- ہوم
- کتابیں
- اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
- حدیث نمبر 8
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ سَعِیْدٍ قَالَ صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صَلوٰۃَ الْعَتَمَۃِ فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّیٰ مَضٰی نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ فَقَالَ خُذُوْا مَقَاعِدَکُمْ فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوْا وَاَخَذُوْا مَضَاجِعَھُمْ وَإِنَّکُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلوٰۃٍ مَا انْتَظَرْتُمْ لِصَّلوٰۃِ وَلَوْ لَا ضُعْفُ الضَّعِیْفِ وَسُقْمُ السَّقِیْمِ لَأَخَّرْنَا ھِذِہٖ الصَّلوٰۃَ إِلیٰ شَطْرِ اللَّیْلِ ۔ رَوَاہٗ اَبُو دَاؤُدَ وَ النِّسَائِيُّ وَ ابْنُ مَاجَہْ ۔(السنن ابو داؤد ۱؍۱۱۶ ، النسائی ۱؍۲۲۸،سنن ابن ماجہ ۱؍۳۸۱۔ )
عن ابي سعید قال صلینا مع رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صلوۃ العتمۃ فلم یخرج حتی مضی نحو من شطر اللیل فقال خذوا مقاعدکم فأخذنا مقاعدنا فقال إن الناس قد صلوا واخذوا مضاجعھم وإنکم لم تزالوا في صلوۃ ما انتظرتم لصلوۃ ولو لا ضعف الضعیف وسقم السقیم لأخرنا ھذہ الصلوۃ إلی شطر اللیل ۔ رواہ ابو داود و النسائي و ابن ماجہ ۔(السنن ابو داؤد ۱؍۱۱۶ ، النسائی ۱؍۲۲۸،سنن ابن ماجہ ۱؍۳۸۱۔ )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو سعید خدریرضی اﷲ عنہسے روایت ہے ۔ کہا انہوں نے کہ ہم نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ساتھ نماز پڑھی عشاء کی یعنی کئی راتوں میں اور ایک رات آپ نہ نکلے یہاں تک کہ قریب آدھی رات کے گزر گئی۔ یا یہ کہ ہم نے عشاء پڑھنے کا ارادہ کیا یا یہ کہ ہم نے عشاء پڑھی جس کی تفصیل یہ کہ آپ نہ نکلے یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ پھر آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمتشر یف لائے اور فرمایا کہ اپنی جگہ بیٹھے رہو۔ ہم اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہے تو آپ نے فرمایا کہ اور لوگ نماز پڑھ چکے اور اپنی خوابگاہوں میں لیٹ چکے اور تم جب سے نماز کے انتظار میں ہو نماز میں ہی ہو۔اگرمجھے ضعفِ ضعیف (بوڑھوں کی ناتوانی)اور مرضِ مریض کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف شب تک مؤخر کر دیتا۔اس حدیث کو ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ۔
شرح حدیث
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز میں تاخیر مستحب ہے ۔ امام اعظمرحمہ اﷲکا یہی مذہب ہے ۔ اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ آدھی رات ہوجانے کے بعد نماز پڑھی جاتی تھی۔کیونکہ آدھی رات کے بعد (آخری تہائی حصہ میں )نماز مکروہ (تنزیہی)ہے ۔بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ ایسے وقت میں نماز پڑھی جائے کہ آدھی رات تک ختم ہوجائے ۔اسی کی تائید میں وہ حدیث ہے جو حضرت سیدنا ابوہریرہرضی اللہُ عنہنے روایت کی ۔فرمایا رسول کریمصلّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گاتو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز کو رات کی تہائی یا نصف تک تاخیر کریں ۔ اس کو ترمذی نے روایت کیا ۔(1 )
صحیح مسلم میں جابر بن سمرہرضی اللہُ عنہسے روایت ہے کہ رسول کریمصلّی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلّمنماز ِعشاء میں تاخیر فرمایا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلامکی عادتِ مبارکہ نمازِ عشاء میں غالب اوقات میں تاخیر تھی۔(2 )وبھذا قال إمامنا الاعظم والجمھور۔(3 )-----------------------------
(1 )..جامع الترمذی ابواب الصّلوۃ ۱/۲۱۴ ۔
(2 )..الصحیح لمسلم۔کتاب المساجد ۱/۲۲۹۔
(3 )..اور اسی طرح ہمارے امام اعظم ص اور جمہور علماء نے فرمایا ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: اربَعیْنِ حَنفِیَّہ جلد: 1 , حدیث نمبر: 8