پھر ہمیں قرآن دیا گیا تو ہم نے غروب آفتاب تک کام کیا تو ہمیں دو دو قیراط عطا ہوئے اس پر ان دونوں اہل کتاب (یہودو نصاریٰ) نے کہا کہ اے خدا تو نے ان کو دو دو قیراط دیئے اور ہمیں ایک ایک قیراط دیا حالانکہ ہم کام میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ تواﷲ تعالیٰنے فرمایا کہ کیا میں نے تمہاری مزدوری میں سے کچھ نقصان کیا ؟ انہوں نے کہا نہیں۔تو فرمایا کہ یہ میرا فضل ہے جس کو چاہوں دے دو ں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا۔ (2 )
(ف):اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے بعد دو مثل تک باقی رہتا ہے کیونکہ اس میں تصریح ہے کہ یہود و نصاریٰ دونوں کہتے ہیں
اَکْثَرُ عَمَلٍایک دوسری روایت میں ہےوَ اَقَلُّ عَطَاءٍکہ ہمیں کام بہت اور اجرت تھوڑی ۔تو اگر ظہر کا وقت ایک ہی مثل تک ختم ہوجائے اور عصر کا وقت شروع ہوجائے تو عصر کا وقت ظہر کے وقت کے برابر ہوجائے گا بلکہ کچھ زیادہ ہی ہوگا حالانکہ حدیث کے الفاظ یہ چاہتے ہیں کہ عصر کا وقت بہ نسبت ظہر کے وقت کے کم ہو اور یہ اُسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ظہر کا وقت دو مثل تک باقی رہے اور دو مثل کے بعد عصر شروع ہو۔ تاکہ غروب آفتاب تک اس کا وقت ظہر کے وقت سے کم ہو۔ اس کی تائید میں وہ حدیث ہے جو امام مالک نے مؤطا میں عبداﷲبن رافعرضی اﷲ عنہسے روایت کی ہے کہ انہوں نے حضرت سیدناابوہریرہرضی اﷲ عنہسے نماز کے اوقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا :صَلِّ الظُّھْرَ إِذَا کَانَ ظِلُّکَ مِثْلَکَ وَالْعَصْرَ إِذَا کَانَ ظِلُّکَ مِثْلَیْکَیعنی ظہر کو اس وقت ادا کر جبکہ تیرا سایہ تیری مثل ہوجائے اور عصر اس وقت پڑ ھ جبکہ تیرا سا یہ دو مثل ہو جائے (3 )تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے کیونکہ ابوہریرہرضی اﷲ عنہسے یہ بہت بعید ہے کہ وہ نماز کا وقت گزرجانے کے بعدنماز پڑھنے کا حکم کریں ۔تو جب وہ ظہر کی نماز کو اس وقت پڑھنے کا حکم دیتے ہیں جب سایہ ایک مثل ہوجائے تو معلوم ہوا کہ مثل کے بعد تک ظہر کا وقت باقی رہتا ہے۔ ایسے ہی نمازِ
عصر کو دو مثل کے بعد پڑھنے کا حکم دیتے ہیں یہی مذہب سیدناامام اعظم
رضی اﷲ عنہکا ہے۔وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
حضرت جبریلِ امین
علیہِ السّلامکی امامت والی حدیث ( 4) میں تصریح ہے کہ جبریل نے پہلے دن عصر اس وقت پڑھی جبکہ سایہ ہرشے کا اس کی مثل تھا۔پھر دوسرے دن ظہر اس وقت پڑھی جس وقت پہلے دن عصر پڑھی تھی۔چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں ۔صَلّٰی الْمَرَّۃَ الثَّانِیَۃَ الظُّھْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مَثْلَہلِوَقْتِ الْعَصْرِِ بِالْأَمْسِ۔اس کو ترمذی و ابوداؤد نے روایت کیا۔ اس حدیث سے بھی ثابت ہواکہ ایک مثل کے بعد ظہر کا وقت باقی رہتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس حدیث سے نماز عصر کا ایک مثل کے وقت پڑھنا ثابت ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث جبریلعلیہِ السّلامدربارہ وقت عصر منسوخ ہے کیونکہ حدیث ابوذر جس کو ہم اوپر لکھ آئے ہیں متاخر ہے اورحدیث جبریل یقینا مقدم ہے ۔ان دونوں کی تطبیق ممکن نہیں ۔تو لامحالہ حدیث مقدم منسوخ سمجھی جائے گی۔کَمَا قَالَ ابْنُ الْھُمَامِ فِيْ فَتْحِ الْقَدِیْرِنیز حدیث بریدہرضی اﷲ عنہ( 5) جس میں ایک سائل نے حضور پر نور، شافع یوم النشورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے اوقاتِ نماز کا سوال کیا اس کی تائید کرتی ہے ۔اس میں آیا ہےفَلَمَّا اَنْ کَانَ الْیَوْمُ الثَّانيْ أَمَرَہأَبْرِدْ بِالظُّھْرِ فَأَبْرَدَ بِھَا فَاَنْعَمَ أَنْ یُبْرِدَ بِھَاجب دوسرا دن ہوا تو حضورعلیہِ السّلامنے فرمایا کہ ظہر کو سرد کرو تو اس نے سرد کیا اور سرد کرنے میں مبالغہ کیا اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ بعد مثل کے ادا ہو ۔اور یہ کہنا کہ بعد مثل ظہر اورعصر کا وقت مشترک ہے اجماع کے خلاف ہے ۔ بعض علماء نے امام مالکعلیہ الرحمۃسے نقل کیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ ان کا قول بھی یہی ہے کہ ظہر کا اخیر وقت ایک مثل تک ہے۔کَذَا فِیْ رَحْمَۃُ الْاُمَّۃِ للِشَّعْرَانِیْ۔اس تحقیق سے کما حقہ ثابت ہوگیا کہ امام اعظمعلیہ الرحمۃکا مذہب کہ ظہر کا وقت دو مثل تک ہے نہایت صحیح اور احادیث صحیحہ کے موافق ہے ۔فقہاءعلیہم الرحمۃنے اسی کو اختیار کیا ۔بدائع میں اس کو صحیح لکھا ہے ۔محیط اور ینابیع میںوَ ھُوَ الصَّحِیْحُلکھا ہے ۔------------------------------
( 1)..درہم کے بارہویں حصے کے برابر ایک وزن ‘اور حدیث میں قیراط کے متعلق یوں بھی آیا ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ص سے روایت ہے کہ رسولِ کریم α صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم
نے فرمایا جو شخص حالتِ ایمان میں اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ گیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی اور دفن سے فراغت تک اس کے ساتھ رہا اس کو دو قیراط اجر ملے گا اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، اور جو شخص نماز جنازہ پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ آیا اس کو ایک قیراط اجرملے گا۔ الصحیح لبخا ری۱/۱۲
( 2)..صحیح البخاری ۲/۷۹۲۔
( 3)..المؤطا لامام مالک ۱/۸۔
( 4)..جامع الترمذی۱/۲۷۹، السنن لابی داؤد،۱۰۷/ ۱۔
( 5)..الصحیح لمسلم ۱/۴۲۸۔

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 4