Main Icon

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ - حدیث نمبر: 13

حدیث مبارکہ

عَنْ طَلَقِ بْنِ عَلِيٍ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَکَرَہٗ بَعْدَ مَا یَتَوَضَّاُ قَالَ وَھَلْ ھُوْ إِلَّا بِضْعَۃٌ مِّنْہُ ۔ رَوَاہٗ اَبُو دَاؤُد وَ التِّرْمِذِیْ وَالنِّسَائِیْ. (السنن لِابو داؤد ۔ باب الوضؤ من مس الذکر ۱؍۹۴ جامع الترمذی ۱؍۱۴۲، النسائی ۱؍۱۰۱۔ )

عن طلق بن علي قال سئل رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ والہ وسلم عن مس الرجل ذکرہ بعد ما یتوضا قال وھل ھو إلا بضعۃ منہ ۔ رواہ ابو داود و الترمذی والنسائی. (السنن لابو داؤد ۔ باب الوضؤ من مس الذکر ۱؍۹۴ جامع الترمذی ۱؍۱۴۲، النسائی ۱؍۱۰۱۔ )

حدیث ترجمہ

طلق بن علی کہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے پوچھا گیا کہ کوئی شخص وضو کرکے اپنے ذَکر کو مس کرے(آگے کی شرم گاہ کو چھوئے) (تو کیا حکم ہے ؟ ) تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ نہیں وہ مگر ایک ٹکڑا اس سے ۔

شرح حدیث

یعنی ذَکر بھی اس کے بدن کا ایک ٹکڑا ہے تو جس طرح بقیہ اعضاء کو مس کرنے سے وضو نہیں ٹوٹتا اسی طرح اس کے مس سے بھی وضو فاسد نہیں ہوتا۔ترمذی نے اس حدیث کواَحْسَنُ شَیْئٍ رُوِیَ فِی ھٰذَا الْبَابِ( 1) فرمایا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا۔ ابن المدینی نے فرمایا کہ یہ حدیث بسرہ کی حدیث سے احسن ہے ( بلوغ المرام ) ۔ میں کہتا ہوں حدیث بسرہ میں جو امر ہے وہ امر و جوب کیلئے نہیں بلکہ استحباب کے لئے ہے ۔ پس اگر کوئی شخص وضو کرکے اپنے ذکر کو ہاتھ لگا دے تو اس سے وضو فاسد نہیں ہوتا۔ لیکن اختلاف سے بچنے کیلئے بہتر ہے کہ پھر وضو کرلے ۔-----------------------------------
∞( 1)..یعنی امام ترمذی نے کہا کہ یہ اس باب کی ایک بہترین حدیث ہے.

ماخذ و مراجع

کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 13